BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ کھانے کی قطاروں میں دن گزر جاتا ہے‘

کھانے کے لیے قطاریں
حویلیاں کے قریب بانڈہ صاحب شاہ کے مقام پر زلزلہ متاثرین کو کیمپوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور بظاہر ان کے دو کا زیادہ تر وقت قطاروں میں گزر جاتا ہے۔

متاثرین کو تین بار ناشتہ اور کھانوں کے لیے قطار میں لگنا پڑتا ہے اور یہی ان کی واحد مصروفیت ہے۔

کیمپ میں صبح گیارہ بجے سے دو مقامات پر تین لمبی لمبی قطاریں لگنا شروع ہوجاتی ہیں۔ ایک تندور اور دو باورچی خانے کے باہر۔ باورچی خانے کے باہر مردوں اور عورتوں کی الگ الگ قطاریں دیکھنے کو ملتی ہیں۔

پانچ ہزار سے زائد آبادی والے اس کیمپ میں دوپہر کے کھانے کے لیے یہ قطاریں تین چار بجے تک لگی رہتی ہیں۔ اس کے بعد متاثرین جن میں اکثریت بچوں کی ہوتی ہے پانچ بجے سے رات کے کھانے کے لیے لائن میں لگ جاتے ہیں۔ صبح ناشتہ کے لیے بھی یہی عمل دوہرایا جاتا ہے۔ یوں اس کیمپ کے باسیوں کو گزشتہ ایک ماہ سے کھانا بڑی مشکل سے ملتا ہے۔ کھانے کا معیار ایک الگ مسئلہ ہے۔

آٹھ اکتوبر کے زلزلہ متاثرین کے لیے یوں تو صوبہ سرحد میں جگہ جگہ خیمہ بستیاں بسائی گئی ہیں جنہیں مختلف امدادی تنظیمیں چلا رہی ہیں۔ تاہم سرحد حکومت بھی ایک کیمپ حویلیاں کے قریب چلا رہی ہے۔ بانڈہ صاحب خان نامی اس واحد سرکاری کیمپ کے دورے کے دوران متاثرین نے جن دو چیزوں کے بارے میں زیادہ شکایت کی ان میں ایک کھانے کا معیار اور اس کا طریقہِ تقسیم اور دوسرا صفائی کی صورتحال۔

بانڈہ صاحب خان میں صوبہ سرحد کے متاثرہ علاقوں کے علاوہ کشمیر سے بھی بڑی تعداد میں متاثرین آئے ہیں۔ پہاڑ کے دامن میں قائم یہ خیمہ بستی اب کافی پھیل چکی ہے۔ لیکن کھانے کے لیے ایک ہی لنگر قائم ہے جہاں سے ایک وقت کے کھانے کا انتظام صوبائی حکومت جبکہ دوسرے وقت ایک غیرسرکاری تنظیم کھانا مہیا کرتی ہے۔

اس سے قبل کھانا ٹھیکیداری نظام پر مہیا کیا جاتا تھا لیکن متاثرین کے احتجاج کے بعد یہ نظام ختم کر دیا گیا۔ تاہم نئے نظام سے بھی صورتحال زیادہ تبدیل نہیں ہوئی۔

مظفرآباد کی خاتون رخسانہ نے شکایت کی کہ انہیں گھنٹوں دھکے کھانے کے بعد کھانا ملتا ہے۔ ’اکثر رات کو اتنی دیر ہوجاتی ہے کہ میرے بچے بھوکے سو جاتے ہیں۔یہ تو کوئی طریقہ نہیں۔‘

کیمپ کے دورے کے دوران کھانے کے بارے میں ہر شخص نے شکایت کی۔ ضلع باغ کے خوشی محمد نے کہا کہ سات آٹھ روز سے مسلسل دال ہی کھانے کو مل رہی ہے۔ ’دال میں بھی پینے کا زیادہ اور کھانے کا کم ہوتا ہے۔‘ تاہم اس روز شلغم گوشت تقسیم کیا جا رہا تھا۔

دوسری جانب کیمپ میں رضاکارانہ طور پر بچیوں کو قرآن پڑھانے کے لیے آنے والی حویلیاں کی ایک نقاب پوش خاتون طاہرہ نے کہا کہ اکثر کھانے کے لیے بچوں کو بھیجا جاتا ہے جو اکثر کھانا گرا دیتے ہیں۔’میں نے انہیں کئی مرتبہ کہا کہ یہ راستے ہموار کرا دیں، میں پیسے دیتی ہوں لیکن یہاں کوئی نہیں سنتا۔ پھر اس سردی میں بچے جب آہستہ آہستہ کھانا لیکر خیمے میں پہنچتے ہیں تو وہ ٹھنڈا ہوچکا ہوتا ہے۔‘

ساڑھے بارہ بجے کے قریب تندور پر پچاس افراد قطار میں کھڑے باری کا انتظار کر رہے تھے۔ حکومت کی جانب سے روٹیاں تقسیم کرنے والے شخص سے لمبی قطار کی وجہ دریافت کی گئی تو انہوں نے کہا کہ انشااللہ آئندہ چند روز میں تندور چار سے بارہ ہو جائیں گے تو معاملات درست ہوجائیں گے۔

تاہم تندور کے انچارج نے بتایا کہ یہ آٹا اور دالیں انہیں ورلڈ فوڈ پروگرام والے دے رہے ہیں لیکن اس آٹے کا معیار اتنا خراب ہے کہ کئی پکانے والے مزدور کام چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

تندور کے بعد باورچی خانے کا رخ کیا تو پونے ایک بجے ڈیڑھ سو افراد جن میں اکثریت برتن اٹھائے بچوں کی تھی قطار میں کھڑے نظر آئے۔ تیس عورتوں ایک الگ قطار میں کھڑی تھیں۔

چار بڑے پتیلوں کے سرہانے بیٹھے باروچی باری باری کھانا ڈال رہے تھے۔ وہیں پر ضلع رابطہ افسر کے نمائندے عنایت اللہ وسیم بھی موجود تھے جن کا کہنا تھا کہ متاثرین نے اپنی مرضی سے کمیٹیاں تشکیل دی ہوئی ہیں اور ان کمیٹیوں کے سربراہ آکر اپنے اراکین کے لیے کھانا لے جاسکتے ہیں لیکن وہ خود نہیں آتے اور پانچ ہزار افراد کو بھیج دیتے ہیں جس سے یہ لائنیں تو ضرور لگنی ہیں۔

کھانے کے علاوہ اس کیمپ میں صفائی کی صورتحال بھی کوئی زیادہ تسلی بخش نظر نہیں آئی۔ جگہ جگہ پانی کی بوتلیں، کارٹن اور دیگر گند پھیلا نظر آیا۔

پٹن کلاں مظفرآباد کے راشد نے کہا کہ خاکروب سرسری چکر لگا کر چلے جاتے ہیں اور سارا کچرہ کیمپ کے ایک کونے میں گرا دیتے ہیں۔ متاثرین کے لیے تعمیر کیے گئے غسل خانے بھی ان کا کہنا تھا گندے رہتے ہیں۔

ایک خاکروب محمد رمضان نے بتایا کہ ٹرالیوں کے حساب سے یہاں کچرا پیدا ہوتا ہے جو ان کے بشمول دس ساتھیوں کے لیے اکٹھا کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے شکایت کی کہ متاثرین جگہ جگہ گند پھینکتے ہیں جس سے اسے اکٹھا کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ان کی تجویز تھی کہ اگر اس مقصد کے لیے ڈرم رکھے جائیں تو بہتری آسکتی ہے۔

اس گفتگو کے دوران صفائی کے انچارج خانی زمان وہاں آگئے اور محمد رمضان کی افراد کی کمی کی بات کو مسترد کرتے ہوئے کہنے لگے کہ اس کیمپ کی صفائی کے لیے ان کے پاس تئیس خاکروب ہیں۔

ان سے پوچھا کہ صفائی کا انتظام اچھا نہیں تو انہوں نے کہا کہ’ایسی کوئی بات نہیں، کام ہی ہماری پہچان ہے اور اسی وجہ سے یہاں ہم آئے ہیں‘۔

صوبائی حکومت اس کیمپ کو افغان کمشنریٹ کے عملے سے چلانا چاہتی ہے جنہیں افغان پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کا کافی وسیع تجربہ ہے۔ اس کمشنریٹ کے سردار عبدالخالق نے کھانے اور صفائی سے متعلق شکایات کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ’صورتحال اتنی خراب نہیں جتنی آپ بتا رہے ہیں۔‘

تاہم انہوں نے کہا کہ کیمپ کی بڑھتی ہوئی آبادی کے حساب سے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

آٹھ اکتوبر کے زلزلے نے متاثرین کو ذہنی، جسمانی اور مالی نقصانات پہنچائے ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کی عزت نفس کو نقصان پہنچنے سے ہرصورت بچایا جائے۔

اسی بارے میں
زلزلہ:دوسرا بڑا چیلنج درپیش
07 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد