زلزلہ امداد بذریعہ ایف ایم ریڈیو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زلزلے نےصرف زمین کی شکل ہی نہیں بدلی بلکہ کمیونیکیشن سٹائل کو بھی خاصا بدلا ہے۔ مثلاً اگر زلزلہ نہ آتا تو پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں موبائل کمپنیوں اور ایف ایم ریڈیو سٹیشنوں کی دراندازی تقریباً ناممکن تھی کیونکہ فوج کی سگنل کور کے مشورے پر اس خطے کو حساس علاقہ قرار دینے کے نتیجے میں مواصلات کا سارا نظام انیس سو چھہتر سے سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن کی اجارہ داری تھی۔ لیکن زلزلے کے بعد اس علاقے کی حساسیت کی تعریف بھی بدل گئی جس کا ثبوت یہ ہے کہ اس وقت مظفر آباد میں تین ایف ایم ریڈیو سٹیشن کام کررہے ہیں اور سب کا کہنا ہے کہ وہ زلزلے کے متاثرین کی امداد میں ہاتھ بٹا رہے ہیں۔ ان میں ایک ایف ایم 99 ہے جو پہاڑ کی چوٹی پر بالکل سرکاری ٹیلی ویژن ٹاور کی ناک کے نیچے اپنی نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔ لائیو نشریات کے دوران اوپر سے مسلسل ہیلی کاپٹرز گزرتے رہتے ہیں۔ جن زلزلہ زدگان کے پاس فون کی سہولت ہے وہ گانوں کی فرمائش اور اپنے عزیزوں اور دوستوں کو ریڈیائی پیغامات دے کر سردی سے اپنی توجہ بٹانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ شام کو ایک ڈاکٹر ان متاثرین کو بیماریوں سے بچاؤ اور صحت وصفائی کے مشورے دیتا ہے اور رات بارہ بجے یہ سٹیشن خاموش ہوجاتا ہے اور سٹوڈیو پریزینٹر کے بیڈ ٹینٹ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ ایف ایم 99 والوں کا دعوی ہے کہ انکی نشریات پچاس کلومیٹر کے دائرے میں بالاکوٹ تک سنائی دیتی ہیں لیکن بالاکوٹ میں مجھے کوئی آدمی نہیں ملا جس نے یہ نشریات سنی ہوں۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات کے نوجوانوں کی ایک ٹیم نے بھی پنجاب یونیورسٹی ایف ایم کے نام سے اپنی نشریات تیس کلومیٹر کے دائرے میں شروع کررکھی ہیں۔ اس ٹیم کے سربراہ زاہد بلال کا کہنا ہے کہ پاکستان کی میڈیا کنٹرول اتھارٹی نے انہیں مظفر آباد میں تین ماہ کی نشریات کا لائسنس جاری کیا ہے اور اسکے لیے خاصے پاپڑ بیلنے پڑے۔ اس ایف ایم سٹیشن کا زور اس پر ہے کہ زلزلے کے دوران لاپتہ ہوجانے والے لوگوں کے ورثاء کے پیغامات نشر کیے جائیں اور باقی وقت میں قومی نغمے سنائے جائیں۔ ریڈیو مظفرآباد کا ٹرانسمیٹر اور عمارت زلزلے کے دوران تباہ ہوگئی تھی چنانچہ زلزلے کے پندرہ روز بعد ایف ایم ایک سو ایک کے نام سے اردو، کشمیری اور پہاڑی زبانوں میں نشریات کا دوبارہ آغاز ہوا۔ سارا سٹاف خیموں میں ہے۔
بارش اور تیز ہواؤں کی وجہ سے پریزینٹرز کی آواز اکثر کپکپا جاتی ہے لیکن وہ باقاعدگی سے تینوں زبانوں میں سامعین سے ٹیلی فونک رابطے میں رہتے ہیں۔ ریڈیو مظفر آباد کے ایک پروڈیوسر طاہراقبال کا کہنا ہے کہ ’ہمارے ایف ایم کی لائف لائن خاصی کامیاب ہے اور جن علاقوں میں رسد نہیں پہنچ پاتی یا ناکافی پہنچتی ہے ہم اس علاقے کے لوگوں کے پیغامات متعلقہ اداروں اور این جی اوز کو پہنچاتے ہیں‘۔ نیلم اور جہلم ویلی میں نشریات کے لیے کچھ اور لوگوں کو بھی لائسنس ملے ہیں لیکن جن نجی ایف ایم چینلز کی نشریات جاری ہیں یا جو نشریات شروع کرنا چاہتے ہیں۔ ان سب کو یہ فکر بھی لاحق ہے کہ تین ماہ بعد ان کے نشریاتی لائسنس میں توسیع ہوگی یا پھر وسیع تر قومی مفاد اور حساس علاقے کے تقاضوں کے نام پر انہیں بوریا بستر لپیٹنے کو کہا جائے گا۔ | اسی بارے میں زلزلہ سے میڈیا بری طرح متاثر16 November, 2005 | پاکستان ’امدادی آپریشن ممکن لگ رہا ہے‘09 November, 2005 | پاکستان پورے پاکستان میں چار زلزلہ انجینئرز28 November, 2005 | پاکستان زلزلہ: رضاکاروں کی دلچسپی میں کمی 06 December, 2005 | پاکستان ریپ کیس، ملزم ڈاکٹر گرفتار07 December, 2005 | پاکستان آڈیو، ویڈیو زلزلہ08 December, 2005 | پاکستان زلزلہ: دو ماہ بعد بھی وہی حال08 December, 2005 | پاکستان کراچی میں زلزلہ زدگان کے لیے مظاہرہ08 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||