لڑکی کی مبینہ بےحرمتی پرمظاہرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں جمعہ کوخودمختار کشمیر کی علمبردار تنظیم جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ نے لاہور کے ایک ہسپتال میں زلزلے میں زخمی ہونے والی ایک کشمیری لڑکی کی مبینہ بےحرمتی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے حکومت پاکستان سے زیادتی کے ملزم ڈاکٹر کو سزائے موت دینے کے ساتھ ساتھ زلزلے کے کشمیری متاثرین کی حفاظت کا مطالبہ بھی کیا۔ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں لاہور کے میو ہسپتال میں ایک ڈاکٹر کے ہاتھوں زلزلے سے متاثرہ ایک کشمیری لڑکی کی مبینہ آبروریزی کے واقعے کی خبروں سے خاصی بے چینی اور غصہ پیدا ہوا ہے لیکن اس واقعے کے خلاف جمعہ کو کیا جانے والا مظاہرہ کسی بھی کشمیری تنظیم کی جانب سے پہلا عوامی احتجاج ہے۔ مظفرآباد میں گو امدادی کاروائیوں کے بلا روک ٹوک جاری رہنے کے لیے دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہے۔ جس کے تحت جلسے اور جلوسوں پر پابندی ہے لیکن خودمختار کشمیر کی علمبردار تنظیم جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے کارکنوں نے شہر کے وسط میں اپنے امدادی کیمپ سے باہر نکل کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ وہ پنجاب کی صوبائی انتظامیہ اور ملزم ڈاکٹر کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔
مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز بھی اٹھائے ہوئے تھے جن پر ڈاکٹر مقصود کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس موقع پر پولیس اہلکار بھی موجود تھے جنہوں نے احتجاجی مظاہرے کے منتظمین کو دفعہ ایک سو چوالیس سے خبردار کیا تاہم پولیس نے مظاہرین کو بزور قوت روکنے کی کوشش نہیں کی۔ اس موقع پر خطاب میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنماؤں نے سوال کیا کہ کہیں باقی پاکستان میں تو کشمیری متاثرین کے ساتھ اسی طرح کا سلوک نہیں ہوگا؟ انہوں نے کشمیری متاثرین کو واپس کشمیر لانے کا مطالبہ کیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ کشمیری متاثرین جہاں جہاں ہیں ان کی بھرپور حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ | اسی بارے میں جنسی زیادتی کا الزام، افسر معطل31 August, 2005 | پاکستان پولیس پر جنسی زیادتی کا مقدمہ06 September, 2005 | پاکستان بچی سےزیادتی، مولوی گرفتار12 November, 2005 | پاکستان ریپ کیس، ملزم ڈاکٹر گرفتار07 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||