’نئے ڈیم، خوشحالی کی تدبیر‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اندرون سندھ کے برعکس صوبہ سرحد میں اکثر اخبارات نے منگل کے شمارے میں وفاقی حکومت کی جانب سے نئے ڈیموں سے متعلق اشتہارات شائع کیے ہیں۔ وفاقی حکومت نے لوگوں کو ان ڈیموں کے افادیت سے آگاہ کرنے کی غرض سے ایک مہم شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اگرچہ صوبہ سرحد میں بھی کالا باغ ڈیم کے منصوبے کی سخت مخالفت پائی جاتی ہے تاہم صوبائی دارلحکومت پشاور سے شائع ہونے والے تقریبا تمام مقامی اردو اخبارات میں وفاقی حکومت کی وزارت اطلاعات اور نشریات کے یہ اشتہار چھاپے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ سندھی اخبارات نے کالاباغ ڈیم کی میڈیا مہم کا حصہ بننے سے انکار کردیا ہے اور اس مہم کے پہلے روز ہی دس لاکھ روپے کے اشتہارات مسترد کردیےگئے تھے۔ پشاور میں شائع ہونے والے ایک صفحے کے چوتھائی سائز کے اشتہارکا عنوان ہے ’نئے ڈیموں کی تعمیر، خوشحالی کی تدبیر‘۔ ایک ڈیم کی تصویر کے ساتھ مزین ان اشتہارات میں ملکی ترقی کے لیے نئے ڈیموں کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ تاہم اس میں کالا باغ اور بھاشا ڈیم ڈیموں دونوں کی تعمیر کے فوائد سے متعلق اعدادوشمار دیے گئے ہیں۔
اشتہار کے مطابق دو بڑے ڈیموں کی تعمیر سے غذائی اجناس اور ایندھن پر خرچ ہونے والا اربوں روپے کا زرمبادلہ بچایا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ اٹھانوے ارب روپے کی بجلی پیدا کی جا سکے گی۔ دنوں ڈیموں کے فوائد گنواتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کالا باغ سے چھ اشاریہ ایک جبکہ بھاشا سے سات اعشاریہ تین ملین ایکڑ فٹ پانی مہیا ہوسکے گا۔ کالا باغ سے چھتیس سو جبکہ بھاشا سے پینتالیس سو میگا واٹ بجلی پیدا ہوسکے گی۔ اشتہار میں بتایا گیا ہے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر آئندہ برس جبکہ بھاشا کی سن دو ہزار نو میں تعمیر شروع ہوسکتی ہے تاہم کالا باغ سے دو ہزار بارہ جبکہ بھاشا سے دو ہزار سولہ میں پانی مل سکے گا۔ مبصرین کے خیال میں اس اشتہار میں کالا باغ سے زیادہ بھاشا ڈیم کے فوائد ظاہر کیے گئے ہیں لیکن حکومت کے مطابق ایک نکتہ جو اس غیرمتنازعہ ڈیم کے خلاف جاتا ہے وہ ہے اس پر کام کے آغاز میں تاخیر۔ لوگوں کے خیال میں جب حکومت خود تسلیم کرتی ہے کہ بھاشا ڈیم سے فوائد زیادہ ہیں تو پھر اس نے اتنے برس اس پر کام میں تاخیر کیوں کی۔ اگر اسے ترجیح دی جاتی تو اس منصوبے پر کام کا آغاز دو ہزار نو کی بجائے پہلے کیا جا سکتا تھا۔ کئی بار کوششوں کے پشاور کے اخبارات کے مالکان سے اس مسئلہ پر بات نہیں ہوسکی۔ صوبہ سرحد میں بھی سندھ کی طرح کالا باغ ڈیم کے خلاف شدید مخالفت پائی جاتی ہے۔ یہاں کی اکثر سیاسی جماعتیں اور دبے الفاظ میں صوبائی حکومت بھی اس کے خلاف ہیں۔ یہاں کے اخبارات بھی کالا باغ ڈیم کے خلاف روزانہ درجنوں صفحات کالے کرتے ہیں لیکن اشتہارات سے متعلق پالیسی پر انہوں نے اندرون سندھ کے اخبارات کی طرز کا مؤقف نہیں اپنایا۔ | اسی بارے میں بگلیہار ڈیم کی تعمیر جاری ہے28 April, 2005 | پاکستان ’کالاباغ ڈیم زلزلے کی زد میں‘ 29 October, 2005 | پاکستان مخالفت روکنے کا سیاسی ڈیم16 December, 2005 | پاکستان بلوچستان: کالا باغ ڈیم پر تقسیم 17 December, 2005 | پاکستان کالا باغ ڈیم: ق لیگ اتفاق نہ کر سکی 19 December, 2005 | پاکستان کالاباغ ڈیم کے خلاف ہڑتال کی کال19 December, 2005 | پاکستان کالاباغ ڈیم کی میڈیا مہم مسترد 19 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||