زلزلہ: رضاکاروں کی دلچسپی میں کمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا بھر میں دسمبر کو پیر کو رضاکاروں کا عالمی دن منایا گیا۔ مسائل کی جانب توجہ دلانے کے لیے مختلف مسائل پر اس طرح کے دن تو تقریباً ہر روز منائے جاتے ہیں لیکن رضاکاری کی اہمیت سے پاکستان کے لوگ حال ہی میں واقف ہوئے ہیں۔ آٹھ اکتوبر کے زلزلے نے کشمیر اور صوبہ سرحد میں جو تباہی مچائی اس کا مقابلہ کرنے میں ملک بھر سے آئے رضاکاروں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ تاہم زلزلے کو آئے تقریبا دو ماہ ہونے کو ہیں اور اب رضا کاروں کی تعداد اور جذبے میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ آٹھ اکتوبر کے زلزلے کی وسیع پیمانے پر تباہی کا مقابلہ اگر کسی حد تک کیا جا سکا ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ ملک بھر سے آئے رضاکار تھے۔ انہوں نے متاثرین کی مشکل کو اپنی مشکل اور ان کے غم کو اپنا غم سمجھ کر ان کا بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش کی۔ کسی نے پیسے سے تو کسی نے محض اپنی شفقت، پیار محبت سے متاثرین کی مدد کی۔ بڑی بڑی تنظیموں کے رضاکار تو آئے ہی لیکن کئی ایسے بھی تھے جو کسی نمود نمائش کے بغیر اپنی خدمات پیش کرتے رہے۔ مجھے مانسہرہ ڈگری کالج میں قائم عارضی ہسپتال میں ملی وہ خاتون آج بھی یاد ہے جن کا کسی تنظیم یا ادارے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ لیکن وہ ایک ایسے چار سالہ زخمی روتے ہوئے لڑکے کو دلاسہ دے رہی تھی جس کا کوئی نہیں بچا تھا۔ اس لڑکے سے خاتون کا کوئی رشتہ نہیں تھا اور وہ محض اسے روتا دیکھ کر اسے چپ کرانے میں مصروف ہوگئیں۔
ایسی ہی ایک نقاب پوش خاتون طاہرہ سے ملاقات حویلیاں میں متاثرین کے لیے قائم ایک خیمہ بستی میں ہوئی جہاں وہ بچیوں کو بغیر کسی لالچ قرآن کی تعلیم دینے روزانہ آتی ہیں۔ ان کا بھی کسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں تھا اور محض ’فی سبیل اللہ‘ یہ اہم فریضہ ادا کر رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس کیمپ میں بچیوں کو اسلامی تعلیمات دے رہی ہیں تاکہ دین سے ان کا تعلق ختم نہ ہوجائے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک مقامی ڈاکٹر نے انہیں اب گاڑی دی ہے تاکہ انہیں کیمپ لایا لیجایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ’ ہم کسی پبلسٹی یا انعام کے لیے یہ کچھ نہیں کر رہے ہم اللہ کی خوشنودی کے لیے کر رہے ہیں‘۔ انہوں نے بتایا کہ ایک تنظیم نے انہیں بچیوں میں بسکٹ تقسیم کرنے کے لیے دیے۔ ’سب طالبات میں تقسیم کے بعد میرے پاس دو بسکٹ بچ گئے اگر میں چاہتی تو خود کھا لیتی مجھے بھوک بھی لگی تھی لیکن میں نے یہ واپس کر دیے۔ تنظیم والے کہنے لگے آپ کھا لیتیں لیکن میں نے کہا یہ میرے لیے نہیں تھے میرا ضمیر نہیں مان رہا تھا‘۔ صوبہ سرحد کے سب سے بری طرح متاثرہ بالاکوٹ میں گزشتہ دو ماہ سے اسلامی جمیعت طلبہ کے امدادی کیمپ کے منتظم گلفراز سے رضاکاروں کو درپیش مشکلات جاننا چاہیں تو انہوں نے کہا کہ سرد موسم اور فیلڈ میں زیادہ وقت گزارنا بڑی دقتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں انتظامی امور، امدادی سامان کی تقسیم اور رات کو چوکیداری بھی خود کرنی پڑتی ہے‘۔ رضا کاروں کو منظم کرنے کے لیے حکومت نے بھی ایک تحریک شروع کرنے کا گزشتہ دنوں اعلان کیا لیکن عام تشویش یہی ہے کہ کیا اس کا حال بھی بوائے سکاوٹس یا گرل گائیڈز کی طرح کا تو نہیں ہوگا۔ ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے گلفراز نے کہا کہ وہ تنظیم کے طلبہ کے گروپس کو پانچ پانچ روز کے لیے یہاں امدادی کاموں کے لیے لاتے ہیں۔ اتنے مختصر وقت کے لیے آنے کی وجہ انہوں نے ان طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں بتائی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ رضاکاروں کی آمد کا سلسلہ اب ویسا نہیں رہا جیسا کہ ابتدائی دنوں میں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ اب رضا کاروں کی تعداد اور ان کے جذبے میں کمی آ رہی ہے‘۔ آٹھ اکتوبر کا سانحہ یقیناً ایسا نہیں تھا کہ ماہ دو ماہ میں عوامی مدد سے مستقل طور پر متاثرین کے زخم بھر جائیں گے۔ اس کے لیے رضا کاروں اور رضاکاری دونوں کی اشد ضرورت کئی ماہ نہیں بلکہ شاید برسوں تک رہے گی۔ | اسی بارے میں جہادی تنظیمیں زلزلے کے خلاف ’جہاد‘ میں مصروف27 October, 2005 | پاکستان لوگ عارضی مکان کیوں نہیں بنا رہے؟05 December, 2005 | پاکستان مانسہرہ: امدادی چیکوں پر جھگڑے30 November, 2005 | پاکستان زلزلے کے بعد نئے اکاؤنٹ مشکل25 November, 2005 | پاکستان نہ میکہ سلامت رہا اور نہ ہی سسرال24 November, 2005 | پاکستان زلزلہ متاثرین کے لیے رت جگا09 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||