BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 December, 2005, 15:43 GMT 20:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بحالی کی امید کی کوئی کِرن نہیں‘

زلزلے کو آئے دو ماہ مکمل ہونے پر صبح جب میں مارگلہ ٹاور کی زمین بوس ہو جانے والی عمارت کے سامنے کھڑا تھا تو نہ چاہتے ہوئے بھی ذہن آٹھ اکتوبر کو ہونے والی قیامت خیز تباہی کی جانب لوٹ رہا تھا۔

اُس روز دس منزلہ عمارت کے دو بلاک ملبے کا ڈھیر بن چُکے تھے اور اُس کے نیچے سینکڑوں لوگ دبے ہوئے تھے۔ بیسیوں لوگ ہلاک ہو چُکے تھے اور بچ جانے والے کئی لوگوں کی آوازیں صاف سُنائی دے رہی تھیں۔

قریب کےفیلٹوں میں رہنے والے اپنے ہاتھوں سے پتھر اور ملبہ ہٹا کر لوگوں کو نکالنے کی کوشش میں تھے۔ کچھ دیر کے لیے یہ لگا کہ شاید زلزلے سے صرف اس عمارت کو ہی نقصان پہنچا ہو۔

جنرل پرویز مشرف کا تو یہ کہنا ہے کہ وہ سہ پہر تین بجے تک یہی سمجھ رہے تھے کہ صرف مارگلہ ٹاور کو ہی نقصان پہنچا ہے۔ لیکن بی بی سی اسلام آباد کے دفتر میں گیارہ بجے تک کشمیر کے مختلف علاقوں سے زلزلے سے ہونے والی تباہی کی خبریں آنا شروع ہو گئی تھیں۔

صورت حال اب بھی واضح نہ تھی۔ لیکن مظفرآباد کے نامہ نگار ذوالفقار علی کی اسلام آباد کے دفتر میں موجودگی سے اطلاعات کی فراہمی میں کافی مدد ملی۔ اس کے باوجود اُس وقت تک مصدقہ اطلاعات سے زیادہ افواہوں کا زور تھا۔ تین بجے کے قریب ہم دفتر کی گاڑی میں مظفرآباد کی جانب روانہ ہو چُکے تھے۔ اسی اثناء میں لندن میں اردو سروس سے تجویز آئی کہ کسی کو مانسہرہ کا رُخ بھی کرنا چاہیے۔

لہذا مبشر زیدی وہاں کے لیے روانہ ہوئے اور اعجاز مہر پر اسلام آباد میں رہ کر پورے متاثرہ علاقے کے حالات پر نظر رکھنے کی ذمہ داری چھوڑی گئی۔ مظفرآباد جاتے ہوئے جب میں مری کے علاقے سے گزر رہے تھے تو راستے میں بیشتر عمارتیں محفوظ دکھائی دیں اور زندگی معمول پر۔

ایک وقت میں گمان ہوا کہ شاید تباہی سے متعلق ملنے والی اطلاعات غلط ہوں۔ لیکن پاکستان کے زیرانتظام کشیمر میں داخل ہونے کے لیے جیسے ہی کوہالہ کا پُل عبور کیا صورت حال واضح ہونا شروع ہو گئی۔

اٹھارہ کلومیٹر تک سڑک پر صرف بڑے بڑے پتھر اور درخت گرے ہوئے تھے اور کئی مقامات سے سڑک کو پہاڑی تودے اپنے ساتھ بہا کر لے گئے تھے۔ مسلح افواج یا مقامی انتظامیہ کا کوئی فرد بھی وہاں موجود نہیں تھا اور نہ ہی ملبہ ہٹانے والی مشینری دکھائی دی۔ گاڑی کا آگے جانا ناممکن تھا۔

لیکن سینکڑوں کی تعداد میں لوگ مظفرآباد کی جانب پیدل رواں دواں تھے وہ اپنے عزیزواقارب کا حال جاننے کے لیے بے چین نظر آتے تھے۔

ہم تو بھاری سامان اپنے ساتھ ہونے کے باعث آگے نہ جا سکے، البتہ ذوالفقار علی کو حالات جاننے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر اور خاندان کی بھی فکر لاحق تھی۔ لہذا انہوں نے سفر پیدل ہی طے کرنے کا فیصلہ کیا۔ باقی افراد رات گئے اسلام آباد واپس آئے۔ اُس وقت تک مبشرزیدی بالاکوٹ پہنچ کر وہاں سے شہر کے تباہ ہونے کی خبر بھیج رہے تھے۔

باغ اور دوسرے مقامات میں سے بھی ہزاروں کی تعداد میں ہلاکتوں کی خبریں آ رہی تھیں۔ اب یہ واضح ہوتا جا رہا تھا کہ غالباً یہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین زلزلہ ہو۔

دوسرے روز جب ہم گڑھی حبیب اللہ کے راستے مظفرآباد پہنچے تو پہلی ہی نظر میں اندازاہ ہونے لگا کہ کس بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

ذوالفقار علی کے تباہ شدہ گھر کے باہر ڈیرا ڈال کر جب شہر میں نکلے تو ایسی کوئی عمارت دکھائی نہ دی جو زلزلے سے تباہ نہ ہوئی ہو۔

ہر طرف نفسا نفسی کا عالم تھا۔ ہر کوئی اپنے مرنے والوں کا ماتم کر رہا تھا۔ البتہ کچھ لوگ اس اُمید میں تھے کہ فوجی اہلکار شاید ملبے کے نیچے دبے ہوئے اُن کے عزیز و اقارب کو زندہ نکال سکیں۔ اور پھر دو روز بعد جب ملبے میں دبی ہوئی لاشوں کی وجہ سے تعفن پھیلنے لگا تو وہاں غم کے ساتھ ہی غصے کا اظہار بھی دیکھا گیا۔

اب لوگ حُکام کو دیر سے مدد کے لیے پہنچنے پر کوُس رہے تھے۔ اس میں قریب کے گاؤں کے لوگ پیش پیش تھے جن کا کہنا تھا کہ اب تک اُن کی مدد کو کوئی بھی نہیں پہنچا۔

غصے کا اصل اظہار اُس کُھلے میدان میں دیکھنے میں آیا جہاں قریب کے علاقوں میں ہونے والی تباہی کہ بعد سینکڑوں خاندانوں نے جمع ہونا شروع کر دیا تھا، یہی جگہ بعد میں ایک بڑی خیمہ بستی میں تبدیل ہوگئی۔

دوسری جانب شہر کے بڑے سٹیڈیم میں فوجی حُکام ریڈ کراس کی مدد سے ایک خیمہ ہسپتال چلا رہے تھے۔ جہاں اب ہیلی کاپٹر کی مدد سے کچھ امداد آنی شروع ہوئی تھی اور شدید زخمیوں کو روالپنڈی اور اسلام آباد پہنچانے کا کام ہو رہا تھا۔

تیسرے روز ہم نے گڑھی حبیب اللہ کے راستے بالا کوٹ کی راہ لی۔ یہاں ہونے والی تباہی کسی کا بھی دل ہلا دینے کے لیے کافی تھی۔

تا حد نظر منہدم ہونے والے مکان اور دیگر عمارتیں ایک ہولناک منظر پیش کر رہیں تھیں۔

جس تباہ شدہ سکول کے میدان میں کامل خان اور میں نے خبریں بھیجنے کے لیے اپنا خمیہ لگایا وہاں کے باسکٹ بال کورٹ میں ایک اجتماعی قبر میں تئیس افراد دفن کئے جا چُکے تھے۔ جبکہ ایک اور اجتماعی قبر تیار ہو رہی تھی۔

اُسی جگہ پر امدادی کام کے لیے ڈیرا ڈالے مانسہرہ کے ایک سکول کے سکاؤٹس کے انچارج نے بتایا کہ ان اجتماعی قبروں میں بیشتر اُن افراد کو دفن کیا جا رہا ہے کہ جن کہ ورثاء کا علم نہیں۔

شہر میں فوجی جوانوں سے زیادہ مختلف علاقوں سے آئے ہوئے رضاکار دکھائی دیئے۔ ان میں چین اور فرانس سے لے کر متحدہ امارات کے وہ رضاکار بھی تھے جن کا اصل مشن ملبے میں دبے ہوئے زندہ لوگوں کو نکالنا دکھائی دیا۔

بالاکوٹ میں ہی رہتے ہوئے کاغان جانے والے راستے کے کُھلنے کی اطلاع ملی اور ساتھ ہی ہم نے دیکھا کہ سینکڑوں کی تعداد میں زخمیوں نے دور دراز کے علاقوں سے بالاکوٹ پہنچنا شروع کیا۔ وقت پر امداد نہ پہنچنے کی وجہ سے ان میں سے کئی ایک کے زخم سڑنے لگے تھے اور گینگرین کے خدشے کی وجہ سے ڈاکٹروں کو ہاتھ یا پاؤں کاٹنے پڑے۔

اب مرنے والوں کی تعداد کے ساتھ ساتھ معذوروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا تھا۔ جس وقت ہم بالاکوٹ سے واپس لوٹ رہے تھے تو صورت حال یہ تھی کہ ملک بھر سے رضاکار امدادی سامان لے کر وہاں پہنچ رہے تھے اور شدید زخمیوں کو ایمبولینس اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے ایبٹ آباد اور روالپنڈی بھیجا جا رہا تھا۔

اس کے ساتھ ہی اب کچھ لوگوں میں زلزلے کی وجوہات پہ گفتگو شروع ہو گئی تھی۔ اور اس میں متاثرین سے زیادہ دوسرے لوگ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے دکھائی دیئے۔ کچھ مقامی مذہبی رہنما اسے اللہ کا قہر قرار دے رہے تھے تو چند ایک اسے قدرت کا امتحان۔

لیکن رضاکاروں میں ایسے کئی اور لوگ بھی تھے کہ جن کا اصرار تھا کہ اللہ کے قہر کا نشانہ بچے اور دیگر مظلوم اور معصوم لوگ نہیں ہوا کرتے۔ اُنکے خیال میں یہ محض متاثر ہونے والوں کی بدقسمتی تھی کہ وہ زلزلے وقت اُس علاقے میں تھے۔

وجہ جو بھی رہی ہو، ایک بات واضح نظر آئی کے متاثرین کو اس بحث سے کوئی غرض نہ تھی۔ اُنہیں تو اپنے عزیزوں کی تدفین اور بچ جانے والوں کو محفوظ مقام پر پہنچانے سے فرصت نہ تھی۔

حکومت کے دعوے اپنی جگہ، لیکن آج دو ماہ گزر جانے پر بھی تیس لاکھ متاثرین میں سے بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنہیں مستقبل قریب میں بحالی کے لیے امید کی کوئی کِرن دکھائی نہیں دیتی۔

66امدادی ترجیحات
’تیرہ لاکھ افراد کو خوراک پہنچانا باقی‘
66زلزلہ اور تبلیغ
زلزلے والے علاقوں میں مذہبی جماعتوں کی تبلیغ
66بے رحم سردی آگئی
زلزلہ زدگان اور امدادی ادارے وقت سے ہار گئے
اسی بارے میں
آڈیو، ویڈیو زلزلہ
08 December, 2005 | پاکستان
خیمے میں آگ، 7 افراد ہلاک
07 December, 2005 | پاکستان
مانسہرہ میں روزانہ دو اموات
02 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد