| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
کالاباغ ڈیم بننا چاہیے؟
پاکستان میں کالاباغ ڈیم بنانے کے منصوبے کے بارے میں پچھلی تین دہائیوں سے بات ہو رہی ہے۔ سندھ اور صوبہ سرحد اس منصوبے کی سخت مخالفت کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ڈیم کے بننے سے صرف پنجاب کو فائدہ ہوگا جبکہ دوسرے صوبوں کو نقصان کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا ۔ ان کے مطابق ڈیم کے بننے سے نوشیرہ زیر آب آجائے گا اور سندھ میں دریائے سندھ میں پانی کم ہو جائے گا۔ ادھر صدر جنرل پرویز مشرف ماضی کے کئی حکمرانوں کی طرح کہتے ہیں کہ پاکستان میں پانی کی کمی کے مسئلے کا حل کالاباغ ڈیم ہی ہے۔ ماضی کی حکومتیں بھی کالا باغ ڈیم کا مسئلہ اس وقت اچانک اٹھا دیتی ہیں جب ملک میں دیگر مسائل کے باعث بحرانی کیفیت ہو۔ کیا کالا باغ ڈیم بننا چاہیے؟ کیا اس کے بننے سے ملک میں پانی کامسئلہ حل ہو سکے گا یا اس سے صوبوں کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہوگا؟ اور اب جب عالمی ماہرین یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ بڑے ڈیم بنانا ایک بہت بڑی غلطی ہے تو کیا پاکستان کو ایسا کرنا چاہیے؟ کالاباغ ّیم کے بننے سے کس کو فائدہ پہنچے گا؟ --------------یہ فورم اب بندہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں------------------------ مہوِش یزدانی، امریکہ: ایسا لگتا ہے کہ تینوں صوبوں کے درمیان اعتماد کمی ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس پروجیکٹ سے ملک میں خوشحالی آئے گی۔ بدعنوانیوں میں ملوث سیاست دان عام لوگوں کو تکنیکی بنیادوں پر اس ڈیم کے خلاف بہکارہے ہیں۔ ان کو چاہئے کہ ایک ایسے سمجھوتے کیلئے رائے ہموار کریں جس سے تمام صوبوں کے حقوق ملک سکیں۔ قیصر، پاکستان: میرے خیال میں کالا باغ ڈیم بننا چاہئے ورنہ اگلے چند برسوں میں سب لوگ پانی کی بوند بوند کو ترسیں گے اور اس وقت کرنے کے لئے کچھ نہیں رہے گا کیونکہ اس ڈیم کو بنانے میں بھی دس پندرہ سال لگنے والے ہیں۔ مختار اخنزادہ، پشاور: پاکستان کو کالاباغ ڈیم کی ضرورت نہیں ہے۔ بھاشا ڈیم کی کوئی مخالفت نہیں ہے، تو حکومت اسے کیوں نہیں تعمیر کرتی؟ یوسف کشمیری سردار، کشمیر (پاک): کالا باغ ڈیم نہیں بننا چاہئے۔ مسعود احمد، پاکستان: پاکستان کو کالاباغ ڈیم کی ضرورت ہے۔ کچھ سیاسی جماعتیں ایسی ہیں جو اسے اپنے سیاسی مفاد کیلئے استعمال کررہی ہیں۔ مستقبل کے لئے ان کا پاس کوئی ایجنڈا نہیں ہےگ مختار نقوی، امریکہ: زراعت اور دیگر ضرورتوں کیلئے پانی کی ضرورت ہے اور اس کا نقصان نہیں ہونا چاہئے۔ کالاباغ ڈیم کی ضروت پانی اکٹھا کرنے کے لئے ہے تاکہ جہاں اس کی ضرورت پڑے اس کا استعمال کیا جاسکے۔ سیاسی جماعتوں کو اسے اپنے مفاد کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ غلام مرتضیٰ، دبئی: اس طرح کے تمام فیصلے ملک کے مفاد میں ہونے چاہئیں۔ میں کالاباغ ڈیم کو تمام ذاتی مفادات سے بالاتر دیکھتا ہوں۔ یہ فیصلہ ملک کے لئے ہونا چاہئے، نہ کہ صوبوں کے لئے۔ کامران مرتضیٰ، جھنگ: کالا باغ ڈیم پاکستان کے مفاد میں ہوگا۔ اس کی تعمیر فوری طور پر کی جانی چاہئے۔ محمد ہاشمی، پاکستان: میرے ملک کی بقا اس میں ہی ہے۔ علی بھٹی، لاہور: یہ ڈیم ضرور بننا چاہئے، اس موضوع پر تمام تحفظات تکنیکی طور پر صحیح نہیں ہیں۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ تکنیکی مسائل کو سیاست کا رنگ دیا جارہا ہے اور پورے قوم کا نقصان ہورہا ہے۔ جہاں تک حزب اختلاف کے موقف کا سوال ہے، اس کا رویہ مذمت کے قابل ہے۔ آپ نے جن ماہرین کی بات کی ہے ان کا حوالہ نہیں دیا ہے، اس پر یقین کرنا مشکل ہوگا۔ نعیم احمد، کینیڈا: ہاں میں کالا باغ ڈیم کی پوری طرح سے حمایت کرتا ہوں۔ دانش، پاکستان: یہ پروجیکٹ صوبوں کے لئے فکر کا باعث رہا ہے۔ یہ میرے ملک کیلئے اچھا نہیں ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||