ریپ کیس، ملزم ڈاکٹر گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میو ہسپتال لاہور کے زلزلہ زدگان وارڈ میں کشمیری لڑکی سے مبینہ زیادتی کے ملزم ڈاکٹر مقصود کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ وزیر اعلی پنجاب نے اس ہسپتال کےمیڈیکل سپرنٹنٹڈنٹ کو معطل کر دیا ہے۔ وزیراعلی کی معائنہ ٹیم، پولیس اور محکمہ صحت کی الگ الگ ٹیمیں انکوائری کر رہی ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف کی خواتین اراکینِ اسمبلی نے اس واقعہ کے خلاف تحریک التوائے کارجمع کر دی ہے۔ تھانہ گوالمنڈی میں پہلے ہی اس واقعہ پر حدود آرڈیننس کے تحت مقدمہ درج کیا جاچکا ہے۔ مظفرآباد کی بیس سالہ لڑکی میو ہسپتال میں قائم زلزلہ زدگان وارڈ میں داخل تھی اور اس نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے ساتھ اسی ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے زیادتی کی ہے۔ پولیس نے منگل اور بدھ کی درمیانی رات ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے تھے ۔ بدھ کو اپنی معطلی سے پہلے میو ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر فیاض رانجھا نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں بتایا کہ انہوں نے ملزم کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ہسپتال کی ایک پانچ رکنی ٹیم نے اس واقعہ کی دو روز تک تحقیقات کی ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے دو روز تک پولیس کو جنسی زیادتی کے اس کیس کی رپورٹ کیوں نہیں کی تو میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے جواب دیا کہ وہ زیادتی نہیں بلکہ صرف نرس کی اس رپورٹ پر انکوائری کر رہے تھے کہ لڑکی ڈیڑھ گھنٹے تک اپنے بستر سے غائب کیوں رہی تھی۔ ان کے بقول زیادتی کا الزام کل رات لگایا گیا جس کے بعد انہوں نے معاملہ فوری پولیس کے حوالے کر دیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کی اب تک کی تحقیقات کےمطابق لڑکی سے زیادتی نہیں کی گئی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ جلد معاملات منظر عام پر آجائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ زخمی ہونے کے باوجود لڑکی ہپستال چھوڑکر جاچکی ہے اور ان کے بقول انہیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہوگی۔ پریس کانفرنس میں وزیراعلی پنجاب کی مشیر برائے سماجی بہبود صبا صادق بھی موجود تھیں اور انہوں نے لڑکی کے غائب ہونے پر ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ حکومت کی طرف سے اس معاملے کی تحقیقات کرنے آئی تھیں لیکن انہیں بھی لڑکی سے نہیں ملنے دیا گیا۔ انہوں نے ہسپتال کے اس وارڈ کا معائنہ کیا جہاں لڑکی سے زیادتی کی گئی تھی۔ پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی پارلینمٹرینز کی دو اراکین اسمبلی فائزہ احمد، عظمیٰ بخاری اور عورت فاؤنڈیشن کی عظمیٰ سعید نے بھی میو ہسپتال کا دورہ کیا۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایاکہ انہیں حکومت کی بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی پر کوئی اعتماد نہیں ہے کیونکہ اس میں ان کے احتجاج کے باوجود اپوزیشن کے اراکین اسمبلی کو شامل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے اور وہ اس مظلوم لڑکی کو انصاف دلوانے کے لیے ہرممکن طریقہ اختیار کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس لڑکی کو جبراً ہسپتال سے ڈسچارج کیا گیا ہے اور اسے جان بوجھ کر پریس اور اپوزیشن اراکین سے دور رکھا جارہا ہے کیونکہ ان کے بقول حکومت اس معاملے کو دبانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین دن گزر گئے ہیں لیکن لڑکی کا طبی ملاحظہ نہیں کرایا گیا۔ ان کےبقول جان بوجھ کر ایسے حربے استعمال کیے جارہے ہیں جس سے اس سنگین جرم کی شہادتیں ضائع ہوجائیں۔ صوبائی وزیر صحت نے کہا ہے کہ لاہور کے سرکاری ہسپتالوں میں جہاں جہاں بھی کشمیری زلزلہ زدگان داخل ہیں وہاں پولیس کی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور میں اس وقت ساڑھے پانچ سے چھ سو کے قریب کشمیری زیر علاج ہیں اور ان کی حفاظت کے خصوصی بندوبست کر دئیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ انکوائری رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔ محکمہ صحت کی جانب سے جاری کر دہ ایک پریس ریلز کے مطابق مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی اٹھارہ اکتوبر کو لاہور کے میو ہسپتال میں قائم کردہ خصوصی زلزلہ زدگان وارڈ میں داخل کی گئی تھی اور اب سے تین روز پہلے اس سے مبینہ جنسی زیادتی کی گئی۔ | اسی بارے میں زلزلہ زدگان وارڈ میں لڑکی کا ریپ06 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||