BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 December, 2005, 13:49 GMT 18:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ذمہ دار وزارت اطلاعات ہے‘

خبرون
سندھی اخبار ’خبرون‘ کے دفتر پر نامعلوم حملہ کیا اور فرنیچر کو آگ لگادی تھی
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے سندھی اخبار ’خبروں‘ اور کے دفتر پر حملے اور اخبارات نذر آتش کیے جانے کا ذمہ دار وزارت اطلاعات کو قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ جمعہ کی شب سکھر میں خبریں گروپ کے سندھی اخبار ’خبرون‘ کے دفتر پر نامعلوم افراد حملہ کیا اور فرنیچر کو آگ لگادی تھی۔ اندرون سندھ کے کئی شہروں میں آبی ذخائر کی حمایت میں اشتہارات شائع کرنے والے اخبارات کو بھی نذر آتش کیا گیا تھا۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے اعلامیے کے مطابق سندھی اخباروں کے مدیروں اور صحافیوں کا ایک اجلاس اٹھائیس دسمبر کو کراچی پریس کلب میں طلب کیا گیا ہے۔ جس میں حکومت کی جانب سے کالاباغ ڈیم کی حمایت میں اشتہار شائع کرنے کے لیے ڈالے گئے دباؤ پر غور کیا جائیگا اور اس ضمن میں حکمت عملی بنائی جائیگی۔

پی ایف یو جے کے صدر پرویز شوکت اور سکریٹری جنرل مظہر عباس کے مطابق گزشتہ کچھ دنوں سے وزارت اطلاعات اخبارات اور بالخصوص سندھی اخبارات پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ کالاباغ ڈیم کی حمایت میں اشتہارات شائع کریں۔

سندھی اخبارات کی اکثریت نے اس سے انکار کیا جبکہ ایک دو اخبارات نے رضامندی ظاہر کی تھی جس پر ان کو ملازمین کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

مظہر عباس کے مطابق جن صحافیوں نے استعفے دیے ہیں۔ ان کو بھی اس اجلاس میں بلایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سندھی اخبار خبروں کی ادارتی عملے نے احتجاجاً استعفے دے دیے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد