الائی کے دوردراز دیہاتوں میں امداد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع بٹگرام کی تحصیل الائی کے دور دراز علاقوں میں آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے دو ماہ بعد اب چند دنوں سے امداد پہچنا شروع ہوئی ہے۔ تحصیل الائی میں سات ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ایک دور دراز گاوں پکا بہک میں امداد تین دن پہلے پہنچنا شروع ہوئی ہے۔ پکا بہک ، بہک بالا ، بہک زیریں ، نارنجی اور آس پاس کے چھوٹے چھوٹے کئی گاؤں کی آبادی کل ملا کر پانچ ہزار کے لگ بھگ ہے جس میں سے تقریبا دو ہزار افراد زلزلے میں ہلاک ہو گئے اس علاقے میں دن کے بارہ بجے بھی درجہ حرارت نقطہ انجماد سے دو درجے کم ہے۔ اس علاقے میں اب سے بارہ روز پہلے کوہ پیماوں کی ایک ٹیم پہنچی جس میں شامل ایک کوہ پیما نثار ملک نے بتایا کہ جب وہ یہاں پہنچے تو تین فٹ برف پڑ چکی تھی اور علاقے کا جائزہ لینے سے پتہ چلا کہ یہاں اب تک امداد نہیں پہنچی ہے ۔ نثار ملک نے بتایا ان کی ٹیم نے اسی دن گاؤں میں چار ٹن راشن تقسیم کیا اور چند دن کے بعد دس ٹن راشن مزید تقسیم کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کوہ پیماوں کی ٹیم کے آنے سے فوج اور امدادی اداروں کو اس علاقے کے بارے میں معلومات ملیں کہ یہاں پر بھی لوگوں کو چھتوں، کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم کا مقصد اور ہدف یہی ہے کہ ایسے دوردراز علاقوں کو منظر عام پر لایا جائے جن کے بارے میں اب تک بہت کم معلومات ہیں۔ گاؤں پکا بہک کے ایک رہائشی عبدا لحلیم نے بتایا کہ گاؤں میں لوگوں کو خوراک، گرم کپڑوں اور کمبلوں کی اشد ضرورت ہے۔ ایک اور شخص گلزار نے کہا کہ سخت سردی میں رہائش کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ بیمار ہیں جنہیں علاج کی ضرورت ہے۔ فوج کی ایک سو چار انجینئرنگ بٹالین کے لیفٹینینٹ کرنل بشیر نے اس علاقے میں دیر سے پہچنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ان دور دراز علاقوں کے لیے ہیلی کاپٹر سروس دیر سے ملی ہے ۔ کرنل بشیر نے بتایا ان کی بٹالین کا کام سڑکوں کی مرمت اور لوگوں کو چھتیں فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ تعمیراتی مٹیریل کی کمی ہے۔انہوں نے کہا کہ امدادی ادرے ان علاقوں کی طرف توجہ دیتے ہیں جن کے بارے میں میڈیا انہیں بتاتا ہے۔کرنل بشیر نے کہا کہ اب تین چار دن سے فوج کے اہلکار اس علاقے میں کام کر رہے ہیں اور ہیلی کاپٹروں کے زریعئے تعمیراتی اشیا پہنچائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں زیادہ تر کچے مکانات تھے جو تقریبا سارے ہی گر چکے ہیں ۔ کرنل بشیر نے بتایا کہ ان علاقوں کی طرف جانے والی سڑکیں زلزلے کے نتیجے میں ختم ہو چکیں ہیں جنہیں کھولنے کی مسلسل کوششیں ہو رہیں ہیں۔ راستے میں پہاڑوں کے حصے ٹوٹ کر نیچے گرگئے ہیں اور آمدرفت کے لیے راستے کھولنے کا کام سخت مشکلات سے دوچار ہے جسے موسم کی سختی نے مزید مشکل بنا دیا ہے۔ | اسی بارے میں ’ڈیڑھ لاکھ افراد کو رہائش میسر‘02 December, 2005 | پاکستان ’نیٹو فورس چلی جائے گی‘02 December, 2005 | پاکستان خیمے میں آگ، 7 افراد ہلاک07 December, 2005 | پاکستان زلزلہ:دوسرا بڑا چیلنج درپیش07 December, 2005 | پاکستان زلزلہ: دو ماہ بعد بھی وہی حال08 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||