BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 December, 2005, 17:24 GMT 22:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: کالا باغ ڈیم پر تقسیم

جام محمد یوسف
جام محمد یوسف کا کہنا ہے کہ کاباغ ڈیم سے بلوچستان کسی طرح متاثر نہیں ہوگا
صوبہ بلوچستان میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی جماعتوں نے کالا باغ ڈیم کی مخالفت کی ہے جبکہ جمعیت علماء اسلام کے قائدین نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں آئندہ چند روز میں جماعت کا اجلاس طلب کیا جائے گا اور اپنے صوبے کے مفاد کو ترجیح دی جائے گی۔

سیاسی جماعتیں کالا باغ ڈیم کے حوالے سے اپنا اپنا موقف بیان کر رہی ہیں۔ بیشتر سیاسی جماعتیں اس ڈیم کی مخالفت کر رہی ہیں لیکن وزیر اعلی بلوچستان جام محمد یوسف نے گزشتہ روز کہا تھا کہ کالا باغ ڈیم سے بلوچستان کسی طرح متاثر نہیں ہوگا۔

صوبہ سرحد اور سندھ کی طرح بلوچستان اسمبلی میں سن انیس سو چھیانوے میں اس ڈیم کے خلاف ایک قرار داد پاس کی جا چکی ہے۔ اس وقت حزب اختلاف کی تمام سیاسی جماعتیں اس ڈیم کی مخالفت کر رہی ہیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے لیڈر سینیٹر ثنا بلوچ جمہوری وطن پارٹی کے شاہد بگٹی پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے عبد الرحیم زیارتوال اور نیشنل پارٹی کے لیڈر کچکول علی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ وہ سندھ اور سرحد کا ساتھ دیں گے۔

جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ کے پارلیمانی لیڈر اور سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں ماہرین کی رائے کو ترجیح دینا چاہیے کیونکہ یہ سیاسی مسئلہ نہیں ہے جہاں تک دوسرے صوبوں کی حمایت یا مخالفت کی بات ہے تو وہ اپنے صوبے کا مفاد دیکھیں گے۔

انھوں نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ نے قومی مالیاتی کمیشن میں ہمارے فارمولے کی حمایت نہیں کی اور ڈویلپمنٹ سرچارج جو ہمارا حق ہے ہمیں نہیں ملا تو ہم دوسرے صوبوں کو مفاد کیوں دیکھیں ہمیں بھی اپنے صوبے کا مفادعزیز ہے۔

بلوچستان میں اس وقت حکمران مسلم لیگ اور مجلس عمل کی مخلوط حکومت قائم ہے۔ اگر ایک مرتبہ پھر کالا باغ کے حوالے سے قرار داد اسمبلی میں پیش کی جاتی ہے اور مسلم لیگ اور مجلس عمل کالاباغ ڈیم کی حمایت کرتی ہیں تو یہ قرار داد آسانی سے منظور کی جا سکتی ہے۔

اگر مجلس عمل جس میں اکثریت جمعیت علماء اسلام کی ہے ڈیم کی مخالفت کرتی ہے تو ایک مرتبہ پھر بلوچستان سے کالا باغ ڈیم کی مخالفت کی جائے گی۔ لیکن بلوچستان سے پہلے بھی مختلف مسائل پر قرار دادیں پاس کی جا چکی ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔

اسی بارے میں
مخالفت روکنے کا سیاسی ڈیم
16 December, 2005 | پاکستان
تحفظات وزیر اعظم کے گوش گزار
03 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد