زلزلہ کی بے بس، خاموش متاثرین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کے میو ہسپتال میں زلزلہ سے متاثرہ کشمیر کی ایک مریض عورت کے ساتھ ایک ڈاکٹر کی مبینہ زیادتی کے واقعہ سے پہلا ایسا کیس سامنے آیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زلزلہ سے متاثرہ خاندانوں کی عورتیں کن خطرات کا شکار ہوسکتی ہیں۔ چونکہ یہ مبینہ واقعہ لاہور جیسے بڑے شہر میں پیش آیا جہاں میڈیا بہت سرگرم ہے اور کچھ چھپانا خاصا مشکل ہے اسلیے یہ بات عوام کے سامنے آگئی۔ حقیقت یہ ہے کہ جب سے آٹھ اکتوبر کو زلزلہ آیا ہے عورتوں اور بچوں کو اس قدرتی آفت کے سبب سب سے زیادہ خطرات اور مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ ہزارہ میں زلزلہ سے متاثرہ علااقے مانسہرہ، بٹگرام، کوہستان اور ایبٹ آباد وغیرہ میں ایک قدامت پسند اور نیم قبائلی نظام معاشرتی نظام رائج ہے جس میں عورتیں سخت پردہ میں رہتی ہیں۔ عورتوں کے بات کرنے کو مرد پسند نہیں کرتے اور وہ خود بھی بات کرتے ہوئے جھجکتی ہیں۔ حتیٰ کہ غیرملکی نرسوں جیسا کہ آسٹریلیا کی نرس فرانسز والٹن کا کہنا ہے کہ وہ ان سے بھی بات کرتے ہوئے شرماتی ہیں۔ مانسہرہ ضلع میں کام کرنے والے سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ کچھ خیمہ بستیوں میں عورتوں کے ساتھ مرد اہلکاروں نے دست درازی کی کوشش کی لیکن یہ بات دب گئی کیونکہ ان کے اہل خانہ خاموشی سے انہیں خیمہ بستیوں سے لے کر چلے گئے۔ ایبٹ آباد میں سنگی تنظیم کی جانب سے خیمہ بستیوں کے لیے کام کرنے والے اہلکار مختار جاوید کا کہنا ہے کہ سرکاری خیمہ بستیوں میں رہنے والے کئی خاندانوں کو شکایت تھی کہ وہاں رات کے وقت سرکاری اہلکار ٹارچ مار کر ان کے خیموں میں جھانکتے تھے۔ مختار جاوید کہتے ہیں کہ شائد سرکاری ملازم ان کی حفاظت کے لیے ایسا کرتے ہوں لیکن یہ ان لوگوں کے پردہ کے خلاف تھا۔ سنگی تنظیم نے تین سو پچاس خاندانوں کی چھوٹی چھوٹی بستیاں مانسہرہ، بالاکوٹ شہر اور ایبٹ آباد کے گاؤں لیراں میں اس طرح بنائی ہیں کہ متاثرہ خاندانوں کو ان شہروں میں ان کے رشتے داروں کے قریب خالی جگہوں پر خیمے لگا کر دیے ہیں تاکہ عورتیں اپنے رشتے داروں کے مکانوں میں واش روم استعمال کرسکیں اور اپنے عزیزوں سے بات چیت کرکے اپنے دل ہلکے کرسکیں۔ ایک بڑی مشکل عورتوں کے لیے یہ ہے کہ انہیں زلزلہ کے بعد اپنی صحت و صفائی کا خیال رکھنے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ ایسی بات ہے جس کا شرم کی وجہ سے کوئی ذکر کرنا بھی پسند نہیں کرتا حالانکہ عورتوں کے لیے یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ عورتوں کو سنیٹری نیپکنز، روئی وغیرہ کی ضرورت ہے جو ظاہر ہے امدادی سامان میں تقسیم نہیں کیا جاتا۔ ایبٹ آباد اور بالاکوٹ کے مختلف علاقوں میں کام کرنے والی ایک رضاکار صائمہ علوی کہتی ہیں کہ متاثرہ علاقوں میں اکثر جگہوں پر چشموں نے رخ بدل لیاہے یا وہ خشک ہوگئے ہیں اور چشموں سے پائپوں کے ذریعے پانی لانے کا نظام بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا ہے۔ خیمہ بستیوں میں ٹائلٹ، پانی اور باتھ روم وغیرہ کا خاطر خواہ انتظام موجود نہیں لیکن لوگ بات نہیں کرتے۔ خواتین سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ عورتوں کو بچوں کو بھی سنبھالنا ہوتا ہے اور اس لیے ان کی پانی کی ضرورت بھی زیادہ ہوتی ہوتی ہے جبکہ گھریلو استعمال کا پانی خصوصا خیمہ بستیوں میں کم دستیاب ہے۔ خیموں کے اندر آگ نہیں جلائی جاسکتی اس لیے عورتیں خیموں کے باہر چولھا جلاکر کھانا پکاتی ہیں۔ شدید سردی اور ٹھنڈی ہوا کے موسم میں کھلی جگہ پر کھانا پکانے کے باعث عورتوں میں نزلہ زکام اور انفیکشن عام ہے۔ مانسہرہ کے ایک غیرسرکاری ہسپتال کے منتظم کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں کی عورتیں دوماہ گزر جانے کے باوجود نہا نہیں سکیں اور ان میں خارش یا سکیبیز کا مرض عام ہے۔ مانسہرہ میں ایک غیرسرکاری تنظیم سنگی کی انچارج شازیہ اسلم کہتی ہیں کہ عورتوں کے لیے ٹائلٹ جانا ایک مسئلہ ہے۔
شازیہ اسلم تحصیل بالاکوٹ میں بیس ہزار خاندانوں کی بحالی کے کام کی نگرانی کررہی ہیں اور درجنوں متاثرہ دیہات کا دورہ کرچکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ دور پہاڑی علاقوں میں ایسی عورتوں سے ملیں جن کے ہاں زلزلہ کے بعد بچہ کا جنم ہوا لیکن اب تک نہ تو بچہ کو نہلایا گیا ہے اور نہ زچہ کو بلکہ ان کے بدن کو صرف روئی سے صاف کیا گیا ہے۔ شازیہ اسلم کے مطابق ایسی عورتیں بھی خاصی تعداد میں موجود ہیں جو حمل سے ہیں لیکن زلزلہ میں مکانات گرنے سے انہیں چوٹیں آئی ہیں۔ شنکیاری کے گاؤں ٹانڈہ میں ان کی تنظیم ایک عارضی ہسپتال چلارہی ہے جہاں ایسی تین عورتیں داخل ہیں جو امید سے ہیں اور ان کی کمر کی ہڈی ٹوٹی ہوئی ہے۔ مانسہرہ کے کے بی ڈی او ہسپتال میں کراچی سے آکر کام کرنے والی ایک رضاکار ڈاکٹر شاہین نے بتایا کہ خیمہ بستیوں میں رہنے والی جو عورتیں حاملہ ہیں ان کو انیمیا ہے اور مناسب طبی توجہ کی ضرورت ہے لیکن وہ ہسپتال آنے سے گریز کرتی ہیں۔ سماجی کارکن صائمہ علوی کا کہنا ہے کہ زلزلہ کے فوراً بعد صدمہ کے باعث بہت سی عورتوں کے حمل ضائع ہوئے اور ایسے بہت سے کیسز ہوئے جن میں قبل از وقت پیدائش ہوئی یا پیدائش کے وقت بچے فوت ہوگئے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو جو امدادی چیک مل رہے ہیں وہ بیوہ عورتوں کو بھی دیے گئے ہیں لیکن بعض جگہوں پر بااثر افراد نے اپنے رشتے داروں کو زیادہ سے زیادہ امدادی رقوم دلوائیں اور بیوہ عورتیں محروم رہ گئیں۔ انہوں نے خود گاؤں گلی میراں گاؤں یونین کونسل بوئی میں ایسے واقعات دیکھے۔ خواتین سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ زلزلہ کے بعد متاثرہ خاندانوں کے لیے خوراک، کپڑے اور خیموں کی فراہمی اور سردی کے پیش نظر ان کے ممکنہ مسائل پر توجہ مرکوز رہی ہے لیکن مخصوص مقامی روایات کی وجہ سے متاثرہ عورتوں کی تکالیف نظروں سے اوجھل ہیں۔ |
اسی بارے میں زلزلہ کی نسلی اور طبقاتی دراڑیں10 December, 2005 | پاکستان بچوں کی ذہنیت پر زلزلے کا اثر10 December, 2005 | پاکستان کراچی میں زلزلہ زدگان کے لیے مظاہرہ08 December, 2005 | پاکستان زلزلہ:دوسرا بڑا چیلنج درپیش07 December, 2005 | پاکستان کیمپوں میں خسرہ پھیل گیا04 December, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||