جلانے کی لکڑی مہنگی ہوگئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلے سے متاثر ہونے والے صوبہ سرحد کے ضلع بٹگرام میں سخت سردی کی وجہ سے جلانے کی لکڑی کی مانگ میں اضافہ ہونے کے ساتھ اس کے دام بھی بڑھ گئے ہیں۔ بٹگرام شہر کے صدر بازار میں لکڑی کا کاروبار کرنے والے خستہ گل نے بتایا کہ حالیہ سردی کی لہر کے بعد جلانے کی لکڑی کی قیمت میں پچیس روپے فی من کا اضافہ ہوگیا ہے۔ خستہ گل کی آرا مشین بھی اپنی ہے اور انہوں نے بتایا کہ ان کے والد گزشتہ بائیس برسوں سے لکڑی کا کاروبار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق وہ زیادہ تر لکڑی پنجاب سے لاتے ہیں جبکہ چالیس سے پینتالیس فیصد صوبہ سرحد کے متاثرہ علاقوں سے لیکن ان دنوں راستے بند ہونے کی وجہ سے مقامی لکڑی کی رسد ختم ہوگئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ حسن ابدال اور بھلوال سے لکڑی لاتے ہیں لیکن ان دنوں جہاں انہیں مال مہنگا ملتا ہے وہاں کرائے بھی بڑھ گئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بھی دام بڑہا دیے ہیں۔ ان کے مطابق زلزلہ سے پہلے بھلوال سے بٹگرام لکڑی سے بھرے ایک ٹرک کا کرایہ ساڑھے سات سے آٹھ ہزار روپے تھا لیکن اب یہ بڑھ کر نو سے ساڑھے نو ہزار روپے ہو گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ٹرک میں دو سو من سے زیادہ وزن بھی نہیں اٹھانے دیتے اور کرایہ بھی زیادہ لیتے ہیں اس لیے ان کے پاس دام بڑھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ خستہ گل نے بتایا کہ ان دنوں وہ روزانہ گٹکہ اور چھلکا سمیت دو سو من لکڑی بیچتے ہیں جبکہ اس سے پہلے اس موسم میں روزانہ وہ سوا سو من کے قریب لکڑی بیچتے تھے۔ تین لاکھ اڑسٹھ ہزار کے قریب آبادی والے ضلع بٹ گرام میں بیشتر لوگوں کا کھانے پکانے اور سردی سے بچنے کا واحد ذریعہ لکڑی ہی ہے۔ ایک شہری موسیٰ جان نے بتایا کہ لکڑی بیچنے والوں کے گوداموں میں کافی مقدار میں لکڑی موجود ہے لیکن حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے دام زیادہ کر دیے ہیں۔ ان کا سوال تھا کہ زلزلے سے لٹے پٹے لوگوں کا سب کچھ تباہ ہوگیا اور اب لکڑی بھی مہنگی ہوئی ہے تو ایسے میں غریب کا کیا ہوگا۔ بٹگرام بازار کی فٹ پاتھ پر پرانےگرم کپڑے بیچنے والے محمد حمزہ نے بتایا کہ استعمال شدہ گرم کپڑوں کے دام میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ شہر کے بازار میں نئے گرم کپڑے بیچنے والے دوکانداروں کی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں ملی جلی رائے پائی جاتی ہے۔ سبیل خان نے کہا کہ وہ پشاور اور راولپنڈی سے سامان منگواتے ہیں لیکن اب مارکیٹ سے مال لانے کی لاگت بڑھ گئی ہے اور اس لیے انہوں نے قیمت میں کچھ اضافہ کیا ہے جبکہ محمد فضل نے کہا کہ آج کل مفت کا مال ( زلزلے کی امداد) بہت زیادہ ہے اس لیے ان کے مال کی فروخت میں کمی آگئی ہے۔ | اسی بارے میں خیموں میں سردی کا عذاب30 November, 2005 | پاکستان خیمہ بستیوں کے بچے سردی کا شکار30 November, 2005 | پاکستان زلزلہ، سردی: مزید ہلاکتوں کا خدشہ 14 November, 2005 | پاکستان امدادی ترجیح: سردی سے بچاؤ05 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||