ملبورن کی نرس، ٹیسکو کی پٹیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملبورن کے آسٹن ہسپتال کی نرس فرانسز والٹن کو محسوس ہوا کہ آسٹریلیا زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے کچھ زیادہ نہیں کررہا اس لیے وہ کہتی ہیں کہ وہ اپنے دو ہاتھ لے کر لوگوں کی مدد میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے پاکستان آگئیں۔ فرانسز والٹن مانسہرہ میں ایک مقامی غیرسرکاری تنطیم کی طرف سے چلائے جانے والے ہسپتال میں ڈیڑھ ماہ سے زخمیوں کی دیکھ بھال اور مرہم پٹی کررہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب آفت آتی ہے تو مقامی لوگوں کے پاس جتنی بھی اہلیت کیوں نہ ہو کام کرنے والوں کی کمی ہوجاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے طور پر پاکستان آئیں لیکن ان کے ہسپتال آسٹن ہیلتھ نے جدید پٹیاں اور آلات سے بھرے ہوئے بہت وزنی بیگ انہیں دیے اور بعد میں روٹری کلب آسٹریلیا نے بھی مزید سامان بھیجا۔ فرانسز کا کہنا ہے کہ مانسہرہ کے اس ہسپتال میں پٹیوں کو دوبارہ قابل استعمال بنانے اور آلات کو جراثیم سے پاک کرنے کا انتظام موجود ہے جس وجہ سے وہ بہت سے زخمیوں کی پٹیاں کرنے میں کامیاب رہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ہسپتال میں انگلینڈ کے سپر اسٹور ٹیسکو سے ڈریسنگز اور دوسری دواؤں کے بھرے ہوئے بیگ آتے رہے جس وجہ سے انہیں اپنے کام میں کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں کے لوگ بہت مہمان نواز، گرمجوش اور دوستی کرنے والے ہیں۔ فرانسز کے خیال میں انہیں اس سے زیادہ مہمان نوازی کہیں اور نہیں ملی۔ وہ کہتی ہیں کہ یہاں مرد ان سے مرد کے طور پر اور عورتیں ایک عورت کے طو پر سلوک کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں یہاں قیام کے دروان میں کسی خطرہ کا سامنا نہیں کرنا۔ فرانسز والٹن کا کہنا ہے کہ یہاں کی عورتیں بہت شرمیلی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ شروع میں جب وہ یہاں آئیں تو عورتیں ان سے براہ راست بات نہیں کرتی تھیں شائد اس لیے کہ وہ ان جیسا لباس نہیں پہنتیں لیکن انہوں نے خود لوگوں سے براہ راست بات چیت کرنا شروع کی اور عورتیں ان سے بہت گرمجوشی سے ملنے لگیں۔ فرانسز کا کہنا ہے کہ اگلے روز وہ مانسہرہ بازار میں گئیں تو انہیں خوشی ہوئی کہ کسی نے انہیں ان کے نام سے بلایا اور جب انہو ں نے مڑ کر دیکھا تو ان کا ایک صحتیاب ہوجانے والا ایک مریض وہاں تھا جس نے ان سے ہاتھ ملایا۔ فرانسز کا کہنا ہے کہ جب وہ ہر صبح سیڑھیاں اتر کر کلینک میں آتی ہیں تو برقع پوش کارکنوں، رنگین کپڑے پہنے افغان عورتوں، خوبصورت کڑھائی کی شالیں اوڑھے عورتوں اور خاص مقامی انداز کی ٹوپیاں اور چادریں لپیٹے مردوں سے ملتی ہیں اور یہی وہ عکس ہے جو ان کے ساتھ ملبورن جائے گا۔ فرانسز والٹن نے اس سے پہلے مغربی صومالیہ میں بھی امدادی کام کیا ہے اور وہ پاپوا نیو گنی میں درس و تدریس کرتی رہیں۔ وہ سنیچر کو واپس آسٹریلیا چلی جائیں گی۔ | اسی بارے میں امدادی کام کے ساتھ عقائد کی تبلیغ24 November, 2005 | پاکستان شہروں پر متاثرین کے مسائل کا دباؤ23 November, 2005 | پاکستان زلزلہ زدگان کے لیے عارضی گھر06 November, 2005 | پاکستان جنیوا کانفرنس ناکام رہی: احمد کمال27 October, 2005 | پاکستان ہرجیت سنگھ کا موبائل کلینک26 October, 2005 | پاکستان خیمہ بستی منتقلی پر تناؤ22 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||