BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
متاثرہ علاقوں میں جنگل کا قانون

قطع نظر اس کے کہ ان کے بارے میں خبریں صفحہ اول اور ٹی وی کے پرائم ٹائم سے ہٹ چکی ہوں لیکن پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے پہاڑوں میں زلزلہ زدگان کےموت کے خلاف جنگ جیتنے کے امکانات ہر لمحہ کم ہوتے جا رہے ہیں۔

مظفرآباد کے ارد گرد پہاڑیوں پر زندہ بچ جانے والے متاثرین لمبی قطاروں میں اس امدادی کیمپ کی طرف جا رہے ہیں جو کہ دریائے نیلم کے کنارے تباہ حال سڑک پر قائم کیا گیاہے۔

ان میں زیادہ تر دو سے تین دن تک پیدل چل کر کیمپ تک پہنچے ہیں، جہاں پہنچ کر انہیں صرف یہی پتا لگا کہ کیمپ میں ان کی اشیاء ضرورت کی کمی ہے اور امدادی کارکن، چاہے وہ سرکاری ہوں یا غیر سرکاری، لمحہ بہ لمحہ حواس باختہ ہو رہے ہیں۔

امدادی کیمپ کے سامنے سیکڑوں لوگ قطاروں میں لگے ہوئے ہیں۔

دوسری طرف مظفرآباد سے چھ کلومیٹر دور وادئ نیلم کو جانے والی سڑک کے کنارے شہر اور علاقے کی سڑکوں کو دوبارہ تعمیر کرنے کا جذبہ مایوسی اور مستقبل سے ناامیدی میں بدل رہا ہے۔

سیکڑوں افراد کی قطاریں ایک خیمے پر ختم ہوتی ہیں جہاں سے انہیں بسکٹ کے ایک پیکٹ اور پانی کی بوتل سے زیادہ کچھ نہیں ملےگا۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ قطار میں لگے ہوئے لوگوں کے لیے ایک گھنٹے کے انتظار کا یہ انعام کسی نعمت سے کم نہیں۔

ایسا کیوں ہے، یہ سمجھنا زیادہ مشکل نہیں۔

وادئ نیلم جہاں سے دریائے نیلم (جسے بھارت میں کشن گنگا کہتے ہیں) گزرتا ہے ایک دو سو کلومیٹر طویل اور تنگ پہاڑی علاقہ ہے اور یہ وادی اس زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں سے ہے۔

متاثرین کے نہ ختم ہونے والے سلسلے نے امدادی کارکنوں کو حواس باختہ کر دیا ہے۔

مظفرآباد سے وادی کو جانے والی سڑک اتنی بری طرح ٹوٹی ہے کہ فوج کے انجینیروں کو اس کے چار کلومیٹر کو مرمت کرنے میں چودہ دن لگے۔ ابھی انہیں مزید ایک سو چھیانوے کلومیٹر لمبی سڑک مرمت کرنا ہے۔

فوج کی انجینرنگ کور کے افسرعرفان اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خیال میں وہ سڑک مرمت کرنے آئے تھے لیکن یہاں پہنچ کر پتا چلا کہ مرمت نہیں بلکہ وہ تو سڑک کو نئے سرے سے بنانے آئے ہیں۔

اس تنگ، بل کھاتی وادی میں جہاں تک نظر جاتی ہے آپ سڑک کی دونوں طرف پہاڑوں کو اب بھی ٹوٹتا، سرکتا اور پھر نیچے آتا دیکھ سکتے ہیں۔ وادی میں
لینڈ سلائڈ نگ کے نہ ختم ہونے والے سلسلے نے پہاڑوں کو گرتے ہوئے پتھروں اور دھول میں بدل دیا ہے۔گاڑی تو درکنار اس علاقے میں اب پیدل چلنا محال ہو چکا ہے۔

سردیوں کے آغاز کے ساتھ اب اس بات کی امید کم ہی ہے کہ وادئ نیلم کی سڑک بروقت مرمت ہو جائے گی اور پہاڑوں پر واقع دیہاتوں میں ضروری امدادی اشیاء پہنچ پائیں گی۔ ان دیہاتوں میں پھنسے ہوئے لوگوں سے بہتر کون جانتا ہے کہ راستوں کی تباہی ان پر کیا قیامت ڈھا رہی ہے۔

راشن پانی یا کفن دفن
 ستمبر میں جو کچھ جمع کر پائے تھے وہ سب تو زلزلے کی نظر ہو گیا اور سارا اکتوبر لاشیں ڈھونڈنے اور دفنانےمیں گذرگیا۔ زلزلے کے بعد یہ پہلا ہفتہ ہے جب انہیں یہ سوچنے کا موقع ملا ہے کہ ان کے مستقبل کا کیا ہوگا۔

ستمبر، اکتوبر ہی وہ مہینے ہیں جب ان پہاڑوں کے باسی اپنےاگلے پانچ ماہ کا راشن پانی جمع کرتے ہیں کیونکہ اس کے بعد شدید برفباری کی وجہ سے وادی کا اردگرد سے رابطہ برائے نام ہی رہ جاتا ہے۔

لیکن اس سال وہ ستمبر میں جو کچھ جمع کر پائے تھے وہ سب تو زلزلے کی نظر ہو گیا اور سارا اکتوبر لاشیں ڈھونڈنے اور دفنانےمیں گذرگیا۔ زلزلے کے بعد یہ پہلا ہفتہ ہے جب انہیں یہ سوچنے کا موقع ملا ہے کہ ان کے مستقبل کا کیا ہوگا۔

میں نے اپنی دائیں جانب والے پہاڑ پر چڑھنا شروع کر دیا، اس امید سے کہ چوٹی پر نظر آنے والے گاؤں میں پہنچ جاؤں گا۔

آپ جوں جوں اس پہاڑی سلسلے کے اندر جاتے ہیں تو دراصل آپ اس جگہ کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں جہاں سے اس تباہی کا آغاز ہوا، یعنی زلزلے کا مرکز۔

اتناطویل سفراورحاصل سفر؟
 اسے اپنےگاؤں سے مظفر آباد تک کا ساٹھ کلومیٹر کا پیدل سفر طے کرنے میں دو دن لگے اور آج جب وہ واپس گاؤں جا رہی ہے تو اس کے ہاتھ میں ایک پلاسٹک کا بیگ ہے جس میں سوائے بسکٹ کے پانچ پیکٹوں کے اور کچھ نہیں۔

پہاڑی دیہاتوں کو جانے والی پگڈنڈیاں بھی امداد کی تلاش میں سرگرداں لوگوں کے نہ تھمنے والے سلسلے کی منہ بولتی تصویر ہیں۔ انسانوں کی ایک لمبی قطار ان پگڈنڈیوں کو پیچھے چھوڑ کر نیچے بچی کچھی سڑک پر جاتی نظر آتی ہے یا امدادی سامان اٹھائے اپنے گھروں کی جانب لوٹتی ہوئی۔

اسماء بی بی ایک بیوہ ہے جس کے میاں پاکستان فوج میں ملازم تھے۔ ڈھائی سال پہلے سرحد پر مارے گئےاور پیچھے دو بچے چھوڑے۔

زلزلے نے اسماء بی بی سے گھر کے چار مرد چھین لیے۔

زلزلے نے اسماء سے خاندان کے چار مرد چھین لیے۔ اب وہ ہے اور اس کے دو بچے۔

اسے اپنےگاؤں سے مظفر آباد تک کا ساٹھ کلومیٹر کا پیدل سفر طے کرنے میں دو دن لگے اور آج جب وہ واپس گاؤں جا رہی ہے تو اس کے ہاتھ میں ایک پلاسٹک کا بیگ ہے جس میں سوائے بسکٹ کے پانچ پیکٹوں کے اور کچھ نہیں۔

’ مجھے نہیں پتا تھا کہ یہ سفر اتنا مشکل ہوگا‘ اس نے کہا۔

’جب میں کیمپ پہنچی تو میں نے سوچا کہ اس قطار میں لگوں جہاں آٹے کے توڑے مل رہے تھے لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ میرے پاس تو کوئی طریقہ نہیں کہ میں ایک توڑا اٹھا کر گاؤں لے جا سکوں‘۔

یہاں سے اب اسے واپس گھر پہنچنے میں دو دن لگیں گے جہاں وہ اپنے بچے پڑوسن کے پاس چھوڑ کر آئی ہے۔

اسماء کہہ رہی تھی’ حکومت کہتی ہے کہ امدادی چیزیں زیادہ تر علاقوں میں پہنچ چکی ہیں مگر میں پوچھتی ہوں کہ اگر یہ سچ ہے تو میں اس کرب سے کیوں گزر رہی ہوں۔‘

سطح سمندر سے پانچ ہزار فٹ بلند اس پہاڑ پر چار گھنٹے کے سخت تھکا دینے والے پیدل سفر کے بعد میں بٹمنگ نامی گاؤں میں پہنچا۔

بٹمنگ پہاڑوں پر بکھری ہوئی دس دس بارہ بارہ گھروں کی چند بستیوں کا مجموعہ ہے۔

گھر بنا قبر
کبھی یہ میرا گھر تھا لیکن اب یہ میری ماں، بیوی، ایک بیٹی اور دو بھتیجیوں کی مشترکہ قبر ہے۔
نور الٰہی

گاؤں کا نورالٰہی نامی شخص ایک کسان ہے جس کا گھر یا فارم ہاؤس اس قدر خوبصورت تھا کہ کسی تصویری پوسٹ کارڈ پر چھاپا جا سکتا تھا۔ لیکن اب اس کے گھر کے چپے چپے سے یوں لگتا ہے جیسے اسے کسی نے ہتھوڑے مارمار کر زمین میں دھنسا دیا ہو۔

گھر کے ملبے پر کھڑے نورالٰہی نے اپنے پاؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
’ کبھی یہ میرا گھر تھا لیکن اب یہ میری ماں، بیوی، ایک بیٹی اور دو بھتیجیوں کی مشترکہ قبر ہے۔‘

نور الِہی کے زیادہ تر مویشی بھی مر گئے ہیں جس سے اُس کی اس امید پر بھی پانی پھر گیا ہے کہ وہ اگلے سال گرمیوں میں کاشتکاری کرے گا۔‘

جہاں لوگ رہتے تھے اب وہ جگہیں ان کی مشترکہ قبریں ہیں۔

آدھا گھنٹہ چلنے کے بعد میں قریب کی دوسری بستی میں پہنچا جہاں میں نے ایک مشترکہ قبر دیکھی جس میں دس بالغ افراد اور تین بچے دفن ہیں۔

گھر کا سربراہ عبدالرزاق نامی ایک ڈرائیور ہے جو سعودی عرب میں ملازمت کرتا ہے۔

زلزلے کی خبر ملنے پر وہ واپس لوٹا اور اب بیٹھا سوچ رہا ہے سعودی عرب واپس نہ جائے بلکہ گھر کے قریب کوئی ملازمت پکڑ لے۔

’زلزلے نےانسانوں کی جانیں تولی ہی ہیں، مجھے لگتا ہے اُس نے ہم سے انسانیت بھی چھین لی ہے‘ عبدالرزاق نے کہا۔

„میں نے لوگوں کو ہیلی کاپٹر سےگرائی ہوئی امداد پر کلہاڑوں سے لڑتے دیکھا ہے۔‘

’ہمارے ہاں کوئی انتظامیہ نہیں بچی۔ ہر طرف جنگل کا قانون ہے۔‘

اسی بارے میں
آلائی کا المیہ
31 October, 2005 | پاکستان
’صاحب! ایک تنبو لادو‘
31 October, 2005 | پاکستان
دیکھو بچو ہاتھی آیا
30 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد