اسمبلی کےسامنے اپوزیشن کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے اراکین نےملک گیر ہڑتال کے سلسلے میں احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا اور پارلیمان کے سامنے دھرنا بھی دیا۔ مولانا فضل الرحمٰن، مخدوم امین فہیم اور قاضی حسین احمد کی سربراہی میں اراکین قومی اسمبلی ’گو مشرف گو، کے نعرے بھی لگاتے رہے۔ سپیکر نے کچھ دیر کے لیے کارروائی معطل کی اور پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن سمیت کچھ حکومتی اراکین حزب اختلاف کے رہنماؤں کے پاس آئے اور انہیں احتجاج ختم کرکے ایوان میں واپس آنے کی درخواست کی جو انہوں نے مسترد کردی۔ سپیکر نے بعد میں اجلاس کی کارروائی جاری رکھی۔ حزب اختلاف والے پارلیمان کے صدر دروازے پر احتجاج کے بعد سڑک پار کرکے سامنے درختوں کے سائے میں دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ اس موقع پر قاضی حسین احمد نے ہڑتال کو کامیاب قرار دیا اور کہا کہ اس سے انہیں لگتا ہے کہ عوام نے صدر جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں کے خلاف اپنا فیصلہ دے دیا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ملک کے مختلف شہروں میں ٹریفک معمول کے مطابق ہے اور دکانیں بھی جزوی طور پر کھلی ہیں تو قاضی حسین احمد نے کہا کہ عوام سے انہوں نے رضا کارانہ طور پر ہڑتال کرنے کو کہا تھا اور کسی سے زبردستی دکانیں بند نہیں کرائیں نہ گاڑیاں روکی ہیں۔ ان کے مطابق ہسپتالوں میں آنے جانے والوں کی گاڑیاں چل رہی ہوں گی۔ لیکن انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی ہڑتال کامیاب رہی ہے۔ اسلام آباد میں آبپارہ مارکیٹ کی سڑک کے سامنے والی بیشتر دکانیں بند ہیں لیکن اس مارکیٹ کے پیچھے زیادہ تر دکانیں کھلی ہوئی ہیں۔ ستارہ، میلوڈی ، سپر، جناح سپر مارکیٹ میں کچھ دکانیں بند اور کچھ کھلی ہوئی ہیں۔ جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان پبلک ٹرانسپورٹ چل رہی ہے۔راولپنڈی سے بھی جزوی ’شٹر ڈاؤن‘ کی اطلاعات ہیں ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||