’کالاباغ ڈیم زلزلے کی زد میں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ماہرین کے مطابق متنازعہ کالا باغ ڈیم بھی زلزلے کے مرکز کے نزدیک اور زلزلے کی زد میں ہے۔ ارضیات کے ماہرین نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے قبل فزیبلٹی رپورٹ پر نظر ثانی کی جائے۔ کراچی میں ادارو برائے بین الاقوامی امور پاکستان کی جانب سے زلزلے کے زد میں آئے ہوئے علاقے کے موضوع پر ہونے والے ایک سیمینار کو خطاب کرتے ہوئے جیولوجیکل سروے آف پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل حمزہ علی کاظمی نے بتایا کہ پاکستان میں کراچی اور کالا باغ سمیت بارہ مقامات زلزلے کی وجہ سے بہت حساس ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ علاقے بلوچستان میں ہیں ۔ ان علاقوں میں چمن، قلات، خاران، چاغی، وسطی مکران، مکران ساحلی اور سلیمان بگٹی شامل ہیں۔ اسی طرح چترال، کوہستان ہزارہ، اور اپر پنجاب بھی زلزلے کی زد میں ہیں۔ حمزہ علی کاظمی نے بتایا کہ کالاباغ ڈیم کی مجوزہ سائیٹ سے پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر زلزلے کا مین فالٹ ہے جبکہ پانچ کلومیٹر پر برانچ فالٹ ہے۔ یہ تصدیق شدہ ہے کہ یہ ایکٹو فالٹ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کالاباغ کے لیے مجوزہ علاقے کی زمین کے پچیس کلومیٹر نیچے نمک کی تہہ ہے۔ اگر اس سے کچھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تو پورا پہاڑ ہل سکتا ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس تہہ کی وجہ سے پانی نمکین تو نہیں ہوگا۔ مگر یہ تہہ اپنی جگہ سے کھسکی تو علاقے میں زلزلے آئیں یا نہ آئیں بڑے پیمانے پر لیڈ سلائیڈنگ یا تودے ضرور گر سکتے ہیں۔
جیولوجیکل سروے آف پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ کالا باغ ڈیم کی فزیبلٹی رپورٹ بنانے والوں کو اس کا علم نہیں تھا کیونکہ یہ حقائق حال ہی میں سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایک بڑے علاقے میں زلزلے کا خطرہ موجود ہے۔ ہم زلزلوں کو روک تو نہیں سکتے مگر ہمیں ان سے سیکھنا چاہیے اور نقصانات کم سے کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ حمزہ علی کاظمی نے تجویز دی کہ زلزلے کی زد میں آنے والے علاقوں میں سادہ گھروں کی تعمیر کی جائے۔ حساس علاقوں کی تحقیق اور اسٹڈی کی جائے اور ان علاقوں میں حساس آلات نصب کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیسمالاجسٹ اور زلزلوں کی انجنیئرنگ کے ماہرین پیدا کیے جانے چاہیں اور اس سلسلے میں باقاعدہ ادارہ قائم کیا جائے۔ پاکستان جیولوجیکل سروے کے سابق ڈائریکٹر جنرل اور کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر نیر عالم ضیغم نے بتایا کہ کراچی زلزلے کی زد میں ضرور ہے مگر اس میں زلزلے کا مرکز نہیں رہا ہے۔ انہوں نے دو ہزار ایک میں رن آف کچھ میں آنے والے زلزلے کے بارے میں بتایا کہ اس زلزلے کی شدت سات عشاریہ سات تھی۔ زلزلے کے مرکز سے بھارتی شہر احمد آباد اور کراچی کا فاصلہ تقریباً یکسں ہے مگر احمد آباد میں تو بڑے نقصان ہوا تھا لیکن کراچی میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ اس زلزلے میں صحرائی علاقے تھر نے بیرئر کا کام دیا جس وجہ سے زلزلے کی شدت کم ہوگئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں زلزلے کے جھٹکے انیس سو اٹھاسی سے محسوس کیے جا رہے ہیں پہلے یہ ملیر قائد آباد کے علاقے میں محسوس کیے جاتے تھے اب یہ ڈیفنس کے علاقے میں محسوس کیے جاتے ہیں انہوں نے تجویز دی کہ کراچی میں ہائیڈرولوجیکل سروے بھی ہونے چاہیں۔ یہاں پانی کی زیر زمین سطح میں اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ کسی نقصان سے بچنے کے لیے غیر معیاری تعمیرات کو روکا جائے۔
پاکستان جیولوجیکل سروے کے موجودہ ڈائریکٹر جنرل عامر احمد کاظمی کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سو سالوں میں کراچی میں زلزلے کے چالیس جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں جس میں صرف چار شدید تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر پانچ تک محسوس کی گئی ہے اور کراچی کبھی زلزلے کا مرکز نہیں رہا ہے۔ | اسی بارے میں عالمی بنک کے اعلان پر تشویش 20 September, 2005 | پاکستان مشترکہ حزب اختلاف کا اعلامیہ01 November, 2003 | پاکستان کالاباغ ڈیم بننا چاہیے؟16 September, 2003 | آپ کی آواز کالاباغ ڈیم مخالفت برقرار 30.08.2003 | صفحۂ اول کالاباغ ڈیم: ماضی اور مستقبل30 August, 2003 | صفحۂ اول ڈیم مخالف فرنٹ قائم29.08.2003 | صفحۂ اول ’کالاباغ ڈیم بنانا پڑے گا‘26.08.2003 | صفحۂ اول ’کالاباغ ڈیم ضرور تعمیر ہوگا‘20 August, 2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||