BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 30 November, 2005, 19:09 GMT 00:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خیمہ بستیوں کے بچے سردی کا شکار

ہسپتالوں میں درجنوں مریض ایسے آ رہے ہیں جو سردی کی وجہ سے بیمار ہوئے ہیں
صوبہ سرحد کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں جہاں ایک جانب سردی اپنا جوبن دیکھا رہی ہے وہیں متاثرین کے لیے قائم کیمپوں میں بسنے والے خصوصاً بچوں کی بڑی تعداد ماہرین کے مطابق سینے اور گلے کی بیماریاں کے پنجے میں پھنستی جا رہی ہے۔

صوبہ سرحد کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بھی طبی ماہرین کے مطابق سردی کے بڑھنے سے بچوں میں نمونیہ اور گلے کی بیماریوں کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ تاہم ابھی کسی جان کے ضائع ہونے کی سرکاری سطح پر خبر نہیں۔

دو روز پہلے کی شدید بارشوں اور برف باری سے زیادہ متاثر وہ بچے ہو رہے ہیں جو اس مرتبہ اس سردی کا پکے مکانات کی دیواریوں سے نہیں بلکہ خیموں کی پتلی چاردوں سے مقابلہ کر رہے ہیں۔

حویلیاں کے قریب بانڈہ صاحب خان کے مقام پر قائم خیمہ بستی اس وقت آٹھ سو خیموں پر مشتمل ہے۔ یہاں بدھ کی صبح تک ساڑھے چار ہزار سے زائد مختلف رنگوں اور قسم کے خیموں میں افراد پناہ لے چکے ہیں۔ یہاں آپ کو ٹین کی چادر کے بنے کمرے بھی ملیں گے اور عام چھوٹے خیمے بھی۔ لیکن کئی نجی تمظیموں نے اچھے بڑے اور جدید خیمے بھی یہاں لگا رکھے ہیں۔

اس خیمہ بستی میں سرکاری کلینک کے ڈاکٹر سعید محمد سے میں نے بیماریوں کی صورتحال جاننا چاہی تو انہوں نے کہا کہ سینے اور گلے کے کیسسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس طبی امداد کے لیے آنے والوں میں سے ساٹھ فیصد بچے سینے کی بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔

اس کیمپ میں مقیم نذیر حسین نے بتایا کہ وہ سرد راتوں میں بچوں کو خیموں میں کس طرح سردی سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود بچوں کی جانب جبکہ ان کی بیوی دوسری جانب لیٹ جاتے ہیں۔ لیکن ان کا ماننا تھا کہ یہ ترکیب کوئی زیادہ عرصہ نہیں چل پائے گی۔

صوبہ سرحد کے ایک اور بری طرح متاثرہ بٹگرام ضلع میں اقوام متحدہ کی بچوں کی امدادی تنظیم یونیسف کے ڈاکٹر عبدالجمیل سے پوچھا سردی کا مقابلہ بچے کیسے کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ پہلے ہی سردی اور غذائیت کی کمی کا شکار تھے جو ان پر برا اثر کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نمونیہ کے کیسسز آئے ہیں لیکن بہت کم لیکن انہوں نے کہا کہ یہ ابھی آغاز ہے اور یہ تعداد آگے چل کر بڑھ سکتی ہے۔

یقینا ابھی تو یہ آغاز سے سرد موسم کا اور اس سے جڑی بیماریوں کے پھیلنے کا۔ متاثرین خصوصا بچے اس سے مقابلے کے لیے کتنے تیار ہیں نہ حکومت اور نہ ہی امدادی تنظیموں کچھ یقین سے کہہ سکتی ہیں۔

اسی بارے میں
امدادی پروازیں پھر سے شروع
29 November, 2005 | پاکستان
برفباری میں کھاد کی تقسیم
29 November, 2005 | پاکستان
خیمہ بستیاں مارچ 2006 تک ختم
28 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد