زلزلہ: دو ماہ بعد بھی وہی حال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے کو آج دو ماہ گزر چکے ہیں مگر متاثرین کی زندگی میں صرف یہ فرق پڑا ہے کہ وہ زلزلے میں مر جانے والے اپنوں کے غم سے نکل کر اب خود کو شدید سردی اور برفباری سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بیشتر علاقوں میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے گر چکا ہے۔ وقتی امداد جس میں موسمی شدت سے بچنے کے لئے غیر موزوں خیمے، ادویات اور خوراک تو بڑی مقدار میں ان علاقوں میں پہنچ چکی ہے مگر پینتیس لاکھ بے گھر لوگوں کے لئے گرم کمرہ اور اپنا گھر اب بھی ایک ایسے خواب کی مانند ہے جس کو پورا ہونے میں شائد سالوں لگ جائیں۔ حکومت کے اعداد وشمار کے مطابق اب تک پانچ ہزار فٹ سے زائد بلندی والے علاقوں میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد لوگوں کے لئے حکومت اور ملکی و غیر ملکی امدادی ایجنسیوں نے سینتیس ہزار سے زائد ایک کمروں والے گھر بنا لئے ہیں۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اور صوبہ سرحد میں سترہ خیمہ بستیاں بنائی گئی ہیں۔ اسی طرح کشمیر میں بیس جبکہ سرحد میں گیارہ خیمہ سکول قائم کئے گئے ہیں تاکہ ان ہزاروں بچوں کو معمول کی زندگی کی طرف لایا جا سکے جن کے ننھے دماغ ابھی یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان کے والدین، رشتہ دار، ہم جماعت اور بہن بھائی کہاں چلے گئے۔ جانی نقصان کے علاوہ جن کے گھر منہدم ہوئے ہیں وہ بھی حکومت کی طرف سے عطا کردہ پچیس ہزار روپے کی قلیل رقم لئے سوچ رہے ہیں کہ انہیں کھانے پینے اور روز مرہ ضروریات پر خرچ کریں یا اس گھر کے ملبے کو اٹھوانے پر خرچ کریں کہ جس کے ہٹے بغیر ان کے گھر دوبارہ تعمیر نہیں ہو سکتے۔ بین الاقوامی دنیا کے چھ ارب ڈالر سے زائد کے وعدوں میں سے ابھی تک اس کا اعشاریہ ایک فیصد ہی موصول ہو پایا ہے۔ جیسے جیسے ان علاقوں سے امدادی ٹیمیں اور رضا کار اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں ویسے ہی اندیشے زلزلہ کے متاثرین کو ڈستے جا رہے ہیں کہ ان کو مصیبت میں کہیں اکیلا تو نہیں چھوڑا جا رہا؟ ان علاقوں میں نوے فیصد سے زائد سڑکیں تو کھل گئی ہیں مگر پچیس فیصد علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی ابھی تک موجود نہیں ہے۔اسی طرح تیس فیصد متاثرہ علاقے ابھی تک بجلی سے محروم ہیں۔ زلزلے کے دو ہفتے بعد وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ متاثرین کو وہ خیمے دیے جائیں گے جن میں بجلی، گرم رکھنے کا انتظام اور ایسی سہولیات ہوں گی جو بیرونی ممالک میں ہوتی ہیں۔
ان کے بیان کو اب ڈیڑھ ماہ سے زائد گزر چکا ہے مگر ایسی خیمہ بستیاں شائد متاثرین کو خوابوں میں بھی نہیں ملیں گی۔ مانسہرہ کے علاقے میں موم بتی سے خیمے میں آتشزدگی سے ہونے والی ہلاکتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کے خیمے میں کیا جل رہا ہے۔ وفاقی وزیر مملکت برائے ماحولیات ملک امین اسلم نے بھی کہا تھا کہ متاثرین کو خیموں میں گیس کی سپلائی دی جائے گی اور محفوظ چولہے فراہم کئے جائیں گے۔ مگر یہ کب ہو گا اس کے بارے میں وہ کچھ کہنے سے قاصر ہیں۔ فوج کی تین انجینیئرنگ بریگیڈز لوگوں کے لئے عارضی پناہ گاہیں بنا رہی ہیں مگر جس رفتار سے کام ہو رہا ہے اس سے تو یہی لگتا ہے کہ پچیس فیصد متاثرین کو بھی اس سردی میں گرم پناہ گاہیں میسر نہیں آ سکیں گی۔ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ملبہ ہٹانے کا کام بھی سست روی سے جاری ہے۔ ذرائع ابلاغ کے لیے بھی شائد اب زلزلے کی ’سٹوریوں’ میں کشش باقی نہیں رہی اسی لئے ملکی اور بین الاقوامی اخبارات میں اس کا تذکرہ کم سے کم تر ہوتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی بین الاقوامی ادارے اگر سردی یا برفباری کے حوالے سے اموات کا خدشہ ظاہر کرتے ہیں تو فوجی حکام جو اس سارے امدادی آپریشن کے انچارج ہیں، وہ اس خدشے کو اہمیت دینے کے بجائے کہتے ہیں کہ حالات کنٹرول میں ہیں۔ اسلام آباد یا ملک کے کسی بڑے شہر میں گرم کمروں میں بیٹھنے والے افراد کے لیے شائد حالات واقعی قابو میں ہوں گے مگر ان بچوں،خواتین اور بوڑھوں کا کیا کہیے جو کوئلہ کی انگیٹھی کے لئے امدادی کارکنوں کے پیچھے بھاگتے ہیں اور ناکام گھر لوٹ کر اسی موم بتی پر ہاتھ گرم کرتے ہیں جو ابتک دس سے زائد متاثرین کے آشیانوں کو جلا چکی ہے۔ |
اسی بارے میں ’بحالی کی امید کی کوئی کِرن نہیں‘08 December, 2005 | پاکستان کراچی میں زلزلہ زدگان کے لیے مظاہرہ08 December, 2005 | پاکستان ’ کھانے کی قطاروں میں دن گزر جاتا ہے‘08 December, 2005 | پاکستان کپڑے: اسمبلی ملازمین کےمزے 08 December, 2005 | پاکستان آڈیو، ویڈیو زلزلہ08 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||