زلزلہ:دوسرا بڑا چیلنج درپیش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیر اور ہزارہ میں درجہ حرارت توقع کے مطابق نقطہ انجماد کو پہنچ چکا ہے۔ زلزلہ متاثرین کی اکثریت خیموں میں مقیم ہے، بڑی تعداد میں لوگ پیٹ، جلد اور سینے کے انفیکشن کا شکار ہیں اور مرد اپنے کام کاج کو چھوڑ کر بیوی بچوں کی دیکھ بھال کررہے ہیں۔ آٹھ اکتوبر کے ڈیڑھ منٹ کے زلزلے نے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی ڈیڑھ سو سال کی کمائی کو خاک میں ملادیا۔ ان کے آباؤ اجداد کے زمانے سے بنے ہوئے مکان اور نسل درنسل جمع کیا گھریلو سامان ختم ہوگیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مکانوں، سکولوں اور دوسری عمارتوں کے نیچے دبنے سے تقریباً نوے ہزار لوگ ہلاک ہوئے اور تقریبا اتنے ہی زخمی ہوئے۔ زلزلہ کے فوراً بعد پنجاب اور کراچی سے عام لوگوں نے کھانے پینے کی چیزیں، کمبل اور گرم کپڑے ٹرک بھر بھر کے متاثرہ علاقوں میں پہنچائے۔ ان جگہوں پر بوتل بند پینے کے صاف پانی اور پاسچرائزڈ دودھ کے ڈبوں کے اتنے ڈھیر لگ گئے کہ بعض لوگ اعتراف کرتے ہیں کہ متاثرین کے پاس اس وقت بھی ایک مہینے کا راشن موجود ہے۔
اس پہلے مرحلے میں حکومت تاخیر سے حرکت میں آئی۔ سب سے بڑی کوتاہی یہ ہوئی کہ حکومت یا کسی غیر سرکاری ادارہ نے متاثرہ علاقوں خصوصاً شاہراہوں سے دور پہاڑوں میں چھپے ہوئے دیہاتوں کی فہرست عوام کو مہیا نہیں کی۔ پنجاب اور کراچی سے عام لوگ جو ٹرک بھر بھر کر سامان لاتے رہے وہ زیادہ تر سڑکوں کے کنارے تقسیم کرتے رہے۔ ان لوگوں کو ہزارہ اور کشمیر میں بڑی سڑکوں کے اطراف میں واقع دیہاتوں کو جانے والے راستوں کا علم ہی نہیں تھا۔ کسی سرکاری یا غیرسرکاری ادارہ نے یہ زحمت نہیں کی کہ وہ ان راستوں کے سادہ نقشے اور دیہاتوں کی فہرست بنا کر ان کی تشہیر کردیتے تاکہ امدادی سامان دور دراز کے متاثرین تک بھی پہنچ جاتا۔ بالآخر ان پہاڑی لوگوں کو سڑکوں کےکنارے آکر تھوڑا بہت سامان لیا جو ان کی ضرورت سے بہت کم تھا۔ پہاڑی دیہاتوں جیسے مانسہرہ میں چھپڑ بالا، ملکان، کڑمنگ بالا اور بٹگرام میں شام سیری میں میں نے خود لوگوں کی محرومی دیکھی۔ ایسے ہزاروں نہیں تو سینکڑوں دیہات ہیں۔
پہلے ایک مہینے تک جب متاثرہ علاقوں میں سردی کم تھی اور لوگ کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے تھے، ہر طرف خیموں کی پکار تھی۔ خیمے بہت دیر سے پہنچنا شروع ہوئے اور زیادہ تر غیر سرکاری اداروں اور فوج نے تقسیم کیے۔ وفاقی ریلیف کمشنر کے مطابق ساڑھے پانچ لاکھ خیمے تقسیم کیے گئے ہیں۔ تاہم میں نے مانسہرہ اور بٹگرام میں خود ایسے دیہات دیکھے جہاں چار چار خاندانوں کے پاس صرف ایک خیمہ ہے۔ ابھی پہاڑی دیہاتوں میں لوگوں کی ایک تعداد ایسی ہے جس کے پاس دو مہینے گزر جانے کے بعد بھی خیمے بھی نہیں ہیں۔ ان لوگوں نے پولی تھین اور پرانی چادروں کو ملا کر سر پر ایک سائبان بنایا ہے جو ظاہر ہے سرد ہواؤں کو نہیں روک سکتا۔ وزیراعظم شوکت عزیز اور دیگر سرکاری لوگ بار بار یہ کہتے رہے کہ پہاڑی علاقوں کے لوگ اپنی جگہیں چھوڑ کر نیچے خیمہ بستیوں میں آجائیں لیکن بہت کم لوگ وہاں آئے۔ خیمہ بستیاں بہرحال کئی جگہوں پر موجود ہیں۔ پہاڑی لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ وہ اپنا ملبہ کے نیچے دبا ہوا سامان، اپنے مویشی اور اپنے کھیت چھوڑ کر خیمہ بستیوں میں نہیں جاسکتے۔ جب زلزلہ آیا تو آلو کی فصل تیار تھی اور گندم بیجنے کا موسم تھا۔ قبائلی معاشرے میں عورتوں کے سخت پردہ کے پابند ان لوگوں کوخیمہ بستیوں کا پر ہجوم رہن سہن بھی قابل قبول نہیں۔ خاص طور پر کراچی سے رضاکار ڈاکٹر بڑی تعداد میں متاثرہ علاقوں میں کام کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ جگہ جگہ غیرملکی اور ملکی ڈاکٹروں کے طبی کیمپس لگے ہوئے ہیں۔ دواؤں اور طبی علاج معالجہ کی کمی نہیں۔ نومبر کے آخری دنوں میں زلزلہ زدہ علاقوں میں دوسرا بڑا چیلنج سامنے آیا۔ دو روز کی بارش اور چند گھنٹے کی ہلکی برفباری نے خیموں کی افادیت ختم کردی۔ خدشے کے عین مطابق کئی علاقوں میں خیمے گر گئے، ان میں بارش کا پانی جمع ہوگیا اور وہ سرد ہواؤں کو نہیں روک سکے۔ خیمہ بستیوں میں رہنے والے پیٹ اور سینے کے انفیکشن کا شکار ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق خارش اور زخموں کے انفیکشن کی بیماریاں عام ہیں۔ خیمہ بستیوں میں ٹائلٹ نہیں، صفائی نہیں۔ سردی سے خصوصاً بچوں میں سانس کی نالی کا انفیکشن بڑھ رہا ہے۔ تاہم ابھی بڑے پیمانے پر نمونیا یا پھیپھڑوں کا انفیکشن نہیں پھیلا۔ آنے والے مزید سرد دنوں میں اس کا خدشہ ہے۔ ان دنوں حکومت متاثرین میں پچیس ہزار کے چیک تقسیم کرنے میں مصروف ہے۔ سکولوں کے اساتذہ، پٹواری اور فوجی جوان مکانوں کا سروے کررہے ہیں۔ ایک تھوڑی تعداد میں لوگوں کو چیک مل گئے ہیں جن کے جمع کرانے والوں کی لمبی قطاریں ایبٹ آباد، مانسہرہ اور بٹگرام کے بنکوں کے باہر دیکھی جاسکتی ہیں۔ جس گاؤں جس قصبہ میں جائیں یہ شکایت عام ہے کہ مشترکہ خاندانی نظام کے تحت رہنے والے ان لوگوں کو ایک مکان کے عوض ایک چیک مل رہا ہے حالانکہ اس مکان میں تین چار شادی شدہ بھائیوں کے خاندان مقیم تھے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے ہر متاثرہ خاندان کو پچیس ہزار دینے کا اعلان کیا تھا لیکن عملاً یہ صورتحال نہیں ہے۔ متاثرہ علاقوں میں وسط دسمبر سے اپریل تک برفباری ہوتی ہے۔ ان چار مہینوں میں ان لوگوں کی بقا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ فوری طور پرمستقل مکان تعمیر نہیں کیے جاسکتے۔ جستی چادروں سے عارضی جھونپڑے یا کیبن ایک دن میں تیار ہوجاتا ہے۔ کچھ جگہوں پر غیر سرکاری اداروں اور مخیر کاروباری لوگوں نے جستی چادریں پہنچائی ہیں لیکن حکومت کا کام بہت سست رفتار سے چل رہا ہے۔ زلزلے کے فوری بعد عام لوگوں کی امداد سے متاثرہ علاقے کسی بڑی تباہی سے بچ گئے گو امدادی سامان پہاڑی علاقوں تک کم پہنچا۔ شروع کے چند روز چھوڑ کر لوگوں کو کسی بڑی مشکل سے دوچار نہیں ہونا پڑا۔ کوئی وبا بڑے پیمانے پر نہیں پھوٹی، لوگ بھوک سے نہیں مرے۔
اب دوسرا چیلنج سردی کی صورت میں سامنے آگیا ہے۔ وسط دسمبر سے ہر برس کی طرح موسم شدید ہوجانے کا امکان ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے جستی چادریں درکار ہیں۔ ایک خاندان کو جھونپڑا بنانے کے لیے دس سے بارہ جستی چادریں چاہیے ہوتی ہیں۔ ڈھانچہ بنانے کے لیے لکڑی ان لوگوں کے پاس موجود ہے۔ حکومت کا پراپیگینڈا زیادہ اور کام کم نظر آتا ہے۔ پہلے چیلنج کی طرح اس دوسرے چیلنج سے بھی پاکستان کے عوام ہی بہتر طور پر نمٹ سکتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ عام لوگوں نے جس طرح راشن اور کپڑے متاثرہ لوگوں کو پہنچائے تھے کیا وہ جستی چادریں بھی انہیں پہنچاسکیں گے یا نہیں۔ |
اسی بارے میں جستی چادروں کی بلیک 16 November, 2005 | پاکستان ایک کمرہ بنا کردیں گے: فاروق11 November, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||