’الائی انخلاء کا منصوبہ تیار‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بٹگرام، الائی، بشام اور کوہستان کے علاقے میں ریلیف آپریشن کے انچارج برگیڈیر خالد محمود نے بتایا ہے کہ کسی ہنگامی صورتحال میں الائی سے لوگوں کے فوری انخلاء کا منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی الائی سے آبادی کو سے نکالنے کا فیصلہ ارضیاتی ماہرین کی ٹیم کی رپورٹ پر کیا جائے گا۔ برگیڈیر خالد محمود نے بتایا کہ انہوں نے الائی میں نظر آنے والے دھواں اور مسلسل جھٹکوں کے بارے میں آرمی ہیڈ کواٹر کو اطلاع کر دی ہے ۔ انہوں نے کہ اعلی حکام نے ارضیاتی ماہرین کی ٹیم الائی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جو علاقے میں آتش فشانی کیفت کے بارے میں رپورٹ مرتب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ارضیاتی ٹیم کی رپورٹ کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ کیا لوگوں سے وہاں سے نکالا جانا ضروری ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر لوگوں کو علاقے سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا تو اس کے لیے منصوبہ تیار ہے۔ اس منصوبے کے مطابق عورتوں اور بچوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے وہاں سے نکالا جائے گا جبکہ مردوں کو وہاں سے پیدل باہر نکلنا پڑے گا۔ برگیڈیر خالد محمود نے کہا وادی الائی سے انخلاء کی صورت میں مردوں کو وہاں سے چل کر ایسی جگہ پر آنا پڑے گا جہاں سے ان کو گاڑیوں یا ہیلی کاپٹروں کے ذریعے محفوظ مقامات تک پہنچایا جا سکے۔ امدادی سامان ہیلی کاپٹروں سے گرارنے کے بارے میں شکایت پر برگیڈیر خالد محمود نے کہا کہ امریکی ہیلی کاپٹر شنوک کے لیے ہیلی پیڈز بنا دیئے گئے ہیں اور ان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ سامان ان ہیلی پیڈ تک پہنچائیں۔ مقامی لوگوں نے شکایت کی ہے کہ شنوک ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سامان پہاڑوں پر گرا دیا جاتا ہے جس سے سامان ضائع ہو جاتا ہے اور ضرورت مندوں تک پہنچ نہیں پاتا۔ |
اسی بارے میں بٹگرام: ’وادی الائی میں پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں‘24 October, 2005 | پاکستان الائی کا کیا ہوگا؟25 October, 2005 | پاکستان ماہرین ارضیات الائی پہنچ گئے25 October, 2005 | پاکستان ’غریب امدادی سامان سے محروم‘25 October, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||