کپڑے: اسمبلی ملازمین کےمزے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں زلزلہ زدگان کے لیے گرم کپڑوں کا ایک ٹرک متاثرہ علاقوں کے بجائے پارلیمینٹ کی کار پارکنگ میں خالی کیا گیا ہے اور امدادی کپڑے متاثرین کے بجائے سرکاری ملازمین نے اٹھالیے ہیں۔ جمعرات کو پارلیمینٹ کی کار پارکنگ میں ان گرم کپڑوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا اور ان استعمال شدہ کپڑوں سے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے کئی ملازمین اپنی پسند کی چیزیں تلاش کرتے نظر آئے۔ دو ملازمین نے ان کپڑوں کی بوریاں بھری ہوئیں تھیں جبکہ کچھ نے گٹھڑیاں باندھی ہوئیں تھیں اور اپنے گھر لے جارہے تھے۔ ان سے جب پوچھا کہ یہ زلزلہ زدگان کا امدادی سامان ہے اور وہ کیوں لے رہے ہیں تو محمد امین نے کہا کہ ’ہم بھی غریب ہیں اور ہمارا بھی حق ہے‘۔
بوریاں بھر کر جانے والوں نے تصویر بنانے سے روکا۔ انہوں نے نام بتانے سے بھی گریز کیا اور شرماتے ہوئے بوری کندھے پر اٹھائی اور چل دیے۔ زلزلہ زدگان کے لیے لائے گئے گرم کپڑوں کے اس ڈھیر سے جب مختلف ملازمین کپڑے چن رہے تھے اور کچھ لوگ کپڑے لے جا رہے تھے تو اس وقت قریب میں دو پولیس اہلکار بھی موجود تھے جو کار پارکنگ میں ڈیوٹی کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے لوگ جو مختلف خیمہ کیمپوں میں مقیم ہیں وہ ان دنوں سخت سردی سے خاصے پریشان ہیں۔ زلزلہ زدگان کے لیے جمع کیے گئے گرم کپڑے پارلیمان کی کار پارکنگ میں اتارنے اور متاثرین کے بجائے ملازمین کی طرف سے لے جانا امدادی سامان کے غلط استعمال کی اپنی نوعیت کی انوکھی مثال ہے۔ | اسی بارے میں زلزلہ زخمیوں کا علاج امارات میں18 October, 2005 | پاکستان 'زلزلہ سے بحالی: دہائی لگ سکتی ہے' 15 October, 2005 | پاکستان زلزلہ: عمارتیں، انکوائری کا مطالبہ15 October, 2005 | پاکستان زلزلہ: مرنے والوں کی تعداد 8700008 November, 2005 | پاکستان زلزلہ: متاثرین امداد کے منتظر08 November, 2005 | پاکستان زلزلہ سے میڈیا بری طرح متاثر16 November, 2005 | پاکستان زلزلہ زدگان وارڈ میں لڑکی کا ریپ06 December, 2005 | پاکستان آڈیو، ویڈیو زلزلہ08 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||