مانسہرہ میں روزانہ دو اموات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مانسہرہ میں ایدھی مرکز کے مطابق ضلع کے مختلف طبی کیمپوں میں زلزلہ سے زحمی ہونے والے افراد کی ہر روز اوسطاً دو اموات ہو رہی ہیں۔ ایدھی مرکز کے انچارج اکرام قریشی نے بتایا کہ جو لوگ شدید زخمی تھے ان کی اموات ہورہی ہیں اور ایک ہفتہ سے اموات کی شرح میں اضافہ ہوا ہے جو اوسطا دو فی یوم ہوگئی ہے۔ انہوں نے بتایا کے ایدھی مرکز ضلع میں ایک درجن سے زیادہ طبی کیمپوں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے اور زخمیوں کو پٹیوں کی تبدیلی کے لیے گھروں سے طبی کیمپوں یا ہسپتالوں اور وہاں سے ان کے گھروں تک پہنچانے کے لیے سروس مہیا کرتا ہے۔
اکرام قریشی نے کہا کہ جن لوگوں کی اموات ہورہی ہیں ان کی میتیں ایدھی سروس ان کے لواحقین کی خواہش کے مطابق ان کے گھروں یا کسی دوسری جگہوں تک پہنچاتی ہے۔ ایدھی اہلکار کے مطابق سردی بڑھنے کے بعد سے اموات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ پشاور میں محکمہ داخلہ کے مطابق ضلع مانسہرہ میں پورے صوبہ سرحد میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں جن کی تعداد چوبیس ہزار پانچ سو گیارہ ہے جبکہ ضلع میں سینتیس ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ |
اسی بارے میں خیمہ بستیوں میں خارش کا مرض01 December, 2005 | پاکستان ملبورن کی نرس، ٹیسکو کی پٹیاں01 December, 2005 | پاکستان مانسہرہ: امدادی چیکوں پر جھگڑے30 November, 2005 | پاکستان برفباری اور بارش نے خطرہ بڑھا دیا27 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||