’خوراک کی فراہمی رک سکتی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے ادارے عالمی پروگرام برائے خوراک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جیمز مورس نے خبردار کیا ہے کہ کہ اگر خوراک کی فراہمی کے سلسلے کو چلانے کے لیے مزید رقوم نہ ملیں تو جنوری کے بعد ان کا کام معطل ہو سکتا ہے۔ جیمز مورسن نے کہا کہ زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امداد پہنچانے کا سلسلے کو جاری رکھنے کے لیے ستر ملین ڈالر کی ضرورت ہے ۔ زلزلے سے برباد ہونے والے ان پہاڑی علاقوں میں بچ جانے والے لوگوں کو اب شدید سردی اور خوراک کی کمی کا سامنا ہے جس سے نمٹنا امدادی اداروں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ کئی امدادی کارکنوں کو خدشہ ہے کہ کہ برباد ہونے والے علاقوں میں جہاں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے گر جائے گا اگر وہاں خوراک اور گرم کپڑوں کی فراہمی جاری نہ رکھی گئی تو موت کا ایک اور دور آئے گا جس میں ہزاروں افراد لقمہ اجل بن جائیں گے۔ جیمز مورس نے کہا کہ ان کے پاس اتنی رقم فی الحال ہےجس کے ذریعے وہ جنوری تک خوراک کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھ سکیں گے مگر اپریل تک، یعنی پوری سردیوں پر زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں خوراک کی فراہمی کےلیے انہیں چھ سے سات کرروڑ ڈالر کی امداد کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا اگر یہ رقم نہ ملی تو اگلے ماہ سے متاثرہ علاقوں میں خوراک کی ترسیل کرنے والے ہیلی کاپٹروں کی پروازیں بند ہو جائیں گی۔ جیمز مورسن کا کہنا ہےکہ عالمی پروگرام برائے خوراک کو خوراک کی ترسیل کے حوالے سے دشوار ترین قدرتی آفت کا سامنا ہے۔ اگرچہ پاکستان حکام کا بار بار اصرار ہے کہ حالات قابو میں ہیں مگر بین الاقوامی امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ اس قسم کی خوش فہمی سے دنیا کی توجہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں سے ہٹ سکتی ہے خاص کر ایسے وقت میں جب سردیوں کی وجہ متاثرین کو امداد کی سخت ضرورت ہے۔ |
اسی بارے میں خیمہ بستیوں کے بچے سردی کا شکار30 November, 2005 | پاکستان ’نوّے فیصد خیمے غیر موزوں‘02 December, 2005 | پاکستان برفباری اور بارش نے خطرہ بڑھا دیا27 November, 2005 | پاکستان مانسہرہ میں روزانہ دو اموات02 December, 2005 | پاکستان مانسہرہ: امدادی چیکوں پر جھگڑے30 November, 2005 | پاکستان ’ڈیڑھ لاکھ افراد کو رہائش میسر‘02 December, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||