کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس ملتوی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومتی اراکین کی قومی اسمبلی کے اجلاس میں عدم دلچسپی کے باعث ایک بار پھر کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے سنیچر کے روز سپیکر نے مجبور ہو کر اجلاس منگل شام سات بجے تک ملتوی کردیا ہے۔ عام طور پر سنیچر کے روز اجلاس نہیں بلایا جاتا لیکن بتایا گیا ہے کہ پیر بارہ ستمبر سے بلدیاتی انتخابات کے آخری مرحلے میں ضلع، تحصیل اور ٹاؤن ناظمین کے انتخابات کے لیے نامزدگی فارم جمع ہونے ہیں اور کئی اراکین اپنے حلقوں میں جانا چاہتے تھے۔ سنیچر کو اجلاس شروع ہوا تو حزب اختلاف کے رکن اعتزاز احسن نے کہا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزراء اور حکومتی اراکین کی عدم دلچسپی سے پارلیمانی نظام کو ناکام بنانے اور نیا نظام متعارف کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر ایک ہفتے میں پارلیمینٹ چار دن کام نہیں کرے گی ’تو کل کوئی وردی والا آکر کہے گا کہ یہ نظام ٹھیک نہیں ہے اور ہم سب کو گھر بھیج کر نیا نظام لائے گا‘۔ انہوں نے سرکاری نشستوں کی طرف اشارہ کیا کہ وزیر کہاں ہیں؟ جبکہ حکومتی خاتون رکن خورشید افغان نے کہا کہ جب سے شوکت عزیز وزیراعظم بنے ہیں اس وقت سے ہمیشہ کورم کا مسئلہ رہتا ہے اور یہ ان کے خلاف سازش ہے۔ اس موقع پر بلدیات کے امور کے وزیر مملکت ظفر اقبال وڑائچ نے کہا کہ کوئی سازش نہیں ہو رہی ہے۔ انہوں نے اعتزاز احسن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے آس پاس بھی دیکھنا چاہیے۔ اس دوران حزب اختلاف کے رکن راجہ پرویز اشرف نے کورم کی نشاندہی کی اور ان کے اتحادی اراکین ایوان سے باہر چلے گئے لیکن متحدہ مجلس عمل کے کچھ اراکین بیٹھے رہے۔ سپیکر چودھری امیر حسین نے گھنٹیاں بجائیں لیکن پھر بھی کورم پورا نہیں ہوا جس پر انہوں نے کارروائی منگل کی شام سات بجے تک ملتوی کردی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||