عالمی بنک کے اعلان پر تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں بڑے ڈیموں کی تعمیرکے لیے فنڈ فراہم کرنے کے عالمی بنک کے اعلان پر سندھ کے قوم پرست رہنماؤں نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر بنک نے ایسا کوئی قدم اٹھایا تو وہ انصاف کی عالمی عدالت میں مقدمہ دائر کرینگے۔ عالمی بنک کے مشیر جان فریسکو نے گزشتہ روز کہا تھا کہ پاکستان اقتصادی ترقی کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے اگر کالا باغ ڈیم یا بھاشا ڈیم تعمیر کرے تو عالمی بنک فنڈز فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ سندھ میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی شروع ہی سے مخالفت کی جارہی ہے اور اس ضمن میں سندھ سے تعلق رکھنے والی تمام چھوٹی بڑی پارٹیاں بشمول پی پی کےاحتجاجی مظاہرے بھی کرتی رہی ہیں۔ کالاباغ ڈیم کی تعمیر پرعالمی بنک کے حالیہ موقف کے بارے میں سندھ ترقی پسند پارٹی کے رہنما ڈاکٹر قادر مگسی نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی بنک کو یہ حق نہیں پہنچتا ہے کہ وہ چار کروڑ سندھییوں کی زندگی کا فیصلہ کرے۔ کالا باغ ڈیم سندھ کے لوگوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ لہٰذا بنک اس منصوبہ کے لیےرقم فراہم نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ کنسلٹنٹس خریدے گئے ہیں، لوگوں کو رشوت دی جارہی ہے۔ ہم کسی صورت میں ڈیم قبول نہیں کرینگے۔ صدر مشرف کے اعلان کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اینٹی کالاباغ ڈیم اینڈ تھل کینال ایکشن کمیٹی کے رہنما رسول بخش پلیجو کا کہنا ہے کہ عالمی بنک کے نئے صدر پال وولفسن کا تقرر امریکہ کی ایما پر ہوا ہے۔ ظاہر ہے وہ بش کی ساتھیوں کو خوش کریگا۔ اس پس منظر میں ہم اسے بش اور مشرف دونوں کی سازش سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا عالمی بنک نے ایسا کیا تو ہمارے بس میں جو بھی انتہائی قدم ہوگا وہ اٹھائیں گے۔ کالا باغ ڈیم کے ممکنہ اعلان کے بارے میں پلیجو نے کہا کہ یہ اعلان ملک دشمنی او ر غداری کے مترادف ہوگا جس سے پاکستان تباہی کے دہانے پہنچ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم سندھیوں کی نسل کشی کے مترداف ہے۔ یہ ڈیم ہمارے آواز کو دبانے اور ہمیں بلیک میل کرنے کے لیے بنایا جارہا ہے۔ ادریس راجپوت نے بتایا کہ عالمی بنک نے ورلڈ کمیشن آف ڈیمز کی چھبیس نکاتی رپورٹ کو ماننے سے انکار کردیا ہے۔ بنک کا کہنا ہے کہ اگر اس رپورٹ پر عمل کیا گیا تو کوئی بھی ڈیم نہیں بن سکےگا۔ حالانکہ اس اسٹڈی کی فنڈنگ بھی عالمی بنک نے کی تھی۔ سندھ نیشل پارٹی کے صدر امیر بھمبھرو نے کہا کہ اگر عالمی بنک نے فنڈنگ کی تو بنک کے مقامی دفاتر کے سامنے مظاہرے کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پچیس ستمبر کو ان کی پارٹی کی جانب سے منعقد ہونے والی ریلی میں عالمی بنک کی مخالفت کو بھی شامل کرلیا جائےگا۔ واضح رہے کہ اسلام آباد میں پیر کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عالمی بنک کے مشیر جان فرسیکو نے کہا تھا کہ پاکستان کے پاس بڑے ڈیم بنانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے اور ڈیم سے متعلق جن معاملات کا حکومت کوسامنا ہے، عالمی بنک کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان حکومت نے ڈیم بنانے کے لیے سیاسی فیصلہ نہیں کیا تو ڈیم بنانے میں بیس سال بھی لگ سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ پیشکش اس وقت کی گئی ہے جب پاکستان میں ڈیم کی تعمیر اور پانی کی موجودگی کا تعین کرنے والی فنی کمیٹی اپنی رپورٹ صدر مشرف کو پیش کرچکی ہے۔ یہ رپورٹ اب تک ایک راز بنی ہوئی ہے اور نہیں کہا جا سکتا کہ اس میں کیا سفارشات کی گئی ہیں۔ ڈیم کی تعمیر پاکستان کی سیاست میں اہم حیثیت رکھتی ہے۔ سندھ۔ بلوچستان اور سرحد کی صوبائی اسمبلیاں ماضی میں اس ڈیم کی مخالفت میں قرادادیں منظور کرچکی ہیں۔ بلوچستان حکومت کے موقف میں کچھ تبدیلی آئی ہے۔ جام یوسف نے کراچی کے حالیہ دورے کے دوران کہا تھا کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے بلوچستان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ سندھ کے سیاستدان کالا باغ ڈیم کی شدید مخالفت کرتے رہے ہیں۔ اس معاملے پر سندھ میں کئی ہڑتالیں اور مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم نے گزشتہ روز ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بڑے ڈیم کی مخالفت نہیں کرے گا، کیونکہ سندھ کا پہلے یہ موقف تھا کہ جب پانی نہیں ہے تو ڈیم نہیں بننا چاہیے۔ مگر اب صورتحال میں فرق آ رہا ہے۔ اگر اتفاق رائے کا معاملہ آتا ہے تو سندھ بڑے ڈیم کی مخالفت نہیں کرے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||