’نیٹو فورس چلی جائے گی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی دفتر خارجہ نے عندیہ دیا ہے کہ نیٹو کی امدادی ٹیم جو پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائی کے لیے آئی تھی نوّے دن کے قیام کے بعد ملک سے چلی جائے گی۔ واضح رہے کہ پاکستان کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ نیٹو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے واپس نہیں جائے گی۔ بعض دینی جماعتوں نے نیٹو کی ٹیم کو پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ بھی قرار دیا تھا۔ کشمیری رہنما اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے نیٹو سے درخواست کی تھی کہ وہ کشمیر کو غیر فوجی علاقہ بنانے اور علاقے میں سیلف گورننس قائم کرنے کے لیے کشمیر میں اپنا قیام بڑھا دیں۔ ان کے اس بیان کے بعد ان قیاس آرائیوں میں تیزی آئی تھی کہ شائد نیٹو کافی عرصے تک پاکستان میں رہے۔ تاہم پاکستانی حکومت اور نیٹو کی ٹیم کے ترجمان بارہا کہہ چکے تھے کہ نیٹو کی ٹیم نوّے دن کے قیام کے بعد واپس چلی جائے گی۔ پاکستانی دفتر خارجہ سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل جاپ ڈی ہوپ نے جمعرات کو پاکستان کے سیکریٹری خارجہ ریاض محمد خان سے ٹیلیفون پر بات کی ہے۔ بیان کے مطابق پاکستانی حکومت نیٹو کی ٹیم کو نوّے دن میں ملک سے روانگی کے لیے تمام تر تعاون فراہم کرے گی۔ نیٹو کی ٹیم نومبر میں پاکستان آئی تھی اور بیان کے مطابق وہ جنوری میں چلی جائے گی۔ پاکستانی سیکریٹری خارجہ نے نیٹو کی امدادی کارروائیوں کی تعریف کی۔ نیٹو نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے باغ میں امدادی کارروائی سر انجام دی اور وہاں لوگوں کو خیمے، خوراک اور ادویات فراہم کیں۔ نیٹو کے ترجمان کے مطابق ان کی ٹیم برفباری سے پہلے باغ اور متاثرہ علاقوں میں دھاتی چھتوں اور کنکریٹ کی دیواروں والے چھوٹے گھر بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ گھر ڈیزائن کے اعتبار سے بھلے ہی خوشنما نہ ہوں مگر کم از کم وہ لوگوں کو سرد موسم اور برفباری سے بچا سکیں گے۔ ان کے مطابق نیٹو کی ٹیم میں ایک ہزار سے زائد انجینیئر، میڈیکل سٹاف، ہیلی کاپٹر کا عملہ اور کچھ دفتری عملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو کی ٹیم نے اب تک زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں چودہ ہزار سے زائد خیمے،گیارہ ہزار آٹھ سو کمبل،ساڑھے سترہ ہزار سلیپنگ بیگ اور میٹرس کے علاوہ ادویات، پانی اور خوراک بھی بڑی تعداد میں زلزلے سے متاثرین کو فراہم کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ باغ اور ملحقہ علاقوں میں پانی کو صاف کرنے کے لیے پلانٹ بھی لگائے گئے ہیں۔ | اسی بارے میں نیٹو کی امدادی ٹیم ضلع باغ میں24 November, 2005 | پاکستان باغ: خیمہ بستی اکھاڑنے پر جھگڑا25 November, 2005 | پاکستان امدادی پروازیں پھر سے شروع29 November, 2005 | پاکستان زلزلہ متاثرین اور عالمی امداد کے وعدے25 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||