BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 December, 2005, 03:48 GMT 08:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امداد کے لیے، سب سے بڑی اپیل
اوسطاً اقوامِ متحدہ کو جتنی رقم کی ضرورت ہوتی ہے اس سے تین چوتھائی کم ملتی ہے
اقوامِ متحدہ نے امدادی کاموں کے لیے عالمی برادری سے چار اعشاریہ سات ارب ڈالر کی اپیل کی ہے جو اب تک اس ادارے کی طرف سے سب سے بڑی اپیل ہے۔

سن دو ہزار چھ کے لیے اقوامِ متحدہ کی امدادی کاموں کی سالانہ اپیل کے موقع پر ادارے کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ’دنیا کے پاس بہت کچھ ہے لیکن انسانیت جس مسلسل اذیت اور ابتلاء سے دوچار ہے وہ ہمارے ضمیروں پر ایک دھبہ ہے۔‘

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ رقم ان علاقوں میں امدادی کاموں کے لیے درکار ہے جو جنگ اور قحط اور قدرتی آفات اور حادثات کی تباہ کاریوں سے متاثر ہوئے ہیں۔

عالمی ادارے کے ہنگامی امدادی کاموں کے کوآرڈینیٹر کا کہنا ہے کہ ادارہ جس رقم کا تقاضا کر رہا ہے وہ دنیا بھر میں فوجی اخراجات کا صرف اڑتالیس گھنٹے کا بجٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کو اقوامِ متحدہ کے لیے اپنی امداد میں اضافہ کرنا چاہیے۔

کوفی عنان کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کے پاس اتنا کچھ ہے کہ وہ مدد کر سکے لیکن اب اسے اس کام کا ارادہ کرنا ہوگا۔اس وقت اقوامِ متحدہ کی امدادی رقوم کا نوے فیصد صرف دس ممالک دے رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے کے ایمرجنسی کوآرڈینیٹر جان ایگلینڈ

عالمی ادارہ چاہتا ہے کہ تین کروڑ افراد کو مدد فراہم کی جائے۔ یہ امداد جس کی اپیل کی گئی ہے جنوبی ایشیاء میں اکتوبر کے زلزلے کے متاثرین کو بھی دی جائے گی اور گزشتہ برس سونامی کا شکار بننے والوں کو بھی۔

اقومِ متحدہ کی فہرست پر جو ممالک ہیں ان میں سے اکثر برِ اعظم افریقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ خاص طور پر ادارہ چاہتا ہے کہ سوڈان کو ایک اعشاریہ پانچ بلین ڈالر دیئے جائیں۔

اس کے علاوہ مغربی افریقہ کے خطوں، لائیبریا اور آئوری کوسٹ کے لیے بھی ہنگامی بنیادوں پر امداد کی اپیلیں کی گئی ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے جن دوسرے ملکوں یا علاقوں کے لیے امداد کی اپیل کی ہے ان میں چیچنیا، فلسطینی علاقے اور گوئٹا مالا کے سیلاب کے متاثرین بھی شامل ہیں۔

اقوامِ متحدہ میں بی بی سی کی نامہ نگار سوزانہ پرائس اپنے مراسلے میں لکھتی ہیں کہ عام طور سے ادارہ جتنی مدد کی اپیل کرتا ہے اس کی نسبت اسے تین چوتھائی رقم کم ملتی ہے۔ علاوہ ازیں جن ممالک نے امداد کا وعدہ کیا ہوتا ہے وہ آخری وقت تک امداد فراہم کرنے میں تاخیر کرتے ہیں جس سے مختلف منصوبوں کی لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

اسی بارے میں
’امید ہے مایوسی نہیں ہوگی‘
18 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد