BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 December, 2005, 17:54 GMT 22:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر کا خطاب، رولنگ محفوظ

اسمبلی
صدر مملکت کے پہلی بار قومی اسمبلی سے خطاب کے دوران گو مشرف گو کے نعرے بھی لگائے گئےتھے
پاکستان کی قومی اسمبلی کے چوتھے پارلیمانی سال کے آغاز کے موقع پر صدر پرویز مشرف کے پارلیمان سے خطاب نہ کرنے کے معاملے پر سپیکر چودھری امیر حسین نے ’رولنگ‘ محفوظ کردی ہے۔

حزب اختلاف سید نوید قمر، چودھری نثار علی خان اور دیگر اراکین نے پیر کو پارلیمان کے تیسویں سیشن کے آغاز کے موقع پر نقطہ اعتراضات پر صدر کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ آئین کی شق چھپن کی ذیلی شق تین کے تحت ہر پارلیمانی سال کے ابتدا میں پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے کا صدر پابند ہے لیکن ان کے مطابق موجودہ پارلیمان کو چوتھا سال شروع ہوچکا ہے اور صدر مملکت نے صرف ایک بار خطاب کیا ہے۔

پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن نیازی نے کہا کہ حزب مخالف کے اراکین جب تک صدر کے خطاب کے موقع پر شائستگی اور مہذب پن کا مظاہرہ نہیں کریں گے اس وقت تک صدر خطاب نہیں کریں گے۔

ڈاکٹر شیرافگن کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کا چوتھا سال شروع ہوا ہے اور سینٹ کا جب چوتھا سال مارچ میں شروع ہوگا تو اس وقت پارلیمنٹ کے چوتھے سال کا آغاز ہوگا۔

واضح رہے کہ صدر مملکت نے جب پہلی بار قومی اسمبلی سے خطاب کیا تھا تو اس وقت دو سابق اور جلاوطن وزراء اعظموں بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے حامی اراکین نےاس موقع پر نہ صرف اپنے رہنماؤں کی تصاویر لہرائی تھیں بلکہ گو مشرف گو کے نعرے بھی لگائے تھے۔

ایسی صورتحال کے بعد صدر نے کبھی پارلیمان سے دوبارہ خطاب نہیں کیا اور حزب اختلاف والے ان کے اس قدم کو غیر آئینی قرار دیتے رہے ہیں۔

گزشتہ بیس برسوں میں منتحب ہونے والی پانچ قومی اسمبیلوں کو اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرنے سے قبل ہی تحلیل کیا جاتا رہا اور ایسا کم ہی دیکھنے کو ملا ہے کہ کسی اسمبلی نے اپنے چوتھے پارلیمانی سال کا آغاز کردیا ہو۔

پیر کو قومی اسمبلی میں صدر کے پارلیمان سے خطاب کے معاملے پر ہونے والی بحث کے بعد سپیکر نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

تیسویں سیشن کے آغاز کے موقع پر دونوں جانب کے اراکین قومی اسمبلی نے مختلف معاملات اٹھائے لیکن آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے متعلق کسی نے بات ہی نہ کی۔ البتہ ایک حکومتی رکن نے زلزلے سے متاثرہ کشمیر کے ضلع باغ میں تعلیمی اداروں کے طلبا سے بیک وقت دو ماہ کی فیس لینے کا معاملہ اٹھایا لیکن حکومت نے اس پر خاص توجہ نہیں دی۔

 پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن نیازی نے کہا کہ حزب مخالف کے اراکین جب تک صدر کے خطاب کے موقع پر شائستگی اور مہذب پن کا مظاہرہ نہیں کریں گے اس وقت تک صدر خطاب نہیں کریں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن مجیب پیرزادہ نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ بڑے ڈیم بنانے کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار صدر مملکت کو یا تو اختیار نہیں بلکہ پارلیمان کے پاس ہے۔ انہوں نے آئینی شقوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ اگر حکومت نے متنازعہ کالا باغ ڈیم تعمیر کرنے کا اعلان کیا تو وہ عالمی عدالت میں اسے چیلنج کریں گے۔

قومی اسمبلی میں تیل کی قیمتوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا اور متحدہ مجلس عمل کے اراکین نے کہا کہ جب عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت بڑھ رہی تھی تو حکومت نے بھی قیمتوں میں اضافہ کیا۔

ان کے مطابق جب تیل کی قیمت ستر ڈالر فی بیرل سے قیمت کم ہوکر چون ڈالر ہوئی ہے تو حکومت قیمت کم نہیں کی اور یہ ان کی نظر میں عوام سے بڑی زیادتی ہے۔ ایوان کی کارروائی اب منگل کی صبح دس بجے تک ملتوی کردی گئی ہے۔

اسی بارے میں
حکومتی اراکین کا واک آؤٹ
30 August, 2005 | پاکستان
اسمبلی میں اپوزیشن کا ہنگامہ
05 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد