دو جھیلیں بن گئیں، ہزاروں کو خطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں زلزلے کے بعد ندیوں کے بند ہونے سے بننے والی دو جھیلوں سے دس ہزار افراد کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ ان نئی بننے والی جھیلوں کی گہرائی بیس میٹر اور چوڑائی ایک سو میٹر ہے۔ یہ جھیلیں ہٹیاں بالا کے قریب مٹی کے تودے گرنے سے بنی ہیں۔ مٹی کے تودوں سے دو ندیوں کا راستہ بند ہو گیا تھا۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا کہ مزید مٹی کے تودے گرنے اور شدید برفباری اور بارش کے خوفناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین ارضیات صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور وہ حکومت کو ممکنہ لائحہ عمل کے لیے اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔ | اسی بارے میں ماحولیاتی تنظیموں کا الرٹ09 November, 2005 | پاکستان مظفرآباد کے قریب ایک اور بس حادثہ14 November, 2005 | پاکستان ناران میں برفباری، نئی مصیبتیں25 November, 2005 | پاکستان ’کالاباغ ڈیم زلزلے کی زد میں‘ 29 October, 2005 | پاکستان شاہراہِ ریشم: تباہی اور نفسا نفسی 12 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||