تحریک، بحالی جمہوریت تک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں جنرل مشرف کی حکومت کے خاتمے اور انتخابات میں دھاندلیوں کے خلاف جمعہ کو حکومت مخالف جماعتوں کی جانب سے مشترکہ ہڑتال کی کال دی گئی ہے۔ اے آر ڈی اور ایم ایم اے کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ تحریک ملک میں حقیقی جمہوریت کی بحالی تک جاری رہیگی۔ اے آر ڈی کے سربراہ مخدوم امین فہیم نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ جنرل مشرف کی حکومت عوام کے حقوق کا تحفظ کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔ ملک کو پولیس اسٹیٹ بنایا گیا ہے اور مخالفوں کی راہ میں غیر قانونی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہڑتال پرامن ہوگی۔ اگر حکومت نے ہمارے کارکن گرفتار بھی کیے تو یہ ہماری کامیابی ہوگی اور اب یہ تحریک مشرف حکومت کے خاتمے تک جاری رہیگی۔ مخدوم نے کہا کہ ایم ایم اے سے ان کا ایک نکاتی ایجنڈے ’جمہوری حکومت کی بحالی‘ پر اتحاد ہوا ہے۔ دونوں اتحاد مل کر ایک دوسرے کا ساتھ دینگے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور ایم ایم اے کے سکریٹری جنرل مولانا فضل الرحمان نے کراچی میں بات چیت کرتے ہوئے عوام کو اپیل کی کہ وہ ہڑتال کو کامیاب بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر آئینی اقدمات اور آئین کی دھجیاں بکھیرنے والوں کا وقت اب قریب آگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاروں صوبوں کے عوام حکومت کے غیر آئینی اقدمات، مہنگائی، تیل کی قیمتوں میں اضافےکے خلاف اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے رضاکارانہ طور پر اس ہڑتال کو کامیاب کریں۔ فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ ملکی اور قومی مفادات کے خلاف کام کرنے والے حکمرانوں کے خلاف عوامی عدالت سے رجوع کیا جائے۔ واضح رہے کہ کراچی میں دو روز قبل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں بھی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا گیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ہڑتال کو ناکام بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے انتظامات کیے گئے ہیں۔ کراچی پولیس چیف طارق جمیل نے بتایا ہے کہ جمعرات کی شام سے ہی شہر میں دس ہزار کے قریب پولیس تعینات کی گئی ہے۔ جبکہ پولیس اور رینجرز کا گشت بھی جاری رہیگا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے ٹرانسپورٹروں سے میٹنگ کی ہے ان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ گاڑی چلائیں ان کو تحفظ فراہم کیا جائیگا۔ جبکہ دکاندار بغیر کسی خوف کے اپنا کاروبار کھولیں۔ اگر کسی نے کاروبار یا ٹرانسپورٹ میں رکاوٹ کھڑی کی تو اس کےخلاف کارروائی کی جائیگی۔ کیا ہڑتال کی کال دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائیگی؟ اس کے جواب میں طارق جمیل نے کہا کہ اگر تشدد ہوا اور ہنگامہ آرائی کی گئی تو اس میں ملوث لوگوں کو گرفتار کیا جائیگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||