’سردی سے مقابلے کی ریس‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائگریشن (آئی او ایم) کے میٹ جارج اس وقت وادی نیلم میں متاثرین تک امداد پہنچانے کے کام میں مصروف ہیں۔ یہ رپورٹ انہوں نے ہمیں وہاں سے بھیجی ہے۔ تیز برف باری شروع ہونے میں اب زیادہ وقت نہیں رہا۔ ایک بار برف شروع ہو گئی تو پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے اونچے اونچے پہاڑوں پر رہنے والے متاثرین پوری طرح کٹ جائیں گے۔ آئی او ایم نے ان افراد تک سردیوں کے لیے خصوصی خیمے پہنچانے کی غرض سے ’آپریشن ونٹر ریس‘ کا آغاز کر دیا ہے۔ اس آپریشن کے تحت تقریباً ستر ہزار افراد کو سر چھپانے کی جگہ فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ وہ سردیوں کا مقابلہ کر سکیں۔
میں چوگالی میں ایک پہاڑ پر لگے کیمپ میں اکیلا بیٹھا ہوں۔ نیچے وادی نیلم کا حسن ہے اور میں سمندر کی سطح سے دو ہزار چار سو میٹر کی اونچائی پر ہوں۔ اس پہاڑ پر وہ پانچ پناہ گاہیں ہیں جو آج گاؤں والوں نے ہماری مدد سے بنائیں۔ ان شیلٹرز کی دیواروں پر ہم نے آرمی کی کمبلیں لگا دیں ہیں تاکہ سردی سے بچا جا سکے۔ یہاں سردی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ خواتین اور بچے ان شیلٹرز میں جا رہے ہیں جبکہ زیادہ تر مرد اس آگ کے آس پاس جمع ہیں جو میرے سامنے جل رہی ہے۔ سب بہت تھکے ہوئے ہیں مگر ان کے چہروں پر ایک عجیب سی خوشی ہے۔ آج یہ لوگ خود اپنے لیے کچھ کر سکے۔ ہم صبح سویرے یہاں پہنچے۔ ہماری ٹیم میں پانچ افراد ہیں جن میں آئی او ایم اور اسلامی ریلیف فنڈ کے اراکین کے علاوہ ایک رضاکار ماشل ہے۔ ہم نے کچھ دن پہلے ایک خچر کے ذریعے اوپر گاؤں پیغام بھجوایا تھا، جس کے بعد گاؤں والوں نے ہیلی کاپٹر کے اترنے کے لیے کافی جگہ خالی کر دی تھی۔ جیسے ہی ہم یہاں پہنچے، اُن متاثرین کے لیے شیلٹرز بنانے میں لگ گئے جنہیں سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ یہ زیادہ تر وہ عورتیں ہیں جن کے مرد زلزلے کی نظر ہو گئے۔ بہت جلدگاؤں والے ہمارے ارد گرد جمع ہو گئے اور ہاتھ بٹانے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سارا گاؤں کام میں لگ گیا تھا۔ مرد ہمارے ساتھ کام کر رہے تھے اور عورتوں نے کھانا بنانا شروع کر دیا۔ بچے بھی پیچھے نہیں رہے۔ کچھ دیر بعد ان ہواؤں میں ہنسی کی بھی آواز سنائی دینے لگی۔
ہمارے مترجم جو کہ ایک سکول ٹیچر ہیں مقامی خواتین سے باتیں کر رہے تھے۔ انہیں پتہ چلا کہ تقریباً تین سو میٹر نیچے ایک عورت زخمی پڑی ہے۔ ان کے مطابق اس کی ٹانگ زخمی ہے اور اسے زلزلے کے بعد کوئی مدد نہیں ملی ہے۔ لگ بھگ پینتالیس منٹ بعد ہم اس عورت تک پہنچے۔ اس کی ٹانگ بہت بری طرح زخمی تھی۔ مجھ سے جو کچھ ہو سکا میں نے کیا، اس کی چارپائی کے پائے کاٹے اور اسے واپس اوپر لے کر آئے۔ کل ہم اسے مظفرآباد لے جائیں گے۔
ہیلی کاپٹر آیا اور ہم اس زخمی عورت کے ہمراہ اس پر چل پڑے۔ جیسے ہی ہیلی کاپٹر نے پرواز شروع کی اس خاتون نے میرا ہاتھ تھام لیا۔ میں نے اس کے شوہر کی طرف دیکھا۔ ان علاقوں میں ایک عورت کے لیے اس طرح غیر مرد کا ہاتھ تھامنا آسان نہیں۔ اس کے شوہر نے سر ہلاکر اپنی رضامندی کا اظہار کیا۔ جب بھی ہیلی کاپٹر جھٹکے کھاتا اس کی مضبوط گرفت اور مضبوط ہو جاتی۔ تب میرے ذہن میں آیا کہ یہ پہاڑی لوگ ہیں۔ انہی پہاڑوں کی طرح مضبوط۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||