’سونا لٹ گیا‘، شکایتیں ہیں شکایتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آٹھ اکتوبر کے تباہ کن زلزلے سے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں ہلاکتوں اور مکانات کی تباہی کے ساتھ ہی یہاں کی تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں بھی ختم ہوکر رہ گئی ہیں۔ اور اس کساد کی وجہ یہ ہے کہ بیشتر بازار اور دکانیں بھی ملبے کے ڈھیر میں بدل گئی ہیں۔ شہر میں سناروں کی زیادہ تر دکانیں سب سے بڑے بازار مدینہ مارکیٹ میں تھیں جن کی اکثریت سناروں کے بقول لوٹ لی گئی ہے۔ مگر بعض لوگ اور خود شہر کی پولیس کو اس دعوے پر شبہ ہے۔ شہر کے سناروں کے بقول اسی پست کردار کی ایک مثال ان کی دکانوں کی لوٹ مار ہے کہ جب شہر کا ہر شخص خود سے بےنیاز اپنے پیاروں کی تلاش میں تھا تو کچھ لوگ تباہ شدہ دکانوں سے سونا اور زیورات لوٹ رہے تھے۔ مظفرآباد کی صرافہ ایسوسی ایشن کے صدر ریاض زرگر کے مطابق صرف بیس فیصد دکانیں اس لوٹ مار سے محفوظ رہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پینتالیس کے لگ بھگ دکانوں میں سے اسی فیصد لوٹی گئی ہیں جن سے سناروں کوتقریباً دو کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔ ریاض زرگر کے مطابق رمضان کی وجہ سے سنار دکانیں سویرے کھول رہے تھے اور جلدی بند کردیتے تھے۔ لوٹی گئی دکانوں کی اکثریت کھلی ہوئی تھی کیونکہ سناروں نے زیورات تجوریوں سے نکال کر زلزلے کے وقت شوکیس میں سجا دیے تھے۔ ریاض زرگر کے مطابق بعض بند دکانوں کے شٹراور تجوریاں توڑ کر بھی لوٹ مار ہوئی ہے۔ تاہم اسی مارکیٹ میں فاسٹ فوڈ کی دکان کے مالک ذوالفقار وانی کے مطابق رمضان سے دکانوں کے اوقات میں کوئی فرق نہیں پڑا تھا اور باقی پاکستان کے مانند سناروں کی دکانیں مظفرآباد میں بھی دیر سے ہی کھلتی تھیں اور تمام زیورات اور زلزلے کے وقت سونا ایسی مضبوط تجوریوں میں محفوظ تھا جن کو توڑنا آسان نہیں ہوتا۔ انہوں نے دکانیں لوٹے جانے کے سناروں کے دعوے درست قرار نہیں دیا۔ خود پولیس کو بھی ان دعووں پر شک ہے۔ مظفرآباد پولیس ریجن کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل طاہر محمود قریشی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اگر دکانیں واقعی لوٹی گئی تھیں تو سنار زلزلے کے چار پانچ ہفتوں کے بعد تک کیوں خاموش تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک دکان سے جب مال پولیس نے اپنی نگرانی میں نکلوا کر مالک کے حوالے کیا تو اس وقت اس نے کمی بیشی کی کوئی شکایت نہ کی اور اپنے مال کو پورا بتایا مگر بعد میں دکان سے چوری کی شکایت بھی درج کرائی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چوری کی رپورٹ درج کرائے جانے پر جب پولیس نے ایک اور دکان کا جائزہ لیا تو شوکیس میں نقلی زیورات بدستور موجود تھے اور صرف طلائی زیورات غائب تھے جس پر پولیس نے یہ بھی جاننے کی کوشش کی کہ چور کو چھوڑے ہوئے زیورات کے نقلی ہونے کا کیسے پتہ تھا۔ طاہر محمود قریشی کے مطابق چوری کی شکایات زیادہ تر وہ لوگ درج کرارہے ہیں جنہوں نے اپنے مال کی انشورنس کرائی ہوئی تھیں یا جنہوں نے اپنی دکانوں پر قرضے لے رکھے تھے۔ ان کے مطابق ایسے لوگ پولیس کے پاس شکایت درج کراکے صرف نقول لے جاتے ہیں۔ اس سے قطع نظر کہ سناروں کی دکانیں لوٹی گئیں یا نہیں، مظفرآباد میں جیسے جیسے زندگی کی معمول کی سرگرمیاں بحال ہورہی ہیں، اسی طرح کے اور معاملات بھی سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ | اسی بارے میں مانسہرہ: امدادی چیکوں پر جھگڑے30 November, 2005 | پاکستان زلزلے کے بعد اب بیماریوں کا حملہ29 November, 2005 | پاکستان پورے پاکستان میں چار زلزلہ انجینئرز28 November, 2005 | پاکستان ’امداد کی وجہ سے سامان نہیں بکتا‘25 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||