کشمیریوں کو کلچے مل گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کلچہ مظفرآباد کی خاص سوغات سمجھی جاتی تھی۔ میدے سے بننے والی ان خستہ ٹکیوں کو لوگ ناشتے سے لیکر رات گئے تک بہانوں بہانوں سے کھاتے رہے ہیں۔ کلچے ناشتے میں دودھ میں ڈبو کراور بالائی لگاکر بھی کھائے جاتے ہیں۔ شام کی چائے کے ساتھ بھی نوش جاں ہوتے ہیں، مہمانوں کے سامنے رکھے جاتے ہیں، بیرون شہر اور باہر کے ممالک میں مقیم کشمیریوں کو بطور سوغات بھی بھیجے بھی جاتے ہیں۔ غرض مظفرآباد کے شہریوں اور کلچوں کا ساتھ ہردم اور ہر لمحے کا رہا ہے۔ لیکن آٹھ اکتوبر کے تباہ کن زلزلے نے جہاں پورے مظفرآباد کا نقشہ بدل دیا، وہاں یہ کیسے ممکن تھا کہ کلچے اور ان کے بنانے اور کھانے والے محفوظ رہ جاتے۔ مظفرآباد میں کلچہ گلی اس کی تیاری اور فروخت کا سب سے بڑا مرکز تھی۔ یہاں بیس بائیس دکانیں تھیں جن میں سے ایک آدھ کے سوا سب ہی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ بعض مکمل طور پر اور کچھ جزوی طور پر زلزلے کا نشانہ بنیں اور کئی کلچہ بنانے اور فروخت کرنے والے خود یا ان کے اہل خانہ زلزلے کی نذر ہوگئے۔ زلزلے کے بعد کلچہ گلی کی بیس بائیس میں سے اب تک صرف دو یا تین دکانیں ہی دوبارہ کھل پائی ہیں۔کلچہ بنانے والی ایک دکان پر کام کرنے والے ایک لڑکے کے مطابق آٹھ اکتوبر کے بعد گاہکوں کی تعداد ایک تہائی سے بھی کم رہ گئی ہے۔ تاہم اس کے مطابق دو تین دکانیں کھلنے کا لوگوں نے بڑا خیرمقدم کیا۔ انہی میں سے ایک دکان فاروق میر اور ان کے بھائی مشتاق میر اور ان کے بیٹے خرم مشتاق کی ہے۔ ان لوگوں کے مطابق زلزلے کے بعد وہ تو بالکل مایوس ہوگئے تھے لیکن پھر جب آہستہ آہستہ زندگی کے معمولات بحال ہونا شروع ہوئے تو انہوں نے بھی اپنی دکان کھولنے کا فیصلہ کیا اور جب پہلے روز دکان کھلی تو کئی پرانے گاہک آئے اور بطور خاص کلچے لیکر گئے۔
کلچوں کا مسالہ میدے، نمک یا چینی، سوڈے، گھی اور مکھن کو ایک خاص تناسب سے ملا کر تیار کیا جاتا ہے۔ فاروق میر کے مطابق پندرہ سیر آٹے میں چھ کلو گھی اور مکھن استعمال کیا جاتا ہے۔ کلچے نہ صرف نمکین اور میٹھے بلکہ کئی اور طرح کے بھی ہوتے ہیں۔ خاص آرڈر پر بننے والے کلچوں میں زیادہ گھی یا مکھن، خشخاش اور الائچی بھی ڈالی جاتی ہے۔ شادی بیاہ اور دیگر تقاریب کے لیے بھی کلچے خاص طور پر بنوائے جاتے ہیں۔ کلچوں کی ٹکیاں تنور میں لگانے سے پہلے انڈے پھینٹ کر ان کا لیپ کلچوں کی ٹکیوں پر کیا جاتا ہے۔ مشتاق میر کے مطابق اس سے نہ صرف کلچوں کا ذائقہ بہتر ہوتا ہے بلکہ وہ زیادہ دیدہ زیب اور چمکدار بھی ہوجاتے ہیں۔ جب کلچوں کی ٹکیاں تیار ہوجاتی ہیں تو ان کو تنور میں روٹیوں کی طرح لگادیا جاتا ہے۔ لیکن یہ ٹکیاں روٹی کی مانند کسی گدی پر رکھ کر نہیں بلکہ خالی ہاتھ سے لگائی جاتی ہیں۔ خرم میر کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ تنور میں کلچے ایک ترتیب سے ایک دوسرے کے بالکل برابر لگائے جاتے ہیں۔ ایک دفعہ میں تنور میں ساڑھے تین سو سے لیکر چار سو تک کلچے لگائے جاتے ہیں۔ پورے دن میں تین یا زیادہ سے زیادہ چار دفعہ تنور میں کلچے لگائے جاتے ہیں کیونکہ ابتداء سے لیکر مکمل تیاری تک کلچے کی تیاری پر چار گھنٹے صرف ہوتے ہیں۔ ہر دفعہ تنور کو نئے سرے سے گرم کیا جاتا ہے۔ کلچوں کے لیے تنور کو گرم کرکے ایک خاص درجۂ حرارت تک لایا جاتا ہے جس کے بعد تنور میں سے جلتی ہوئی لکڑیاں نکال لی جاتی ہیں۔ کلچوں کی ایک کھیپ کو پکنے میں آدھا گھنٹہ سے لے کر چالیس منٹ تک لگتے ہیں۔ کلچوں کو لگاتے اور نکالتے ہوئے کسی کٹورے میں چربی کا چراغ سا جلا کر تنور میں نیچے رکھا جاتا ہے کیونکہ جلتی لکڑیاں نکال لینے کے بعد تنور میں اندھیرا ہوتا ہے اور کلچوں کو دیکھنے کے لیے چراغ کی روشنی سے مدد لی جاتی ہے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||