BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 30 November, 2005, 07:17 GMT 12:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مانسہرہ: امدادی چیکوں پر جھگڑے

مانسہرہ
ان دیہات کی دو ہزار آبادی میں صرف پچیس امدادی چیک تقسیم کیے گئے ہیں۔
مانسہرہ کے دیہات میں حکومت فی خاندان کے بجائے فی مکان کے حساب سے امدادی چیک تقسیم کررہی ہے اور اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ مکان پوری طور پر زمین بوس ہوا ہو اور صرف اس کی پھٹی ہوئی دیواریں اور چھتوں کی دراڑیں کافی نہیں۔

شاہراہ ریشم پر مانسہرہ سے ساٹھ کلومیٹر شمال میں پٹیاں گاؤں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ شدید سردی اور تیز ٹھنڈی ہوا کے اس موسم میں ان کے پاس نہ تو جستی چادریں ہیں جس سے وہ جھونپڑا بناسکیں اور نہ ان کو حکومت امداد دے رہی ہے کیونکہ ان کے مکانوں میں صرف دراڑیں آئی ہیں وہ پورے طور پر منہدم نہیں ہوئے۔

وادی کونش میں پٹیاں، درل، نلہ اور دھنہ کے نام سے چار دیہات ہیں جو ساڑھے چار ہزار فٹ کی بلندی پر ہیں اور زلزلہ سے یہاں مکانات یا تو مکمل گر گئے یا جزوی طور پر انہیں نقصان پہنچا۔ ان دیہات کی دو ہزار آبادی میں صرف پچیس امدادی چیک تقسیم کیے گئے ہیں۔

چیک دینے والے پٹواری محمد سلیم کا کہنا ہے کہ وہ میرٹ پر امداد دے رہے ہیں اور جہاں جزوی نقصان ہوا ہے وہ چیک نہیں دیں گے بلکہ جس کا خاندان کا پورا گھر ٹوٹ گیا ہے اس کو دیں گے۔

دوسری طرف لوگوں کی اکثریت ایسی ہے جن کا جزوی نقصان ہوا ہے لیکن وہ بھی گھر کے باہر ہیں۔ جن مکانوں کی دیواروں یا چھتوں میں دراڑیں پڑی ہیں وہ تو کسی وقت بھی گر سکتے ہیں اور رہائش کے قابل نہیں۔

وادی کونش کے امداد اللہ کا کہنا ہے کہ روزانہ زلزلہ کے جھٹکے آرہے ہیں اس کی وجہ سے لوگوں کے دل میں ڈر ہے۔ جن کے مکان سالم ہیں وہ بھی ڈر سے ابھی تک خیموں میں رہ رہے ہیں۔

دراصل پچیس ہزار کے امدادی چیکوں کا کام شروع ہونے سے نئے جھگڑے جنم لے چکے ہیں۔

بارج ترلی کے محمد خاں کا کہنا ہے کہ ان کا گاؤں تین سو گھرانوں پر مشتمل ہے جن کے مکانات مکمل طور پر زمین بوس تونہیں ہوئے لیکن ناقابل رہائش اور ناقابل مرمت ہیں لیکن صرف پانچ گھرانوں کو چیک دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس سارے عمل میں مقامی یونین کونسل ناظمین کی سیاست نے امداد کے کام کو اور بھی پیچیدہ بنادیا ہے۔ متعدد بستیوں میں لوگ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ جہاں ناظم کے ووٹرز ہیں وہاں جزوی نقصان والے مکانوں کے خاندانوں کو بھی امداد دی گئی ہے اور جس گاؤں سے ناظم کے مخالف امیدوار کو ووٹ ملے تھے وہاں صرف مکمل تباہ شدہ مکانوں کو امداد دی جارہی ہے۔

مانسہرہ کے دیہات میں لوگ مشترکہ خاندانی نظام کے تحت رہتے ہیں۔ چھترا پائیں گاؤں کے شبیر حسین کا کہنا ہے کہ یہاں ایک ایک مکان میں چار چار شادی شدہ خاندان رہتے ہیں لیکن امداد فی خاندان کے بجائے فی مکان کے حساب سے دی جارہی ہے۔

وادی کونش کےمقامی کونسلر محمد سجاد کا کہنا ہے کہ ایک مکان میں اگر چار شادی شدہ بھائیوں کے خاندان رہ رہے ہیں تو ان سب کو الگ الگ فی خاندان کے حساب سے امدادی رقم ملنی چاہیے تاکہ سب لوگ اپنی تباہ شدہ زندگی کو کچھ بحال کرسکیں۔

چنار کوٹ میں ایک رضاکار ملک احمد بخش نے کہا کہ اس علاقہ میں زمین کی ملکیت خانوں اور سیدوں کے پاس ہے جنہوں نے کاشتکاروں کو اس بات کی اجازت دے دی کہ وہ ان کی زمین کاشت کریں اور اسی جگہ پر اپنے مکان بنا کر رہ لیں۔

احمد بخش کا کہنا ہے کہ زلزلہ کے بعد یہ مسئلہ پیدا ہوگیا ہے کہ مالک زمین یا ملاک مکان بھی امدادی رقم لینا چاہتا ہے اور اس جگہ مکان بنا کر رہنے والا یا کرائے دار بھی امدادی رقم کا طلب گار ہے۔ اصل میں نقصان دونوں کا ہوا ہے ایک کا مکان گر گیا اور دوسرے کا سامان تباہ ہوگیا۔

احمد بخش کا کہنا ہے کہ جہاں جس کا بس چل رہا ہے وہ پٹواری اور ناظم سے مل کر امدادی رقم لے رہا ہے کہیں مالک زمین اور کہیں مکان میں رہنے والا جس سے جھگڑے جنم لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس بارے میں کوئی واضح پالیسی بنانا چاہیے جس سے دونوں فریقوں کے نقصان کی تلافی ہوسکے۔

اسی بارے میں
خیموں میں سردی کا عذاب
30 November, 2005 | پاکستان
برفباری میں کھاد کی تقسیم
29 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد