کیمپوں میں خسرہ پھیل گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلہ سے متاثرہ مظفرآباد کی تحصیل ہٹیاں بالا میں قائم ایک پناہ گزیں کیمپ میں بچوں میں خسرہ پھیلنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع مظفر آباد کی ایک تحصیل ہٹیاں بالا کے ایک کیمپ میں بچوں میں خسرہ پھیلنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایک بچہ ہلاک جبکہ چودہ اس وباء سے متاثر ہوئے ہیں ۔ان کیمپوں میں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے بچوں کو بیماریوں سے بچاؤ کے ٹیکے بھی لگانے کا دعوی کیا تھا۔ مظفر آباد کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سردار محمود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ خسرے کے چودہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور ایک بچہ ہلاک ہو گیا ہے جس کی عمر دس ماہ تھی۔ یونیسیف کی طرف سے چلائی جانے والی حفاظتی ٹیکوں کی مہم کافی دنوں سے جاری تھی لیکن ڈی ایچ او کے مطابق اس علاقے میں چونکہ کیمپس میں لوگوں کی موومنٹ بڑی تیزی سے ہو رہی ہے اوپر کے علاقوں سے لوگ نیچے آ رہے ہیں اس لیے اس بات کا خدشہ موجود رہتا ہے کہ پوری طرح سے یہ ٹیکے شاید کسی علاقے میں نہ لگ پائے ہوں۔ ایک کیمپ کے بارے میں پتا چلا ہے کہ ایک سو ستائس پچوں کو ٹیکے لگے ہی نہیں تھے۔ـ لیکن ڈی ایچ او کا کہنا ہے کہ اس بات کا پتہ چلنے کے بعد ستائیس نومبر کو ان کو ٹیکے لگا دیے گئے تھے اور اس اندیشے کے پیش نظر کے شاید ابھی بھی بہت سے بچوں کو ٹیکے نہیں لگے ہیں اس مہم کو بڑھا دیا گیا ہے۔ اور پوری ہٹیاں بالا تحصیل میں ٹیمیں گھر گھر جا کر ٹیکے لگا رہی ہیں ـ | اسی بارے میں خیمہ بستیوں میں خارش کا مرض01 December, 2005 | پاکستان کیمپوں میں بیماریوں کا راج09 November, 2005 | پاکستان خیموں میں سردی کا عذاب30 November, 2005 | پاکستان ’خوراک کی فراہمی رک سکتی ہے‘03 December, 2005 | پاکستان زلزلہ: بچ جانے والے بچوں کیلیے نیاخطرہ20 October, 2005 | پاکستان ’650 افرادکےاعضاء کاٹے جا چکے ہیں‘17 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||