BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 December, 2005, 16:04 GMT 21:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زیادتی نہیں ہوئی،ورثا مُکر گئے

زیادتی کے خلاف مظفر آباد میں مظاہرہ
زیادتی کے خلاف کئی شہروں میں مظاہرے کیے گئے
لاہور کے میو ہسپتال کے زلزلہ زدگان کے لیے قائم کیے گئے وارڈ میں مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی بیس سالہ کشمیری لڑکی مقدمہ درج کرانے کے بعد سینچر کو پہلی بار پولیس اور مقامی مجسٹریٹ کے روبرو پیش ہوئی لیکن ان کا باضابطہ بیان قلمبند نہیں ہو سکا۔

لاہور کے شعبہ تفیتش کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس چودھری شفقات احمد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جنسی زیادتی کا کیس ایک نیا رخ اختیار کرتا جارہا ہے۔ ان کے بقول ’لڑکی کے ساتھ آۓ ان کے بھائی اورچچا کا کہنا ہے کہ لڑکی کے ساتھ کوئی جنسی زیادتی نہیں ہوئی ہے۔‘

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد کی بیس سالہ کشمیری لڑکی کے بیان پر پولیس لاہور کے میو ہسپتال کے ایک ڈاکٹر کو مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار کر چکی ہے۔

وزیراعلی پنجاب کے حکم پر لاہورکے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو نوکری سے معطل کیا جاچکا ہے اور انہیں فرائض میں غفلت کے سلسلے میں محکمانہ کارروائی کا سامنا ہے۔

تھانہ گوالمنڈی میں پولیس کے روبروابتدائی رپورٹ درج کرانے کے بعد کشمیری لڑکی منظر عام سے غائب ہو گئی تھی۔

سنیچر کو وہ اپنے چچا مولوی اکرم، بھائی اور دوسرے رشتہ داروں کے ہمراہ لاہور کے تفتیشی مرکز میں آئیں۔

دبلی پتلی اس کشمیری لڑکی نے کالا برقعہ اوڑھ رکھا تھا اور چہرے پر حجاب تھا۔

ان کے باریش بھائی نے صحافیوں سے بات کرنے اور اپنی بہن سے بات کرانے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ ’اخبار والوں کی وجہ سے انہیں آج یہ دن دیکھنا پڑا‘ ان کے بقول انہیں دکھ پہنچانے میں ذرائع ابلاغ نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

اخبار نویسوں کے لیے ان کے یہ الفاظ تھے۔ ’خدا کے لیے ہماری جان چھوڑدیں ہم پہلے ہی بہت دکھی ہیں‘۔

ایس ایس پی انوسٹی گیشن نے بتایا کہ ان سے ملاقات کے بعد تفتیشی افسران لڑکی کو مقامی مجسٹریٹ کے پاس لے گئے لیکن عدالت کا وقت ختم ہوجانے کےباعث ان کا بیان قلمبند نہیں ہو سکا ۔

ایس ایس پی کے بقول پولیس کے روبرو اس لیے بیان قلمبند نہیں کیا گیا کہ ’لڑکی کا کہنا تھا کہ وہ تفتیشی افسر، ایس پی ، ایس ایس پی کو الگ الگ بیان قلمبند کرانے کی بجائے ایک ہی بار مجسٹریٹ کے روبرو بیان قلمبند کرانا چاہیں گی۔‘

تاہم ایک پولیس افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ معاملہ اعلی حکام کے براہ راست نوٹس میں ہے اورکوئی پولیس افسر مقدمہ کے جھوٹا ہونے کے بیان کو قلمبند کرنے کو تیارنہیں کیونکہ ان کے بقول انہیں خوف ہے کہ بعد میں پولیس پر یہ الزام لگ سکتا ہے کہ پولیس نے دباؤ ڈال کر لڑکی کو بیان سے منحرف ہونے پر مجبور کیا گیا۔

لاہور کے مختلف سرکاری ہسپتالوں میں چھ سو کے قریب متاثرین زلزلہ زیر علاج ہیں اور ایک لڑکی سے مبینہ جنسی زیادتی کا الزام سامنے آنے کے بعد ان کی وارڈوں میں پولیس کا پہرہ بٹھا دیاگیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں لڑکی سے مبینہ جنسی زیادتی کے خلاف جمعہ کو ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے جس میں لڑکی سے مبینہ زیادتی کے ملزم کو سزاۓ موت دینے کا مطالبہ کیا گیا لیکن اب پولیس حکام کے بقول کیس ایک نیا رخ اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے ۔

حکام نے توقع ظاہر کی ہے کہ پیر کو لڑکی کا باضابطہ بیان قلمبند کر لیا جائے گا۔

اسی بارے میں
ریپ کیس، ملزم ڈاکٹر گرفتار
07 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد