جستی چادریں اور کوئٹہ کی انگیٹھی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جیسے زلزلہ کے فورا بعد خیموں کا شور مچا تھا اسی طرح اب ہر طرف جستی چادروں اور کوئٹہ کی انگیٹھی کی پکار ہے۔ مانسہرہ سے پچاس کلومیٹر دور زلزلہ سے تباہ شدہ قصبہ بٹل میں ایک رضاکار طارق سعید کا کہنا ہے کہ قریبی گاؤں ہل کوٹ میں پانچ روز پہلے ایک چھوٹا بچہ برفباری میں سردی کی وجہ سے مر گیا۔ طارق سعید کا کہنا ہے کہ ’خیمے تو تقریبا سب لوگوں کو مل گئے ہیں لیکن ان میں سردی نہیں گزرے گی۔ خاص طور سے بچے خیموں میں زندہ نہیں رہ سکتے‘۔ تمام متاثرہ علاقوں کی طرح بٹل کے لوگوں کا بھی یہی کہنا ہے کہ انہیں سردی والے خیموں یا جستی چادروں کی ضرورت ہے جس سے وہ عارضی جھونپڑی یا کیبن بنا کرسردی کے چار مہینے گزار سکیں۔ بٹل کے قریبی علاقہ نوگرام کے ظفراقبال کہتے ہیں کہ ان کے بچے سردی سے رات بھر نہیں سوتے اور روتے رہتے ہیں۔ ان کے چار بچے ہیں جو کھانسی اور ریشہ کا شکار ہوچکے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ خیموں کے کپڑے سے سردی اور سرد ہوا اندر آتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چند روز پہلے دو گھنٹے برفباری ہوئی تو خیمے بیٹھ گئے۔
ہزارہ کے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں ہر جگہ لوگ جستی چادریں مانگ رہے ہیں لیکن دس فیصد لوگوں کے پاس بھی یہ چادریں نہیں پہنچیں۔ بٹل کی دس ہزار آبادی ہے جہاں کراچی سٹیزن فاؤنڈیشن نامی تنظیم نے ابھی تک صرف پندرہ خاندانوں کو جستی چادریں مہیا کی ہیں لیکن وہ ہر خاندان کو یہ چادریں دینے کا عزم کیے ہوئے ہے جبکہ قطر ریڈ کریسنٹ نے سویڈن کے بنے ہوئے سردی والے ڈھائی ہزار خیمے لوگوں میں تقسیم کیے ہیں۔
ایدھی فاؤنڈیشن مانسہرہ کا کہنا ہے کہ جستی چادروں اور فائبر گلاس کے کیبن بن رہے ہیں اور دو تین ہفتوں تک وہ یہ عارضی گھر متاثرین تک پہنچانا شروع کردے گی۔ مانسہرہ کے دیہات میں لوگوں کا کہنا ہے کہ روایتی طور پر ان علاقوں کے لوگ اپنے کچے پکے گھروں میں آگ جلا کر سردی کے دن گزارا کرتے تھے لیکن خیموں میں آگ جلائی نہیں جاسکتی اور کپڑوں کی دیواروں سے ہوا اندر آتی ہے۔ جستی چادروں اور لکڑی کے ڈھانچہ سے بنے جھونپڑے میں آگ جلائی جاسکتی ہے۔ ہزارہ کے دیہات میں روایتی ایک کمرے کے مکانوں میں لکڑی سے آگ جلائی جاتی تھی جس کا دھواں باہر نکالنے کا انتظام مکان میں موجود تھا۔ ان عارضی گھروں میں خاص انتظام کرنا پڑے گا جس کے لیے لوگوں کو کوئٹہ کی انگیٹھی درکار ہے۔
زلزلہ زدہ علاقوں میں کوئٹہ کی انگیٹھی ایک دم اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ یہ جستی چادر سے بنا ایک ایسا ڈرم نما چولھا ہوتا ہے جس میں نیچے کے خانے میں لکڑی جلائی جاتی ہے اور اس کے اوپر جالی ہوتی ہے جس پر کھانا بھی پکایا جاسکتا ہے اور اس سے کمرہ گرم بھی ہوتاہے۔ کوئٹہ کی انگیٹھی چولھے اور ہیٹر کا امتزاج ہے۔ اس میں ایک پائپ لگا ہوتا ہے جسے جھونپڑے سے باہر نکال کر دھویں کو باہر نکالنے کا انتظام موجود ہوتا ہے۔ چونکہ یہ چاروں طرف سے بند ہوتی ہے اس لیے اس میں ایندھن فورا نہیں جلتا بلکہ آہستہ آہستہ سلگتا ہے اور چند لکڑیوں سے دیر تک کمرہ گرم رہ سکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ جس طرح زلزلہ کے فورا بعد پنجاب اور کراچی کے لوگوں نے جوش و خروش سے امدادی اشیا زلزلہ متاثرین کو پہنچائیں کیا وہ سردی کی وجہ سے آنے والی آفت کا مقابلہ کرنے کے لیے ان متاثرین کو جستی چادریں اور انگیٹھیاں بھی پہنچائیں گے۔ | اسی بارے میں مانسہرہ میں روزانہ دو اموات02 December, 2005 | پاکستان امداد کے لیے، سب سے بڑی اپیل01 December, 2005 | پاکستان کشمیریوں کو کلچے مل گئے30 November, 2005 | پاکستان خیموں میں سردی کا عذاب30 November, 2005 | پاکستان مانسہرہ: امدادی چیکوں پر جھگڑے30 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||