BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 December, 2005, 02:36 GMT 07:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زلزلہ کی نسلی اور طبقاتی دراڑیں

امداد کی تقسیم کے وقت بھی بااثر لوگوں کے کردار پر سوال اٹھائے گئے
امداد کی تقسیم کے وقت بھی بااثر لوگوں کے کردار پر سوال اٹھائے گئے
مانسہرہ کے قریب شکنیاری میں زلزلہ سے متاثر ایک معمر شخص حاجی داد خان کہتے ہیں۔’اساں نال پنجابیاں اتنی مدد کتی اے کہ موت خدا سوں تے پنجابیاں بچائی اے۔‘ (پنجاب کے لوگو ں نے ہماری اتنی مدد کی ہے کہ موت تو خدا کی طرف سے تھی لیکن پنجابیوں نے ہمیں زندگی دی ہے۔)

حاجی داد خان کے خیالات ہزارہ کے آٹھ اکتوبر کے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کے عوام کی ایک بڑی تعداد کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ صوبہ سرحد کے ہندکو بولی بولنے والے لوگوں کے مسکن اس علاقہ میں متاثرین کا کہنا ہے کہ انہیں زلزلہ کے فورا بعد جو امداد ملی وہ زیادہ تر پنجاب سے آئی یا کراچی سے۔

مانسہرہ میں ایک غیرسرکاری تنظیم کے بی ڈی او ہسپتال کے ایک منتظم محمد ممتاز کہتے ہیں کہ ہزارہ کو پنجاب سے بے حساب مدد ملی ہے۔ غیرسرکاری تنظیم سنگی کی مانسہرہ ضلع کی انچارج شازیہ اسلم کہتی ہیں کہ یہ بات درست ہے کہ زیادہ تر مدد پنجاب سے موصول ہوئی۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم کو پنجاب کے مخیر لوگوں نے خطیر عطیات دیے اور بہت سے لوگوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے نام کی تشہیر نہ کی جائے۔

ایبٹ آباد میں مقامی اخبار شمال کے نائب مدیر گل فراز کہتے ہیں کہ زلزلہ متاثرین کے لیے امداد پنجاب اور کراچی سے آئی جبکہ صوبہ سرحد کے پختون علاقوں سے مدد نہیں پہنچی یا بہت ہی کم پہنچی حالانکہ وہ زیادہ قریب تھے۔

پختون آبادی کے درمیان روایتی اختلاف
 صوبہ سرحد میں ہندکو بولنے والی ہزارہ آبادی اور پشتو بولنے والی پختون آبادی کے درمیان ایک روایتی اختلاف موجود رہا ہے لیکن یوں لگتا ہے کہ زلزلہ نے اس شگاف کو زیادہ وسیع کردیا ہے۔

مانسہرہ کے اکثر لوگ اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ جب زلزلہ کے بعد ٹرکوں کے قافلے در قافلے آنے شروع ہوئے تو ان کا تعلق پنجاب کے بڑے اور چھوٹے شہروں سے تھا لیکن پشاور یا پختون علاقوں سے آنے والے ٹرکوں کو انگلیوں پر گنا جاسکتا ہے۔

تاہم اس عام تاثر کے برعکس مانسہرہ میں ایدھی مرکز کے انچارج اکرام قریشی کہتے ہیں کہ ان کی تنظیم کو متاثرین کی مدد کے لیے قبائلی علاقوں اور پختون علاقوں سے بھی عطیات موصول ہوئے۔

ہزارہ کے متاثرہ علاقوں میں صوبہ کی پختون آبادی کے ساتھ ساتھ پشاور کی صوبائی حکومت سے بھی زلزلہ زدگان کی مدد میں تاخیری حربے استعمال کرنے کی شکایتیں ہیں۔

مانسہرہ ضلع کے قصبہ بفہ کی رہائشی اور متحدہ مجلس عمل کی خاتون رکن صوبائی اسمبلی یاسمین خالد نے اخباری بیان میں صوبائی حکومت پر تنقید کی اورکہا کہ صوبائی حکومت متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو میں تاخیری حربے استعمال کررہی ہے۔

روزنامہ شمال کے مدیر گل فراز کہتے ہیں کہ متاثرین کے لیے امدادی کاموں میں یا تو غیرسرکاری تنظیمیں نطر آتی ہیں یا وفاقی حکومت اور فوج لیکن صوبائی حکومت کا کہیں نام و نشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے وفاق سے ملنے والے فنڈز کو اپنے استمعال کے لیے روک لیا ہے۔

صوبہ سرحد میں ہندکو بولنے والی ہزارہ آبادی اور پشتو بولنے والی پختون آبادی کے درمیان ایک روایتی اختلاف موجود رہا ہے لیکن یوں لگتا ہے کہ زلزلہ نے اس شگاف کو زیادہ وسیع کردیا ہے۔

ہزارہ کے اندر تین بڑی برادریاں
 خود ہزارہ کے اندر تین بڑی برادریاں آباد ہیں جن میں زرعی زمین اور شہری جائداد کے مالک سواتی خان اور سادات ہیں جبکہ مزارعین گجر برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔اونچے پہاڑوں پر رہنے والے خانہ بدوش قبائل بھی زیادہ تر گجر ہیں جو بھیڑ بکریاں پالتے ہیں۔ زلزلہ سے ہزارہ کی یہ طبقاتی تقسیم بھی متاثر ہوتی نظر آتی ہے۔

خود ہزارہ کے اندر تین بڑی برادریاں آباد ہیں جن میں زرعی زمین اور شہری جائداد کے مالک سواتی خان اور سادات ہیں جبکہ مزارعین گجر برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔اونچے پہاڑوں پر رہنے والے خانہ بدوش قبائل بھی زیادہ تر گجر ہیں جو بھیڑ بکریاں پالتے ہیں۔ زلزلہ سے ہزارہ کی یہ طبقاتی تقسیم بھی متاثر ہوتی نظر آتی ہے۔

زلزلہ سے جائداد کا زیادہ تر نقصان سواتی اور سادات برادری کا ہوا ہے جو مکانوں اور بازاروں کے مالک تھے اور زمینداری کے ساتھ ساتھ تجارت اور دکانداری بھی کررہے تھے۔

بالاکوٹ، بٹل، گڑھی حبیب اللہ اور ایسے دیگر شہروں اور قصبوں میں دکانیں منہدم ہونے سے کاروباری طبقہ کی جائداد کے ساتھ ساتھ کروڑوں روپے کا سامان بھی تباہ ہوگیا۔ مانسہرہ میں سی این جی گیس اسٹیشن کے مالک اور پیپسی کے ایک ڈیلر آصف حمید کہتے ہیں کہ ان کی طرح بہت سے تاجروں نے کروڑوں روپے کا سامان کریڈٹ پر دکانداروں کو دے رکھا تھا جس کی وصولی کم سے کم اپریل مئی تک تو ممکن دکھائی نہیں دیتی۔

عام تاثر یہ ہے کہ کاروباری اور صاحب جائداد طبقہ نے امداد کے لیے ہاتھ نہیں پھیلایا اور وہ کپڑے اور راشن لینے کے لیے قطاروں میں نہیں لگے بلکہ وہ اپنے خاندانوں کو لے کر دوسرے شہروں میں منتقل ہوگئے۔ پچیس ہزار فی مکان کے حساب سے امدادی چیک تو صرف مکانوں کے تباہ ہونے پر بانٹے جارہے ہیں۔ دکانیں اور کاروبار کی تباہی پر حکومت نے کسی امداد کا اعلان نہیں کیا۔

دوسری طرف کھیت مزدور اور خانہ بدوش گجر برادی نے عام لوگوں سے بھی امداد وصول کی ہے اور وہ علاقہ چھوڑ کر جانے کے بجائے غیرسرکاری تنظیموں اور حکومت سے اپنی بحالی کے لیے بھی خیمے، جستی چادریں اور دوسرا سامان وصول کرتے نظر آتے ہیں۔

یوں زلزلہ سے ہونے والی معاشی تباہی کے بعد ہزارہ کے بالائی طبقات جو سادات اور سواتی خوانین پر مشتمل تھے نچلے معاشی طبقہ سے تعلق رکھنے والے گجروں کے برابر آکھڑے ہوئے ہیں۔ ہزارہ کی سماجی اورمعاشی زندگی میں یہ ایک اہم تبدیلی کہی جاسکتی ہے۔

اسی بارے میں
مانسہرہ میں روزانہ دو اموات
02 December, 2005 | پاکستان
جلانے کی لکڑی مہنگی ہوگئی
03 December, 2005 | پاکستان
زلزلہ:دوسرا بڑا چیلنج درپیش
07 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد