سینٹ اور قومی اسمبلی میں احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل کی شام پاکستان کی پارلیمان کے دونوں ایوانوں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں کے دوران حزب اختلاف نے سخت احتجاج کیا۔ ایوان بالا سینیٹ میں حزب مخالف کے اراکین نے اجلاس کی کارروائی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکر ڈیسک بجائے اور نعرے لگاتے رہے۔ اپوزیشن کا احتجاج اتنا زیادہ تھا کہ افسر ِصدارت نے مجبور ہوکر ایوان کی کارروائی کچھ دیر کے لیے مؤخر کردی۔ لیکن جب دوبارہ اجلاس شروع ہوا تو حزب مخالف نے پھر اپنا سخت احتجاج جاری رکھا۔ انہوں نے جب یک زبان ہوکر ’لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی‘ اور ’غنڈہ گردی کی سرکاری نہیں چلے گی‘، جیسے نعرے لگائے تو ایوان جلسہ گاہ کا منظر پیش کر رہا تھا۔ اس صورتحال میں بھی حکومت نے کارروائی جاری رکھی لیکن ہیڈ فون پہننے کے باوجود بھی وزراء نہ سوالات سن پا رہے تھے اور نہ اراکین کو جوابات سنائی دے رہے تھے۔ اپوزیشن کااحتجاج آخر وقت تک جاری رہا اور اجلاس کی کارروائی جمعرات کے روز تک ملتوی کردی گئی۔ حزب اختلاف کا موقف تھا کہ ایوان کے پہلے اجلاس کے قانون کے مطابق صدارت چیئرمین یا ڈپٹی چیئرمین کو کرنا ہوتی ہے اور اس دوران ان کی غیرموجودگی میں نامزد کردہ ’پریزائیڈنگ افسر، یعنی افسرِ صدارت کارروائی چلاسکتے ہیں۔ اس بار سینیٹ کے چیئرمین محمد میاں سومرو صدر جنرل پرویز مشرف کے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے بلحاظِِ عہدہ قائم مقام صدر مملکت بن گئے ہیں اور ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ کئی ماہ سے خالی پڑا ہے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو صوبہ سرحد کا گورنر بنادیا گیا تھا اور اس وقت سے اب تک حکومت اس عہدے پر انتخاب نہیں کراپائی۔ منگل کو سینیٹ کی کارروائی جیسے ہی شروع ہوئی اور چیئرمین سینیٹ کے پہلے سے نامزد کردہ افسرِ صدارت خالد رانجھا نے کرسی صدارت سنبھالی تو حزب اختلاف نے کارروائئی کو غیرقانونی قرار دے دیا۔ حزب مخالف کے ساتھ حکومتی اراکین نے مذاکرات بھی کیے لیکن معاملات طے نہیں ہوئے۔ ادھر ایوان زیریں قومی اسمبلی میں نجی کارروائئی کا دن تھا۔ اس ایوان کا اجلاس شروع ہوا تو کئی اراکین نے نکتہ اعتراض پر بات کی جب عمران خان نے بات کرنا چاہی تو سپیکر نے انہیں اجازت نہیں دی اور انہوں نے واک آؤٹ کیا۔ اپنی جماعت کے اکیلے رکن اسمبلی عمران خان کے ساتھ حزب مخالف کی تمام جماعتوں نے ساتھ دیا اور انہوں نے بھی واک آؤٹ کیا۔ حکومت یکطرفہ طور پر حزب محالف کی غیر موجودگی میں اجلاس چلاتی رہی اور بعد میں ایوان کی کارروائی جمعہ تک ملتوی کردی گئی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||