لوگ عارضی مکان کیوں نہیں بنا رہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مانسہرہ سے پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر شمال میں شاہراہ ریشم پر واقع قصبے بٹل کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو امدادی رقوم کے چیک تو مل چکے ہیں لیکن لوگ ان پیسوں سے اپنے لیے عارضی مکان نہیں بنا رہے۔ ہزارہ کے دیہات میں زلزلہ سے پہلے اکثر لوگ جن مکانوں میں رہتے تھے وہ پتھروں اور گارے کی چنائی سے بنائے گئے تھے، ان پر لکڑی اور گھاس پھونس کی چھت تھی۔ یہ مکان خیموں سے اس لیے بہتر تھے کہ لوگ سردی میں ان میں آگ جلا کر بیٹھ جاتے تھے۔ ایسا مکان بیس پچیس ہزار روپے میں بنایا جا سکتا ہے۔ اس علاقے میں لکڑی لوگوں کے پاس عام دستیاب ہے اور جھونپڑا بنانے کے لیے کام کاج کرنے والے لوگوں کی بھی کمی نہیں۔ بٹل کے ایک کاشتکار محمد بشیر کا کہنا ہے کہ’دو بچے فوت ہوئے لیکن چیک ایک ملا۔ ایک نہیں ملا‘۔ ان کو جو چیک ملا اسے انہوں نے اکاؤنٹ میں جمع کرا دیا ہے لیکن اس رقم سے اپنا جھونپڑا نہیں بنایا۔
زلزلہ سے متاثرہ بیشتر علاقوں میں لوگوں کی کہانی محمد بشیر جیسی ہے۔ ان لوگوں کو امداد نہ ملنے یا توقع سے کم ملنے کا گلہ ہے۔ وہ اس امدادی رقم سے سردی سے اپنے بچاؤ کے لیے کوئی جھونپڑا یا کیبن نہیں بنا رہے اور امدادی رقم جمع کر رہے ہیں۔ بٹل کے رہائشی ایک وکیل عبیداللہ خان کا کہنا ہے کہ تقریبا ساٹھ فیصد خاندانوں کو امدادی چیک مل چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ امداد بٹورنے پر لگ گئے ہیں اور مزدور اور مستری نہیں مل رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تین سو روپے یومیہ اجرت پر بھی مزدور نہیں مل رہا۔ کئی مخیر لوگوں نے نجی طور پر بھی امداد بانٹی ہے۔ بٹل کے ایک شہری نے بتایا کہ انگلینڈ میں رہنے والے ایک پاکستانی نے بٹل میں ستر لاکھ روپے امداد کے لیے بھیجے اور فی خاندان دس ہزا روپے تقسیم کیےگئے۔ وادی کونش کے اس قصبہ میں قطر ریڈ کریسنٹ، ایک مقامی باشندے اسرائیل خان اور مقامی رضاکاروں کے تعاون سے لوگوں میں سویڈن کے بنے ہوئے خیمے تقسیم کیے گئے اور اس کیمپ کے باہر لوگوں کا ہجوم لگا رہتا ہے۔ جھاڑ گلی کے غلام رسول کا کہنا تھا کہ انہیں ایک خیمہ بھی نہیں ملا اور وہ ترپالوں پر پولیتھین ڈال کر وقت گزار رہے ہیں۔ وہ ریڈ کریسنٹ کا خیمہ لینا چاہتے ہیں۔ عبداللہ خان کا کہنا تھا کہ اس کے بیٹے کو خیمہ ملا تھا لیکن وہ اپنے بال بچوں کے ساتھ اس میں رہتا ہے اور انہیں اس میں نہیں رہنے دیتا۔ دوسری طرف قطر ریڈ کریسنٹ کے لیے کام کرنے والے حزب اللہ خان کا کہنا ہے کہ وہ ڈھائی ہزار خیمے تقسیم کرچکے ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ اس علاقے میں پچھہتر فیصد آبادی کو خیمے مل چکے ہیں لیکن جن لوگوں کے پاس سادہ خیمے ہیں وہ سویڈن کے بنے ہوئے سردی سے محفوظ رکھنے والے خیمے مانگ رہے ہیں۔ بٹل میں کراچی کی ایک فلاحی تنظیم سٹیزن فاؤنڈیشن کے منتظم طارق سعید کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم لوگوں کو شراکت کی بنیاد پر عارضی کیبن بنا کردینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عارضی مکان کے لیے لوگ لکڑی فراہم کریں اور ایک تین فٹ کی دیوار بنالیں تو وہ انہیں جستی چادریں، ہارڈ بورڈ، لکڑی کی چِرائی اور بڑھئی کی مزدوری دیں گے۔
تاہم قصبہ میں کوئی کیبن بنا ہوا نظر نہیں آتا۔ طارق سعید نے کہا کہ وہ عید سے پہلے سے لوگوں سے شیلٹر یا کیبن بنانے کے لیے کہہ رہے ہیں لیکن لوگ خود نہیں آ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک برفباری شروع نہیں ہوئی تھی، یہ لوگ نہیں آ رہے تھے لیکن اب آنا شروع ہوئے ہیں۔ دوسری طرف لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ وہ اپنے گھروں کی جگہ چھوڑ کر خیمہ بستیوں میں عارضی گھر نہیں بنانا چاہتے کیونکہ خیموں میں ان کے مال مویشی بھی ان کے ساتھ رہتے ہیں جنہیں وہ عارضی بستیوں میں نہیں لے جاسکتے۔ بٹل میں ایک مقامی باشندے میاں محبوب کا کہنا تھا اگر انہیں جستی چادریں مل جائیں تو وہ خود اپنا جھونپڑا بنا لیں گے۔ نوگرام گاؤں کے ظفر اقبال کا کہنا تھا کہ خیمہ بستیاں امن کی جگہ نہیں، وہاں بدامنی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ لوگ تقریبا دو ماہ سے مسلسل امداد لے رہے ہیں جس سے وہ زلزلہ کے بعد کسی بڑے نقصان سے تو بچ گئے لیکن انہیں اس امداد لینے کی عادت پڑتی جا رہی ہے۔ کئی مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ زلزلہ کے فورا بعد اتنی امداد تقسیم ہوئی کہ لوگوں کے گھروں میں ایک ماہ کا راشن جمع ہوگیا ہے۔ بٹل کے حاجی داد خان کا کہنا ہے کہ کوئی ایسا گھر نہیں جہاں سرکاری راشن نہ ہو، خیمہ نہ ہو، خود ان کے گھر میں ہے۔ ایک بزرگ غلام سرور نے کہا کہ اصلیت یہ ہے کہ لوگ جھونپڑا بنانے کے بجائے راشن لینے کے چکر میں لگے رہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ جب تک امدادی خوراک کی تقسیم بند نہیں ہو گی اس وقت تک یہ لوگ عارضی مکان نہیں بنائیں گے۔ وادی کونش میں چار سو خاندانوں کو جستی چادریں مہیا کرنے والی ایک تنظیم کے رضاکار راؤ سلمان کا کہنا ہے کہ زلزلہ کے بعد ایک بڑا خطرہ تو یہ ہے کہ برفباری میں لوگ خیموں میں زندہ کیسے رہیں گے اور دوسرا بڑا خطرہ یہ ہے کہ لوگ کام کاج کرنے کے بجائے محتاجی اور امداد کی عادت کا شکار نہ ہوجائیں۔ | اسی بارے میں جستی چادریں اور کوئٹہ کی انگیٹھی02 December, 2005 | پاکستان برفباری میں کھاد کی تقسیم29 November, 2005 | پاکستان زلزلے کے بعد نئے اکاؤنٹ مشکل25 November, 2005 | پاکستان جستی چادروں کی بلیک 16 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||