BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 December, 2005, 18:41 GMT 23:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کالاباغ ڈیم، سندھی میڈیا اور اشتہارات

سندھی میڈیا اور اشتہارات
مقامی میڈیا نے حکومت کے اشتہار چھاپنے سے انکار کر دیا ہے۔
کالاباغ ڈیم کی حمایت میں وفاقی حکومت کا جاری کردہ اشتہار کسی بھی سندھی اخبار نے شائع نہیں کیا ہے، اور فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایسا کوئی اشتہار شائع نہیں کریں گے جو سندھ کے لوگوں کے مفادات اور خواہشات کے خلاف ہو۔

سندھی میڈیا کے اس فیصلے سے مختلف حلقوں میں یہ بحث چل رہی ہے کہ کیا یہ سیاسی کردار نہیں ہے؟ اور کیا میڈیا کو یہ کردار ادا کرنا چاہئے؟

سندھی میڈیا پاکستان میں سب سے بڑا اور موثرعلاقائی میڈیا ہے، جس سے حکمرانوں کو ہمیشہ شکایت رہتی ہے کہ یہ زیادہ سخت رویہ رکھتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اس پر سخت دباؤ بھی رہتا ہے۔

وفاقی حکومت نے دریائے سندھ پر کالاباغ ڈیم بنانے کا منصوبہ بنایا ہے جس کی سندھ میں بھرپور مخالفت کی جارہی ہے۔ رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے حکومت نے میڈیا کے ذریعے اشتہاری مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس مہم کا پہلا اشتہار پیر کے روز وفاقی محکمہ اطلاعات نے ایک اشتہاری ایجنسی کے ذریعےاخبارات کو جاری کردیا تھا۔ سندھی اخبارات مالکان کی تنظیم سندھی میڈیا فورم کےایک اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ یہ اشتہار شائع نہیں کیا جائےگا۔

یہ فورم چھوٹے اخبارات پر مشتمل ہے۔ تین بڑے اخبارات ’کاوش‘، ’عبرت‘ اور ’خبرون‘ اس کےممبر نہیں ہیں۔ تاہم ان اخبارات نے بھی یہ اشتہار شائع نہیں کیا۔ جبکہ ’خبریں گروپ آف نیوز پیپرز‘ کے سندھی اخبار ’خبرون‘ کے عملے نے اشتہار چھاپنے کی صورت میں استعفے کی دھمکی دی تھی۔

متنازعہ ڈیم کی حمایت میں اشتہار نہ چھاپنے کا اعلانیہ انکار ان اخبارات نے کیا ہے جو چھوٹے ہیں اور پہلے سے مالی بحران کا شکار ہیں۔

حیدرآباد پریس کلب کے صدر اقبال ملاح کا کہنا ہے کہ ’اخبارات صرف ہماری ملکیت نہیں ہیں۔ بلکہ یہ عوامی ملکیت ہیں۔ سندھ کے لوگ جو کہ ہمارے قارئین ہیں وہ اس بات پر مطمئن ہیں کہ یہ متنازعہ آبی ذخیرہ ان کے مفادات کے مطابق نہیں ہے۔ اس لیے وہ ایسی کوئی چیز برداشت نہیں کریں گے جو اس متفقہ رائے عامہ کے خلاف ہو۔ اگر سندھی اخبارات نے ایسا کیا تو عوام اور اخبارات کے درمیان خلیج پیدا ہوجائےگی۔‘

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بھی اپنے دورکے آخر میں جب کالا باغ ڈیم بنانے کا اعلان کیا تھا تو حکومت نے سندھی پریس میں اشتہارات کے ذریعے مہم چلانے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن سندھی میڈیا کے انکار پر یہ مہم ختم کردی گئی تھی۔

گزشتہ تین عشروں سے سندھ کی صحافت اور سیاست سے وابستہ سائیں لائق تھیبو کا کہنا ہے ’لوگوں کا دباؤ ہے، اس لیے اخبارات یہ اشتہارات نہیں چھاپیں گے۔ اس دباؤ کا ہی نتیجہ ہے کہ خود حکمراں جماعت مسلم لیگ (ق) اور حکومت میں شامل اراکین اسمبلی بھی اس ڈیم کی حمایت نہیں کررہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سندھ کے لوگ ان کو معاف نہیں کریں گے۔ دوسری وجہ سندھی پریس کو حاصل لوگوں کا اعتماد ہے کہ اس نے سندھ کے لوگوں کا سیاسی کیس بڑی مضبوطی سے لڑا ہے۔ ابھی وہ چند لاکھ روپے کے اشتہارات کے عوض اپنی ساکھ خراب نہیں کرنا چاہیں گے۔‘

کیا پریس کا یہ کردار نہیں ہے؟ اس بارے میں علاقائی چینل پر دستاویزی بنانے والی صحافی زینب سومرو کا کہنا ہے ’سی این این اور فاکس ٹی وی کیا کر رہے ہیں؟ امریکی صحافی کیا کر رہے ہیں؟ ممکن ہے کہ حکومت کو اعتراض ہو۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان جھگڑے میں حکومت خود یہ چاہتی ہے کہ میڈیا اس کے موقف کی حمایت کرے۔‘

زینب سومرو کا کہنا ہے کہ حکومت اگر دباؤ کے ذریعے اشتہارات شائع کرانا چاہتی ہے تو یہ آزادی صحافت کا معاملہ ہو جائےگا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ویسے بھی میڈیا کا پہلا اصول اپنے قاری کی خدمت کرنا اور اس کی ضروریات کا خیال کرنا ہوتا ہے۔‘

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ حکومت کے اس دباؤ کے خلاف سندھی میڈیا نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ اس سے پہلے نوے کے عشرے میں سندھ میں جام صادق کے دور حکومت میں سندھی نیوز پیپرز ایسوسی ایشن اور نواز شریف کے دور میں سندھی پریس کونسل نے اجتماعی مزاحمت کا مظاہرہ کیا تھا۔

اشتہار چھاپنے سے انکار کے ردعمل کے بارے میں روزانہ سندھ کے ایڈیٹر جعفر میمن نے بتایا کہ حکومت ان اخبارات کے باقی اشتہارات بھی بند کر سکتی ہے جس سے ان اخبارات کا مالی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے، جو پہلے سے بحران کی زد میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’زیادہ دباؤ کی صورت میں ہم اپنا بجٹ کم کردیں گے، بہرحال اخبار نکالتے رہیں گے۔ ویسے بھی چھوٹے اخبارات کونسا زیادہ کما رہے ہیں؟ حکومت اگر اس پر ہی تلی ہوئی ہے تو اس کا نتیجہ مزید لوگوں کو بےروزگار کرنے پر منتج ہوگا۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد