BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 December, 2005, 15:43 GMT 20:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الائی: گڑگڑاہٹ، دھماکے اور جھٹکے

الائی
اب بھی پہاڑوں میں گڑگڑاہٹ، دھماکوں اور زلزلے کے جھٹکوں کا سلسلہ جاری ہے اور لوگ خوفزدہ ہیں
پاکستان میں آٹھ اکتوبر کے زلزلے کو سات ہفتے ہوچکے لیکن صوبہ سرحد کے ضلع بٹ گرام کی تحصیل الائی میں اب بھی پہاڑوں میں گڑگڑاہٹ، دھماکوں اور زلزلے کے جھٹکوں کا سلسلہ جاری ہے اور لوگ خوفزدہ ہیں۔

بٹیلہ وادی کے رہائشی نصیر شاہ نے بتایا کہ جب پہلے زلزلہ آیا تھا یا چند روز بعد تک جو جھٹکے آتے رہے اس دوران کوئی دھماکہ وغیرہ نہیں ہوتا تھا لیکن ان کے مطابق گزشتہ کئی روز سے پہلے دھماکہ ہوتا ہے اور پھر ایک لہر سی زمین کے نیچے دوڑتی ہے اور پھر جھٹکh آتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زمینی گڑگڑاہٹ، دھماکوں اور جھٹکوں سے لوگ خوفزدہ ہیں کہ کہیں دوبارہ بڑا زلزلہ تو نہیں آنے والا یا پھر پہاڑ تو نہیں پھٹیں گے۔ ان کے مطابق جب بھی دھماکہ ہوتا ہے تو بچے چیخنے لگتے ہیں۔

واضح رہے کہ چند ہفتے قبل جب یہاں کے پہاڑوں سے دھواں نکلنے اور بو آنے کی خبریں شائع ہوئیں تھیں تو حکومت نے تین تحقیقاتی ٹیمیں بھیجیں اور انہوں نے صورتحال کو تسلی بخش قرار دے دیا۔

لیکن اس علاقے میں امدادی کاموں کے انچارج کرنل ذکیر عباسی کے مطابق تینوں ٹیمیں پہاڑوں کی چوٹیوں اور اصل جگہوں پر گئی ہی نہیں تھیں۔

ان کے مطابق دو تحقیقاتی ٹیمیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے فضائی جائزہ لے کر چلی گئی تھیں جبکہ ایک ٹیم ڈاکٹر فضل ربی کی سربراہی میں آئی اور وہ کچھ حد تک پہاڑوں پر گئی اور مٹی اور پانی کے نمونے لے کر واپس گئی۔

کرنل کے مطابق فضل ربی کی ٹیم بھی پہاڑوں کے اوپر نہیں گئی تھی کیونکہ وہ بوڑھے آدمی ہیں اور اوپر جانے کے لیے ان کے پاس ضروری انتظامات اور آلات بھی نہیں تھے۔

کرنل ذکیر احمد نے بتایا کہ روزانہ اوسطا پندرہ دھماکے ہوتے ہیں اور پھر جھٹکے آتے ہیں۔ البتہ ان کے مطابق ان کی شدت کبھی کم تو کبھی زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ کئی ایسے جھٹکوں سے ایسے مکان جو آٹھ اکتوبر کے زلزلے سے کمزور ہوئے تھے یا جزوی طور پر تباہ ہوئے تھے وہ گر چکے ہیں۔

انہوں نے الائی میں اس طرح کی صورتحال کو غیر معمولی قرار دیا اور کہا کہ ان پہاڑوں کے نیچے ہونے والی سرگرمیوں کے متعلق تفصیلی ’سٹڈی‘ کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں
آلائی کا المیہ
31 October, 2005 | پاکستان
الائی کا کیا ہوگا؟
25 October, 2005 | پاکستان
’لوگ گھاس کھا رہے ہیں‘
12 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد