مشرف پر صوبوں کو لڑانے کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی میں حزب مخالف کے اراکین نے کالا باغ ڈیم کی شدید مخالفت کرتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف پر پنجاب کو چھوٹے صوبوں سے لڑانے کا الزام عائد کیا ہے۔ حزب مخالف کی جماعت پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما سید خورشید احمد شاہ نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے خون کا آخری قطرہ بہا دیں گے لیکن کالا باغ ڈیم نہیں بننے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پنجاب کے خلاف نہیں ہیں بلکہ کالا باغ ڈیم کے خلاف ہیں کیونکہ یہ ڈیم وفاق کے خلاف ہے۔ پیپلز پارٹی کی خاتون رکن ناہید خان نے صدر مملکت پر الزام لگایا کہ وہ تین چھوٹے صوبوں کو پنجاب سے لڑانا چاہتا ہے۔ انہوں نے پنجاب کے عوام سے کہا کہ وہ سوچیں کہ کیا وہ چھوٹے صوبوں کے اپنے بھائیوں کی لاشوں پر ڈیم بنانے کی حمایت کریں گے؟ ناہید خان نے اپنی جماعت کے صدر مملکت سے خفیہ رابطوں کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ ایسی افواہیں عوام کو گمراہ کرنے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیم بنانا دور کی بات ہے پہلے صدر جنرل پرویز مشرف پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے تو خطاب کر کے دکھائیں۔ شیری رحمٰن نے کہا کہ اکیسویں صدی کا سب سے بڑا مسئلہ پانی ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پانی جیسے معاملات کے بارے میں آئین کہتا ہے کہ مشترکہ مفادات کی کونسل فیصلہ کرے گی لیکن صدر جنرل پرویز مشرف اکیلے فیصلے کر رہے ہیں‘۔
انہوں نے سپیکر سے کہا کہ حزب مخالف کے کئی اراکین نے تحریک التویٰ جمع کرائی ہے کہ کالا باغ ڈیم پر بحث کی جائے۔ لیکن حکومت اس میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔ شیری رحمٰن نے سپیکر سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس پر بحث کرائیں۔ حکومت کی جانب سے وزیر مملکت برائے ماحولیات ملک امین اسلم نے حزب مخالف کے الزمات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پانچ ہزار گلیشیر پگھل رہے ہیں اور پانی ذخیرہ کرنے کے انتظامات کرنا لازمی ہے۔ مسلم لیگ نواز کی خاتون رکن تہمینہ دولتانہ نے کہا کہ صدر نے کالا باغ ڈیم کا معاملہ چھیڑ کر حزب مخالف کو تقسیم کرنا چاہا ہے۔ انہوں نے صدرِ مملکت پر ملک توڑنے کی کوشش کرنے جیسے الزامات عائد کیے اور کہا کہ ان کی پارٹی انہیں ایسا نہیں کرنے دے گی۔ حکمران مسلم لیگ کے ’فارورڈ بلاک، میں شامل رکن فاروق امجد میر نے حزب اختلاف پر الزام لگایا کہ وہ کالا باغ ڈیم کا معاملہ اٹھا کر اپنی سیاست چمکا رہے ہیں۔ ان کے مطابق کالا باغ ڈیم کا مسئلہ فنی ہے اور اسے اسی انداز میں حل کرنا چاہیے۔ | اسی بارے میں ’پاکستان میں فوجی آمریت نہیں ہے‘12 December, 2005 | پاکستان صدر کا خطاب، رولنگ محفوظ05 December, 2005 | پاکستان ’کالاباغ ڈیم زلزلے کی زد میں‘ 29 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||