BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 31 October, 2005, 13:55 GMT 18:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوج نے تاخیر کی: اے آر ڈی

مخدوم امین فہیم، راجہ ظفرالحق اور ظفر جھگڑا
مخدوم امین فہیم، راجہ ظفرالحق اور ظفر جھگڑا
پاکستان کی حزب مخالف کی جماعتوں کے اتحاد اے آر ڈی یعنی اتحاد برائے بحالی جمہوریت نے دعوی کیا ہے کہ ملک میں آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں فوج دیر سے پہنچی جس کے باعث ہزاروں افراد جو بچ سکتے تھے وہ مر گئے۔

اتحاد نے اس سلسلے میں ایک انکوائری کمیشن بنانے کا مطالبہ بھی کیا جس سے اس بات کی تحقیقات کرائی جائے گی کہ فوج متاثرہ علاقوں میں دیر سے کیوں پہنچی۔

اسلام آباد میں اے آر ڈی کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے اتحاد کے سربراہ مخدوم امین فہیم نے کہا کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امداد پہنچنے میں سستی کیوں ہوئی اس بات کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

اس سستی کی ذمہ دار پہلے حکومت ہے اور خصوصاً پاکستانی فوج جس کو قوم اپنا خون دیتی ہے اور جس پر عوام کو اعتماد ہوتا ہے کہ وہ مشکل وقت میں ان کی مدد کریں گی۔ سوال یہ ہے فوج کو دیر سے جانے کا آرڈر کیوں ملا؟ کیا وجہ ہے کہ اتنی فعال اور قابل فوج کو وقت پر پہنچنے میں دیر ہوئی؟حالانکہ جو کام اب کیا جا رہا ہے وہ شروع میں بھی ہو سکتا تھا لیکن اس میں دیر کی گئی۔

اے آر ڈی نے اس اجلاس میں ایک قرار داد مذمت بھی منظور کی جس میں کہا گیا ہے کہ اس زلزلے کے بعد پارلیمنٹ اور کابینہ کو نظر انداز کرتے ہوئے فوج کے جرنیلوں کو ریلیف کا انچارج مقرر کیا گیا ہے۔

اتحاد نے الزام لگایا کہ فوجی حکمرانوں نے امدادی کارروائیوں میں سول حکومت کو بھی اعتماد میں نہیں لیا جس کے بعد وزیر اعظم کو مجبورا یہ بیان دینا پڑا کہ سول انتظامیہ کو بھی امدادی کارروائیوں میں شامل کیا جائے۔

اتحاد کے جنرل سکریٹری ظفر اقبال جھگڑا نے اس موقع پر کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل ایک انکوائری کمیشن قائم کرنا چاہیے جو اس بات کی تحقیقات کرے کہ فوج کی ہائی کمان کی ناکامی کی وجہ کیا رہی۔

اتحاد نے اس بات کا بھی مطالبہ کیا کہ حکومت کو اس مصیبت کی گھڑی میں جلا وطن سیاسی رہنماؤں اور سابق وزرا اعظم بینظیر بھٹو اور نواز شریف کو ملک میں واپس آنے کی اجازت دینی چاہیے اور تمام اسیر سیاسی رہنماؤں کو فورا رہا کر دینا چاہیے۔

اسی بارے میں
مصنوعی اعضاء کم اور مہنگے
28 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد