’ڈیڑھ لاکھ افراد کو رہائش میسر‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وفاقی ریلیف کمشنر میجر جنرل فاروق احمد خان کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں اب تک ڈیڑھ لاکھ افراد کے لیے ایک کمرے والے مکانات تیار ہو چکے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اوسطاً پندرہ سو سے دو ہزار افراد کے لیے روزانہ یہ گھر تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں نوے فی صد خیمے سردی،برفباری اور بارش کے لئے غیر موزوں ہیں مگر ان کے مطابق سرد ہوا، بارش اور برف سے بچاؤ کے لیے اگر ان خیموں پر پلاسٹک شیٹس لگا لی جائیں اور خیمے کی پیڈنگ کر لی جائے تو ان خیموں میں رہا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ خیمے پکے گھر کا نعم البدل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نےمزید بتایا کہ زلزلے سے متاثرہ پانچ ہزار فٹ سے زائد کی بلندی والے علاقوں میں سترہ ہزار سے زائد موسم کی شدت برداشت کرنے والے خیمے بھجوا دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا کہنا تھاکہ عارضی گھروں کی تعمیر سے ان علاقوں میں صورتحال بہتر ہو جائے گی۔ ایک سوال پر انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ پاکستانی فوج کے جوانوں اور افسروں کو زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں کام کرنے کے لئے زلزلہ الاؤنس دیا جا رہا ہے۔ |
اسی بارے میں ’نوّے فیصد خیمے غیر موزوں‘02 December, 2005 | پاکستان مانسہرہ میں روزانہ دو اموات02 December, 2005 | پاکستان ’نیٹو فورس چلی جائے گی‘02 December, 2005 | پاکستان ملبورن کی نرس، ٹیسکو کی پٹیاں01 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||