ارکانِ اسمبلی زلزلے کو بھول گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی نے چوتھے پارلیمانی سال کا آغاز کر لیا ہے اور تیسویں سیشن کے دو روز کی کارروائی کے دوران تین سو بیالیس اراکین کے ایوان میں سے کسی نے زلزلے کے متعلق کوئی بات نہیں کی۔ ایسا لگ رہا ہے کہ تین سو بیالیس اراکین کے اس ایوان میں بیٹھنے والے عوام کے نمائندے اب آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے اور اس سے ہونے والی تباہی کو بھول رہے ہیں۔ اس زلزلے میں مرنے والے اسی ہزار کے قریب لوگ اور اس سے زیادہ زخمی ہونے والے افراد کے شاید ابھی زخم بھی نہ بھرے ہوں اور حالیہ شدید سردی کی وجہ سے ان کی مصیبتوں اور مشکلات میں بھی کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود کسی رکن پارلیمان نے کوئی آواز نہیں اٹھائی۔ زلزلے سے متاثرہ کشمیر کے تین اضلاعت مظفرآباد، باغ اور راولا کوٹ جبکہ صوبہ سرحد کے پانچ اضلاع، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹ گرام، شانگلا اور کوہستان کے تیس لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ہزاروں افراد اب بھی خیموں میں زندگی بسر کر رہے ہیں جہاں ان کے بچے اور خواتین زندگی کے مشکل ترین حالات سے گزر رہے ہیں لیکن اس بارے میں دو روز تک کسی رکن اسمبلی نے توجہ نہیں دی۔ آٹھ اکتوبر کے زلزلے کی تباہی کے بعد توقعات تھیں کہ سیاسی جماعتیں متاثرہ علاقوں میں جائیں گی اور وہاں کیمپ لگائیں گی جہاں ان کے اراکین پارلیمان مصیبت زدہ افراد کو دلاسہ دیں گے۔ لیکن حکومتی اتحاد میں شامل جماعتیں ہوں چاہے حزب مخالف کی ، انہوں نے شروع میں تو کچھ امدادی اشیاء کے ٹرک متاثرہ علاقوں میں بھیجے اور سامان بانٹ کر تصویریں بنوائیں لیکن اب ان علاقوں میں نہ ان کے کیمپ ہیں اور نہ ہی ان کے کارکن۔ ہاں البتہ کچھ علاقوں میں بینظیر بھٹو، میاں نواز شریف، الطاف حسین، چودھری شجاعت حسین، مولانا فضل الرحمٰن، قاضی حسین احمد اور عمران خان کی تصاویر یا ان کی جماعتوں کے بینر اور پوسٹرز کے نشانات ضرور ملتے ہیں۔ | اسی بارے میں ’سردی بہت ہے اور کیا بتائیں‘05 December, 2005 | پاکستان ’خوراک کی فراہمی رک سکتی ہے‘03 December, 2005 | پاکستان ’ڈیڑھ لاکھ افراد کو رہائش میسر‘02 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||