اے آر ڈی اپیل، کراچی میں ہڑتال غیر موثر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت مخالف جماعتوں اتحاد برائے بحالیِ جمہوریت اور متحدہ مجلس عمل کی مشترکہ اپیل پر سندھ کےصوبائی دارالحکومت اور ملک کے تجارتی مرکز کراچی میں دن کے آغاز سے ہی ہڑتال غیرموثر رہی۔ دن کے آغاز سے ہی سڑکوں پر ٹریفک چل رہا تھا۔ جبکہ دفتروں میں حاضری بھی معمول کے مطابق تھی۔ اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے سربراہ مخدوم امین فہیم اور مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے سربراہ قاضی حسین احمد کا کہنا ہے کہ یہ ہڑتال صدر جنرل پرویز مشرف کو ہٹانے کے لیے شروع کی گئی ان کی تحریک کا آغاز ہے۔ ایم ایم اے اور اے آر ڈی کے مرکزی رہنماؤں مولانا فضل الرحمان اور مخدوم امین فہیم ہڑتال سے ایک دن قبل کراچی میں موجود تھے۔ مگر ان کی دونوں مرکزی رہنماؤں کی موجودگی بھی اس ہڑتال کو موثر کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے ہڑتال کو ناکام بنانے کے لیے چوراہوں پر بڑی تعداد میں پولیس مقرر کی گئی ہے۔
سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری مکمل تھی۔ جبکہ پرائیوٹ اداروں میں معمول سے رش کم رہا۔ جبکہ صبح سے ہی مصروف ترین سڑکوں آئی آئی چندریگر روڈ، ایمپریس مارکیٹ اور برنس روڈ پر معمول کا رش تھا۔ التبہ ہڑتال کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں حاضری کم رہی۔ والدین نے بچوں کو اسکول نہیں بھیجا۔ واضح رہے کہ جمعہ کے روز آدھا دن ہی دفتروں میں کام ہوتا ہے۔ جبکہ جمعہ کی نماز کے بعد دفتروں میں حاضری کم ہوجاتی ہے۔ دوسری جانب سندھ کے وزیر داخلہ رؤف صدیقی نے کہا ہے کہ عوام نے ہڑتال کو مسترد کردیا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں بار بار خود کو آزمائش میں نہ ڈالیں۔ ایک نجی چینل سے بات کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ رات کے ایف سی اور میکڈونلڈ میں ہونے والے دھماکوں کا تعلق کم وبیش ہڑتال سے معلوم ہوتا ہے تاکہ خوف و ہراس کی فضا قائم کی جائے۔ اسلام آباد سے بی بی سی کے نمائندے اعجاز مہر کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے حزب اختلاف کی اس ہڑتال کی بری طرح ناکامی کا دعویٰ کر رکھا ہے جبکہ وزیر مملکت برائے اطلاعات انیسہ زیب طاہر خیلی کا کہنا ہے کہ جمعہ کو ویسے ہی دکانیں بند ہوتی ہیں اور حزب اختلاف نے اس دن ہڑتال کی اپیل کرکے اپنی ساکھ بچائی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||