آڈیو، ویڈیو زلزلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’صفائی کا مرحلہ شروع ہوچکا ہے۔‘ ’ہائے ہائے۔ایک چھوٹا سا پہاڑ ہلا تو برداشت نہیں ہورہا۔ ساری زمین ہلنے لگی تو کیا ہوگا۔ اگر ہم پہلی امتوں میں سے ہوتے تو ساری زمین میں زلزلہ آچکا ہوتا۔یہ تو اللہ کے نبی کی دعا ہے جوبیچ میں آ کر کھڑی ہوجاتی ہے اور ساری زمین نہیں ہلتی۔ورنہ یہاں وہ سب کچھ ہورہا ہے جو پہلی امتیں کرتی تھیں۔ گانے والیاں معزز و محترم۔ انہیں ایوارڈ دیے جارہے ہیں۔ جن کے سبب زلزلہ آیا انہیں ثقافت کا امین بتایا جارہاہے۔ ہرطرف گانا بجانا۔گاڑیوں میں، ویگنوں اور بسوں میں ہرطرف موسیقی ہی موسیقی۔ٹریکٹر والے بھی بڑے بڑے اسپیکر لگا کر ساری وادی کو ناپاک کرتے پھر رہے ہیں۔ یہ سب ہوگا تو کیا ہوگا۔ زمین تم پر کپکپا جائےگی۔ پہاڑ ہلنے لگیں گے۔ پتھروں کی بارش ہوگی۔ زمین میں دھنسائے جاؤگے۔ اوپر نیچے، نیچے اوپر ایسے خوفناک عذاب کی شکلیں قائم ہوں گی جیسے تسبیح کے دانے ٹپ ٹپ ٹپ ٹپ گرنے لگیں۔ یہاں تک کہ یہ توبہ کریں یا پھر دھرتی سے مٹا دئیے جائیں۔
یہ اقتباس مولانا طارق جمیل کی ایک تقریر کا ہے جن کی دو کیسٹوں نے اس وقت زلزلہ زدہ علاقوں کی ہر پان شاپ اور کیسٹوں کی دوکان کو لرزہ براندام کررکھا ہے اور اسے خریدنے والے ان دوکانوں پر تسبیح کے دانوں کی طرح ٹپ ٹپ گر رہے ہیں۔ دو مزید کیسٹیں پشتو سامعین کے لیے ہیں جن میں مولانا احسان فاروقی زلزلے سے تباہی پر نوحہ کناں ہیں۔ راغلے زلزلے کرو نوران شل لیکن سب سے زیادہ ہاٹ فیورٹ نوشین سمیرا کہ ماہیوں اور ٹپوں کی کیسٹ ہے۔کیونکہ اس میں موسیقی کے سہارے لوگوں کو عبرت دلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ عبرت دامقام چنا جب زلزلہ نہیں آیا تھا تب بھی نوشین سمیرا کا والیم ’کنگیاں مانسہرے دیاں‘ نمبر ون ہٹ تھا اور آج بھی وہ مولانا طارق جمیل اور مولانا احسان فاروقی سے آگے ہیں۔ مانسہرہ کی نوری پان شاپ کے مالک نے بتایا کہ اگرچہ وہ کیسٹوں کا جزوقتی کاروبار کرتے ہیں لیکن پھر بھی روزانہ کوئی ڈیڑھ سو گاہک ان سے یہ کیسٹیں لے جاتے ہیں اور پچھلے میں وہ پانچ ہزار سے زیادہ کیسٹیں بیچ چکے ہیں۔ مانسہرہ شہر میں کیسٹوں کی کم ازکم بیس دوکانیں ہیں۔اس اعتبار سے ان دوکانوں سے اب تک کوئی ایک لاکھ کیسٹیس تو بک چکی ہوں گی۔دوکاندار کو یہ کیسٹ پچیس روپے میں پڑتی ہے اور وہ اسے پینتیس روپے میں فروخت کررہے ہیں۔ بالاکوٹ میں چونکہ کوئی کیسٹ شاپ نہیں بچی اس لیے وہاں کے متاثرین اسے خریدنے کے لیے مانسہرہ آتے ہیں۔ زلزلہ آڈیو بزنس کی اس کامیابی کو دیکھتے ہوئے وڈیو والے بھی میدان میں کود پڑے ہیں۔ ایک بینر پر لکھا ہوا تھا اگلے دن یہ بینر نظر نہیں آیا۔ایک دوکاندار نے بتایا رات کو کسی تنظیم کے لوگ اتار کر لے گئے۔ | اسی بارے میں امدادی کام کے ساتھ عقائد کی تبلیغ24 November, 2005 | پاکستان کیا خدا اب بھی ان سے ناراض ہے؟05 November, 2005 | پاکستان زلزلہ: خدا کا قہر یا آزمائش؟05 November, 2005 | پاکستان خیموں میں سردی کا عذاب30 November, 2005 | پاکستان یہ ایک مہینہ08 November, 2005 | پاکستان زلزلے کو1ماہ: شہر ملبے کےڈھیر 08 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||