کراچی میں زلزلہ زدگان کے لیے مظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں انسانی حقوق اور حقوق نسوان کی تنظیموں نے لاہور کے میو ہسپتال میں زلزلے سے متاثرہ لڑکی سے زیادتی کے واقعے کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ عورتوں اور بچوں کے تحفظ کے لیے فوری طور پر خصوصی انتظامات کئے جائیں۔ زلزلے کے سانحے کو دو ماہ مکمل ہونے پر متاثرین سے یک جہتی کے اظہار کے لیے جمعرات کی شب انسانی حقوق کی تنظیموں نے کراچی میں ایک ریلی نکالی جس کے شرکا نے ہاتھوں میں موم بتیاں اٹھائی ہوئی تھیں۔ ریلی میں انسانی حقوق اور حقوق نسوان کی تنظیموں کے رہنما ہلڈا سعید، ناہید سعید، عطیہ داؤد، حسن پٹھان، آدم ملک اور جاوید برکی نے شرکت کی۔ اس ریلی کے اختتام پر جاری کئے گئے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آٹھ کتوبر کے بعد سے عورتوں کے ساتھ زیادتی اور اغوا کی وارداتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت میو ہسپتال کے واقعہ کی نہ صرف غیر جانبدرانہ تحقیقات کرے بلکہ کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں متاثرہ خواتین اور بچوں کی زندگی اور تحفظ کے لیے موثر اقدمات کئے جائیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بے گھر اور بے سہارا عورتوں کی آبادکاری کے لیے جائیداد کی مشترکہ ملکیت کے طریقۂ کار کو یقینی بنایا جائے تاکہ حکومت کی جانب سے اراضی کی تقسیم اور آبادکاری کے امور میں میاں بیوی کے نام شامل کیے جاسکیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ متاثرین بالخصوص خواتین میں مالی امداد کی منصفانہ تقسیم اور بحالی کے فیصلوں میں مقامی لوگوں اور خواتین کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔ ریلی میں زلزلے سے متاثرین دس خواتین اور بچوں نے بھی شرکت کی جو کراچی میں اپنے رشتہ داروں کے پاس رہائش پذیر ہیں۔ |
اسی بارے میں ’بحالی کی امید کی کوئی کِرن نہیں‘08 December, 2005 | پاکستان کپڑے: اسمبلی ملازمین کےمزے 08 December, 2005 | پاکستان ریپ کیس، ملزم ڈاکٹر گرفتار07 December, 2005 | پاکستان زلزلہ زدگان وارڈ میں لڑکی کا ریپ06 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||